مکہ سے تنگ آکر مسلمان مدینہ چلے آئے۔مدینہ میں اپنے دین کے مطابق رہنے کے لیے نسبتاً آزادانہ ماحول تھا۔ مگر مخالفین اسلام نے اب بھی ان کو نہ چھوڑا۔ انھوںنے فوجی حملے شروع کرديے تا کہ مدینہ سے مسلمانوں کا خاتمہ کردیں۔ اس وقت حکم ہوا کہ ان سے مقابلہ کرو۔ مخالفین کی نسبت سے اس وقت مسلمانوں کی طاقت بہت کم تھی۔ اس ليے کچھ لوگوں کے اندر بے ہمتی پیدا ہوئی۔ یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک واقعہ یاد دلا کر بتایا گیا کہ زندگی کے معرکہ میں شکست سے ڈرنے ہی کا نام شکست ہے۔
بنی اسرائیل کی ایک پڑوسی قوم فلستی نے ان پر حملہ کردیا۔ بنی اسرائیل شکست کھاگئے۔ فلستیوں نے دو حملوں میں ان کے
قرض حسن کے معنی ہیں اچھا قرض۔ یہاں اس سے مراد وہ انفاق ہے جو خدا کے دین کی راہ میں کیا جائے۔ یہ انفاق خالص اللہ کے لیے ہوتا ہے جس میں کوئی دوسرا مفاد شامل نہیں ہوتا۔ اس ليے خدا نے اس کو اپنے ذمّے قرض قرار دیا۔ اور چوں کہ وہ بہت زیادہ اضافہ کے ساتھ اس کولو ٹائے گا اس ليے اس کو قرض حسن فرمایا۔
مومن کی راہ میں مشکلات کا پیش آنا کوئی محرومی کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے فضل کا نیا دروازہ کھلنا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے جان ومال کو اللہ کے لیے خرچ کرکے اللہ کی ان عنایتوں کا مستحق بنتا ہے جو عام حالات میں کسی کو نہیں ملتیں۔