وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۲۶۱:۲
مثل الذين ينفقون اموالهم في سبيل الله كمثل حبة انبتت سبع سنابل في كل سنبلة ماية حبة والله يضاعف لمن يشاء والله واسع عليم ٢٦١
مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِى كُلِّ سُنۢبُلَةٍۢ مِّا۟ئَةُ حَبَّةٍۢ ۗ وَٱللَّهُ يُضَـٰعِفُ لِمَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ ٢٦١
مَّثَلُ
ٱلَّذِينَ
يُنفِقُونَ
أَمۡوَٰلَهُمۡ
فِي
سَبِيلِ
ٱللَّهِ
كَمَثَلِ
حَبَّةٍ
أَنۢبَتَتۡ
سَبۡعَ
سَنَابِلَ
فِي
كُلِّ
سُنۢبُلَةٖ
مِّاْئَةُ
حَبَّةٖۗ
وَٱللَّهُ
يُضَٰعِفُ
لِمَن
يَشَآءُۚ
وَٱللَّهُ
وَٰسِعٌ
عَلِيمٌ
٢٦١
مثل کسانی‌که اموال خود را در راه الله انفاق می‌کنند، همانند دانه‌ای است که هفت خوشه برویاند که در هر خوشه یکصد دانه باشد، و الله برای هر کس که بخواهد چند برابر می‌کند و الله گشایشگر داناست.
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
سو گنا زیادہ ثواب ٭٭

اس آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی طلب میں اپنے مال کو خرچ کرے، [تفسیر ابن ابی حاتم:1047/3] ‏ اسے بڑی برکتیں اور بہت بڑے ثواب ملتے ہیں اور نیکیاں سات سو گنا کر کے دی جاتی ہیں، تو فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں یعنی اللہ کی فرمانبرداری میں جہاد کے گھوڑوں کو پالنے میں، ہتھیار خریدنے میں، حج کرنے کرانے میں خرچ کرتے ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1047/3] ‏ اللہ کے نام دئیے ہوئے کی مثال کس پاکیزگی سے بیان ہو رہی ہے جو آنکھوں میں کھپ جائے اور دِل میں گھر کر جائے، ایک دم یوں فرما دیتا ہے کہ ایک کے بدلے سات سو ملیں گے اس سے بہت زیادہ لطافت اس کلام اور اس کی مثال میں ہے اور پھر اس میں اشارہ ہے کہ اعمال صالحہ اللہ کے پاس بڑھتے رہتے ہیں جس طرح تمہارے بوئے ہوئے بیج کھیت میں بڑھتے رہتے ہیں۔

مسند احمد میں حدیث ہے کہ رسول اللہ احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص اپنی بچی ہوئی چیز فی سبیل اللہ دیتا ہے اسے سات سو کا ثواب ملتا ہے اور جو شخص جان پر اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے اسے دس گنا ملتا ہے اور بیمار کی عیادت کا ثواب بھی دس گنا ملتا ہے۔ روزہ ڈھال ہے، جب تک کہ اسے خراب نہ کرے، جس شخص پر کوئی جسمانی بلا مصیبت دکھ درد بیماری آئے وہ اس کے گناہوں کو جھاڑ دیتی ہے۔ یہ حدیث سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما نے اس وقت بیان فرمائی تھی جب کہ آپ رضی اللہ عنہما سخت بیمار تھے اور لوگ عیادت کیلئے گئے تھے، آپ رضی اللہ عنہما کی بیوی صاحبہ سرہانے بیٹھی تھیں، ان سے پوچھا کہ رات کیسی گزری؟ انہوں نے کہا نہایت سختی سے، آپ رضی اللہ عنہما کا منہ اس وقت دیوار کی جانب تھا، یہ سنتے ہی لوگوں کی طرف منہ کیا اور فرمایا میری یہ رات سختی کی نہیں گزری، اس لیے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے، [مسند احمد:195/1:حسن] ‏

صفحہ نمبر919

صحیح مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے نکیل والی اونٹنی خیرات کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ قیامت کے دن سات سو نکیل والی اونٹنیاں پائے گا، [صحیح مسلم:1892] ‏ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کی ایک نیکی کو دس نیکیوں کے برابر کر دیا ہے اور وہ بڑھتی رہتی ہیں، سات سو تک، مگر روزہ، کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ خاص میرے لیے ہے اور میں آپ کو اس کا اجر و ثواب دوں گا، روزے دار کو دو خوشیاں ہیں ایک افطار کے وقت، دوسری قیامت کے دن روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پسند ہے، [مسند احمد:446/1:صحیح بالشواھد] ‏ دوسری حدیث میں اتنی زیادتی اور ہے کہ روزے دار اپنے کھانے پینے کو صرف میری وجہ سے چھوڑتا ہے، آخر میں ہے روزہ ڈھال ہے روزہ ڈھال ہے، [صحیح مسلم:1151] ‏

صفحہ نمبر920

مسند کی اور حدیث میں ہے نماز روزہ اللہ کا ذِکر اللہ کی راہ کے خرچ پر سات سو گنا بڑھ جاتے ہیں، [سنن ابوداود:2498، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ جو شخص جہاد میں کچھ مالی مدد دے، گو خود نہ جائے تاہم اسے ایک کے بدلے سات سو کے خرچ کرنے کا ثواب ملتا ہے اور خود بھی شریک ہوا تو ایک درہم کے بدلے سات لاکھ درہم کے خرچ کا ثواب ملتا ہے، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی «وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاءُ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ» ] ‏ 2۔ البقرہ: 261 ] ‏ یہ حدیث غریب ہے۔ [سنن ابن ماجه:2761، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما والی حدیث «مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗٓ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً» [ 2۔ البقرہ: 245 ] ‏ کی تفسیر میں پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ ایک کے بدلے میں دو کروڑ کا ثواب ملتا ہے، [مسند احمد:296/2:ضعیف] ‏ ابن مردویہ میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ میری امت کو کچھ اور زیادتی عطا فرما تو «مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗٓ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً» [ 2۔ البقرہ: 245 ] ‏ والی آیت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی یہی دعا کی تو «اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ» [ 39۔ الزمر: 10 ] ‏ اتری، [ابن حبان:4648:ضعیف] ‏ پس ثابت ہوا کہ جب قدر اخلاص عمل میں ہو اسی قدر ثواب میں زیادتی ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ بڑے وسیع فضل و کرم والا ہے، وہ جانتا بھی ہے کہ کون کس قدر مستحق ہے اور کسے استحقاق نہیں فسبحان اللہ والحمداللہ۔

صفحہ نمبر921
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است