وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۲۸۰:۲
وان كان ذو عسرة فنظرة الى ميسرة وان تصدقوا خير لكم ان كنتم تعلمون ٢٨٠
وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍۢ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍۢ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا۟ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ٢٨٠
وَإِن
كَانَ
ذُو
عُسۡرَةٖ
فَنَظِرَةٌ
إِلَىٰ
مَيۡسَرَةٖۚ
وَأَن
تَصَدَّقُواْ
خَيۡرٞ
لَّكُمۡ
إِن
كُنتُمۡ
تَعۡلَمُونَ
٢٨٠
و اگر (بدهکار) تنگدست بود، پس تا (هنگام) گشایش (و توانایی) مهلت دهید، و (اگر توانایی پرداخت ندارد) بخشیدن آن برای شما بهتر است؛ اگر بدانید.
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 2:278 تا 2:281

معاشرہ کی اصلاح کا بنیادی اصول یہ ہے کہ معاشرہ کا کوئی فرد نہ کسی دوسرے کے اوپر زیادتی کرے اور نہ دوسرا کوئی اس کے اوپر زیادتی کرے۔نہ کوئی کسی کے اوپر ظالم بنے اور نہ کوئی کسی کو مظلوم بنائے۔ سود خواری ایک کھلا ہوا معاشی ظلم ہے۔ اس ليے اسلام نے اس کو حرام ٹھہرایا۔ حتی کہ اسلامی اقتدار کے تحت سودی کاروبار کو فوجداری جرم قرار دیا۔ تاہم ایک سود خوار کو جس طرح دوسرے کے ساتھ ظالمانہ کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہے اسی طرح کسی دوسرے کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ سود خوار کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائے۔ کسی کا مجرم ہونا اس کو اس کے دیگر حقوق سے محروم نہیںکرتا۔ سود خوار کے خلاف جب کارروائی کی جائے گی تو صرف اس کے سودی اضافہ کو ساقط کیا جائے گا۔ اپنی اصل رقم کو واپس لینے کا وہ پھر بھی حق دار ہوگا۔ تاہم عمومی قانون کے ساتھ اسلام انسانی کمزوریوں کی بھی آخری حد تک رعایت کرتا ہے۔ اس ليے حکم دیاگیا کہ کوئی قرض دار اگر وقت پر تنگدست ہے تو اس کو اس وقت تک مہلت دی جائے جب تک وہ اپنے ذمہ کی رقم ادا کرنے کے قابل ہوجائے۔ اسی کے ساتھ یہ تلقین بھی کی گئی کہ کوئی شخص قرض کی رقم ادا کرنے کے قابل نہ رہے تو اس کے ذمہ کی رقم کو سرے سے معاف کردینے کا حوصلہ پیدا کرو۔ معاف کرنے والا خدا کے یہاں اجر کا مستحق بنتا ہے اور دنیا میں اس کا یہ فائدہ ہے کہ معاشرہ کے اندر باہمی رعایت اور ہمدردی کی فضا پیدا ہوتی ہے جو بالآخر سب کے لیے مفید ہے۔

تاہم صرف قانون کا نفاذ معاشرہ کی صلاح وفلا ح کا ضامن نہیں۔حقیقی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ میں تقویٰ کی فضا موجود ہو۔ اس ليے قانونی حکم بتاتے ہوئے ایمان، تقویٰ اور آخرت کا اہتمام کے ساتھ ذکر کیاگیا۔ جس طرح ایک سیکولر نظام اسی وقت کامیابی کے ساتھ چلتاہے جب کہ شہریوں کے اندر اس کے مطابق قومی کردا ر موجود ہو۔ اسی طرح اسلامی نظام اسی وقت صحیح طورپر وقوع میںآتاہے جب کہ افراد کے قابل لحاظ حصہ میں تقویٰ کی روح پائی جاتی ہو۔ قومی کردار یا تقویٰ دراصل مطلوبہ نظام کے حق میں افراد کی آمادگی کانام ہے۔ اور افراد کے اندر جب تک ایک درجہ کی آمادگی نہ ہو، محض قانون کے زور پر اس کو نافذ نہیں کیا جاسکتا۔

مزید یہ کہ اسلام کی رو سے اصلاح معاشرہ بجائے خود مطلوب چیز نہیں ہے۔ اسلام میں اصل مطلوب فرد کی اصلاح ہے۔ معاشرہ کی اصلاح صرف اس کا ایک ثانوی نتیجہ ہے۔ قرآن جس ایمان، تقویٰ اور فکر آخرت کی طرف بلاتا ہے اس کا تحقق فرد کے اندر ہوتا ہے، نہ کہ کسی اجتماعی ہیئت کے اندر۔ اس ليے قرآنی دعوت کا اصل مخاطب فرد ہے، اور معاشرہ کی اصلاح افراد کی اصلاح کا اجتماعی ظہور۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است