وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۲۸۲:۲
يا ايها الذين امنوا اذا تداينتم بدين الى اجل مسمى فاكتبوه وليكتب بينكم كاتب بالعدل ولا ياب كاتب ان يكتب كما علمه الله فليكتب وليملل الذي عليه الحق وليتق الله ربه ولا يبخس منه شييا فان كان الذي عليه الحق سفيها او ضعيفا او لا يستطيع ان يمل هو فليملل وليه بالعدل واستشهدوا شهيدين من رجالكم فان لم يكونا رجلين فرجل وامراتان ممن ترضون من الشهداء ان تضل احداهما فتذكر احداهما الاخرى ولا ياب الشهداء اذا ما دعوا ولا تساموا ان تكتبوه صغيرا او كبيرا الى اجله ذالكم اقسط عند الله واقوم للشهادة وادنى الا ترتابوا الا ان تكون تجارة حاضرة تديرونها بينكم فليس عليكم جناح الا تكتبوها واشهدوا اذا تبايعتم ولا يضار كاتب ولا شهيد وان تفعلوا فانه فسوق بكم واتقوا الله ويعلمكم الله والله بكل شيء عليم ٢٨٢
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى فَٱكْتُبُوهُ ۚ وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِٱلْعَدْلِ ۚ وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَن يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ ٱللَّهُ ۚ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ ٱلَّذِى عَلَيْهِ ٱلْحَقُّ وَلْيَتَّقِ ٱللَّهَ رَبَّهُۥ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْـًۭٔا ۚ فَإِن كَانَ ٱلَّذِى عَلَيْهِ ٱلْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُۥ بِٱلْعَدْلِ ۚ وَٱسْتَشْهِدُوا۟ شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌۭ وَٱمْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ ٱلشُّهَدَآءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَىٰهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَىٰهُمَا ٱلْأُخْرَىٰ ۚ وَلَا يَأْبَ ٱلشُّهَدَآءُ إِذَا مَا دُعُوا۟ ۚ وَلَا تَسْـَٔمُوٓا۟ أَن تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَىٰٓ أَجَلِهِۦ ۚ ذَٰلِكُمْ أَقْسَطُ عِندَ ٱللَّهِ وَأَقْوَمُ لِلشَّهَـٰدَةِ وَأَدْنَىٰٓ أَلَّا تَرْتَابُوٓا۟ ۖ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَـٰرَةً حَاضِرَةًۭ تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلَّا تَكْتُبُوهَا ۗ وَأَشْهِدُوٓا۟ إِذَا تَبَايَعْتُمْ ۚ وَلَا يُضَآرَّ كَاتِبٌۭ وَلَا شَهِيدٌۭ ۚ وَإِن تَفْعَلُوا۟ فَإِنَّهُۥ فُسُوقٌۢ بِكُمْ ۗ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۖ وَيُعَلِّمُكُمُ ٱللَّهُ ۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۭ ٢٨٢
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُوٓاْ
إِذَا
تَدَايَنتُم
بِدَيۡنٍ
إِلَىٰٓ
أَجَلٖ
مُّسَمّٗى
فَٱكۡتُبُوهُۚ
وَلۡيَكۡتُب
بَّيۡنَكُمۡ
كَاتِبُۢ
بِٱلۡعَدۡلِۚ
وَلَا
يَأۡبَ
كَاتِبٌ
أَن
يَكۡتُبَ
كَمَا
عَلَّمَهُ
ٱللَّهُۚ
فَلۡيَكۡتُبۡ
وَلۡيُمۡلِلِ
ٱلَّذِي
عَلَيۡهِ
ٱلۡحَقُّ
وَلۡيَتَّقِ
ٱللَّهَ
رَبَّهُۥ
وَلَا
يَبۡخَسۡ
مِنۡهُ
شَيۡـٔٗاۚ
فَإِن
كَانَ
ٱلَّذِي
عَلَيۡهِ
ٱلۡحَقُّ
سَفِيهًا
أَوۡ
ضَعِيفًا
أَوۡ
لَا
يَسۡتَطِيعُ
أَن
يُمِلَّ
هُوَ
فَلۡيُمۡلِلۡ
وَلِيُّهُۥ
بِٱلۡعَدۡلِۚ
وَٱسۡتَشۡهِدُواْ
شَهِيدَيۡنِ
مِن
رِّجَالِكُمۡۖ
فَإِن
لَّمۡ
يَكُونَا
رَجُلَيۡنِ
فَرَجُلٞ
وَٱمۡرَأَتَانِ
مِمَّن
تَرۡضَوۡنَ
مِنَ
ٱلشُّهَدَآءِ
أَن
تَضِلَّ
إِحۡدَىٰهُمَا
فَتُذَكِّرَ
إِحۡدَىٰهُمَا
ٱلۡأُخۡرَىٰۚ
وَلَا
يَأۡبَ
ٱلشُّهَدَآءُ
إِذَا
مَا
دُعُواْۚ
وَلَا
تَسۡـَٔمُوٓاْ
أَن
تَكۡتُبُوهُ
صَغِيرًا
أَوۡ
كَبِيرًا
إِلَىٰٓ
أَجَلِهِۦۚ
ذَٰلِكُمۡ
أَقۡسَطُ
عِندَ
ٱللَّهِ
وَأَقۡوَمُ
لِلشَّهَٰدَةِ
وَأَدۡنَىٰٓ
أَلَّا
تَرۡتَابُوٓاْ
إِلَّآ
أَن
تَكُونَ
تِجَٰرَةً
حَاضِرَةٗ
تُدِيرُونَهَا
بَيۡنَكُمۡ
فَلَيۡسَ
عَلَيۡكُمۡ
جُنَاحٌ
أَلَّا
تَكۡتُبُوهَاۗ
وَأَشۡهِدُوٓاْ
إِذَا
تَبَايَعۡتُمۡۚ
وَلَا
يُضَآرَّ
كَاتِبٞ
وَلَا
شَهِيدٞۚ
وَإِن
تَفۡعَلُواْ
فَإِنَّهُۥ
فُسُوقُۢ
بِكُمۡۗ
وَٱتَّقُواْ
ٱللَّهَۖ
وَيُعَلِّمُكُمُ
ٱللَّهُۗ
وَٱللَّهُ
بِكُلِّ
شَيۡءٍ
عَلِيمٞ
٢٨٢
ای کسانی‌که ایمان آورده‌اید! هر گاه به همدیگر تا مدت معینی و امی دادید (یا معاملۀ نسیه‌ای انجام دادید). آن را بنویسید، و باید نویسنده‌ای (آن را) دادگرانه بین شما بنویسد، و هیچ نویسنده‌ای نباید از نوشتن همان‌گونه که الله به او آموزش داده، خود داری کند. پس باید بنویسد و (آن) کسی‌که حق بر ذمۀ اوست (= بدهکار) باید املا کند، و باید از الله که پروردگار اوست بپرهیزد، و از آن چیزی نکاهد، پس اگر کسی‌که حق بر ذمۀ اوست سفیه یا ناتوان باشد، یا خود نمی‌تواند املا کند، پس باید ولی او با (رعایت) عدالت؛ املا کند، و دو شاهد از مردان تان را گواه بگیرید، پس اگر دو مرد نبودند، یک مرد و دو زن از میان گواهانی که (به عدالت آنان) رضایت دارید (گواه بگیرید). تا اگر یکی از آن دو (زن) فراموش کرد، دیگری به او یاد آوری کند. و گواهان نباید به هنگامی‌که آن‌ها را (برای گواهی) دعوت می‌کنند؛ خود داری کنند. و از نوشتن (بدهی) تا سر رسیدش چه کوچک باشد یا بزرگ ملول نشوید. این (نوشتن شما) در نزد الله به عدالت نزدیکتر، و برای گواهی دادن استوارتر، و برای آنکه دچار شک و تردید نشوید؛ بهتر می‌باشد. مگر اینکه داد و ستدی نقدی باشد که بین خود دست به دست می‌کنید. پس در این صورت گناهی بر شما نیست که آن را ننویسید. و هنگامی‌که داد و ستد (نقدی) کردید؛ گواه بگیرید. و نباید به نویسنده و شاهد زیانی برسد و اگر (چنین) کنید؛ بی‌شک (بیانگر) نافرمانی شما خواهد بود. و از الله بترسید. و (آنچه که برای شما مفید است) الله به شما آموزش می‌دهد، و الله به همه چیز داناست.
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط

آیت 282 ‘ جو زیر مطالعہ ہے ‘ قرآن حکیم کی طویل ترین آیت ہے اور اسے آیت دین یا آیت مُدَایَنَۃ کا نام دیا گیا ہے۔ اس آیت میں ہدایت کی گئی ہے کہ کوئی قرض کا باہم لین دین ہو یا آپس میں کاروباری معاملہ ہو تو اسے باقاعدہ طور پر لکھ لیا جائے اور اس پر دو گواہ مقرر کیے جائیں۔ ہمارے ہاں عام طور پر اس قرآنی ہدایت کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور کسی بھائی ‘ دوست یا عزیز کو قرض دیتے ہوئے یا کوئی کاروباری معاملہ کرتے ہوئے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس سے کیا لکھوانا ہے ‘ وہ کہے گا کہ انہیں مجھ پر اعتماد نہیں ہے۔ چناچہ تمام معاملات زبانی طے کرلیے جاتے ہیں ‘ اور بعد میں جب معاملات میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو پھر لوگ شکوہ و شکایت اور چیخ و پکار کرتے ہیں۔ اگر شروع ہی میں قرآنی ہدایات کے مطابق مالی معاملات کو تحریر کرلیا جائے تو نوبت یہاں تک نہ پہنچے گی۔ حدیث نبوی ﷺ کا مفہوم ہے کہ جو شخص قرض دیتے ہوئے یا کوئی مالی معاملہ کرتے ہوئے لکھواتا نہیں ہے ‘ اگر اس کا مال ضائع ہوجاتا ہے تو اسے اس پر کوئی اجر نہیں ملتا ‘ اور اگر وہ مقروض کے حق میں بددعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی فریاد نہیں سنتا ‘ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے واضح حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔آیت 282 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ الآی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْتُبُوْہُ ط آیت کے اس ٹکڑے سے دو حکم معلوم ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ قرض کا وقت معینّ ہونا چاہیے کہ یہ کب واپس ہوگا اور دوسرے یہ کہ اسے لکھ لیا جائے۔ فَاکْتُبُوْہُ فعل امر ہے اور امر وجوب کے لیے ہوتا ہے۔ وَلْیَکْتُبْ بَّیْنَکُمْ کَاتِبٌم بالْعَدْلِ ۔ لکھنے والا کوئی ڈنڈی نہ مار جائے ‘ اسے چاہیے کہ وہ صحیح صحیح لکھے۔وَلاَ یَاْبَ کَاتِبٌ اَنْ یَّکْتُبَ کَمَا عَلَّمَہُ اللّٰہُ فَلْیَکْتُبْ ج یہ ہدایت تاکید کے ساتھ کی گئی ‘ اس لیے کہ اس معاشرے میں پڑھے لکھے لوگ بہت کم ہوتے تھے۔ اب بھی مالی معاملات اور معاہدات بالعموم وثیقہ نویس تحریر کرتے ہیں۔وَلْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْہِ الْحَقُّ یعنی جس نے قرض لیا ہے وہ دستاویز لکھوائے کہ میں کیا ذمہّ داری لے رہا ہوں ‘ جس کا مال ہے وہ نہ لکھوائے۔ وَلْیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّہٗ اور وہ اللہ سے ڈرتا رہے اپنے رب سے وَلاَ یَبْخَسْ مِنْہُ شَیْءًا ط۔ فَاِنْ کَانَ الَّذِیْْ عَلَیْہِ الْحَقُّ سَفِیْہًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْلاَ یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ ہُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّہٗ بالْعَدْلِ ط۔ اگر قرض لینے والا ناسمجھ ہو ‘ ضعیف ہو یا دستاویز نہ لکھوا سکتا ہو تو اس کا کوئی ولی ‘ کوئی وکیل یا مختار attorneyاس کی طرف سے انصاف کے ساتھ دستاویز تحریر کرائے۔ یہاں املال املا کے معنی میں آیا ہے۔وَاسْتَشْہِدُوْا شَہِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِکُمْ ج فَاِنْ لَّمْ یَکُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّہَدَآءِ جن کی گواہی ہر دو فریق کے نزدیک مقبول ہو اور ان پر دونوں کو اعتماد ہو۔ اگر مذکورہ صفات کے دو مرد دستیاب نہ ہو سکیں تو گواہی کے لیے ایک مرد اور دو عورتوں کا انتخاب کرلیا جائے۔ یعنی گواہوں میں ایک مرد کا ہونا لازم ہے ‘ محض عورت کی گواہی نہیں چلے گی۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ہر قسم کے معاملات میں دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے یا یہ معاملہ صرف قرض اور مالی معاملات میں دستاویز تحریر کرتے وقت کا ہے ‘ اس کی تفصیل فقہاء کے ہاں ملتی ہے۔اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰٹہُمَا فَتُذَکِّرَ اِحْدٰٹہُمَا الْاُخْرٰی ط۔ یہاں عقلی سوال پیدا ہوگیا کہ کیا مرد نہیں بھول سکتا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ واقعتا اللہ تعالیٰ نے عورت کے اندر نسیان کا مادّہ زیادہ رکھا ہے۔ اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَط وَھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ الملک کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے ؟ وہ بڑا باریک بین اور ہر شے کی خبر رکھنے والا ہے۔ جس نے پیدا کیا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ کس میں کون سا مادّہ زیادہ ہے۔ عورت میں نسیان کا مادّہ کیوں زیادہ رکھا گیا ہے ‘ یہ بھی سمجھ لیجیے۔ یہ بڑی عقلی اور منطقی بات ہے۔ دراصل عورت کو مرد کے تابع رہنا ہوتا ہے ‘ لہٰذا اس کے احساسات کو کبھی ٹھیس پہنچ سکتی ہے ‘ اس کے جذبات کے اوپر کبھی کوئی کدورت آتی ہے۔ اس اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر بھول جانے کا مادہ سیفٹی والو کے طور پر رکھا ہوا ہے۔ ورنہ تو ان کا معاملہ اس شعر کے مصداق ہوجائے ؂یاد ماضی عذاب ہے یارب چھین لے اب مجھ سے حافظہ میرا !چنانچہ یہ نسیان بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے ‘ ورنہ تو کوئی صدمہ دل سے اترنے ہی نہ پائے ‘ کوئی غصہ کبھی ختم ہی نہ ہو۔ بہرحال خواہ کسی حکم کی علتّ یا حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے ‘ اللہ کا حکم تو بہرصورت ماننا ہے۔وَلاَ یَاْبَ الشُّہَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا ط۔ گواہوں کو جب گواہی کے لیے بلایا جائے تو آکر گواہی دیں ‘ اس سے انکار نہ کریں۔ اسی سورة مبارکہ کی آیت 140 میں ہم پڑھ آئے ہیں : وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللّٰہِ ط اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جس کے پاس اللہ کی طرف سے ایک شہادت موجود ہو اور وہ اسے چھپائے ؟وَلَا تَسْءَمُوْٓا اَنْ تَکْتُبُوْہُ صَغِیْرًا اَوْ کَبِیْرًا الآی اَجَلِہٖ ط۔ قرض خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ‘ اس کی دستاویز تحریر ہونی چاہیے کہ میں اتنی رقم لے رہا ہوں اور اتنے وقت میں اسے لوٹا دوں گا۔ اس کے بعد قرض خواہ اس مدت کو بڑھا بھی سکتا ہے ‘ مزیدمہلت دے سکتا ہے ‘ بلکہ معاف بھی کرسکتا ہے۔ لیکن قرض دیتے وقت اس کی مدت معینّ ہونی چاہیے۔ ذٰلِکُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ وَاَقْوَمُ للشَّہَادَۃِ معاملہ ضبط تحریر میں آجائے گا تو بہت واضح رہے گا ‘ ورنہ زبانی یادداشت کے اندر تو کہیں تعبیر ہی میں فرق ہوجاتا ہے۔وَاَدْنآی الاَّ تَرْتَابُوْا اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً حَاضِرَۃً تُدِیْرُوْنَہَا بَیْنَکُمْ مثلاً آپ کسی دکاندار سے کوئی شے خریدتے ہیں اور نقد پیسے ادا کرتے ہیں تو ضروری نہیں کہ آپ اس کا کیش میمو بھی لیں۔ اگر آپ چاہیں تو دکاندار سے کیش میمو طلب کرسکتے ہیں۔فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَلاَّ تَکْتُبُوْہَا ط وَاَشْہِدُوْٓا اِذَا تَبَایَعْتُمْ بیع سلم جو ہوتی ہے یہ مستقبل کا سودا ہے ‘ اور یہ بھی ایک طرح کا قرض ہے۔ مثال کے طور پر آپ کسی زمیندار سے طے کرتے ہیں کہ آئندہ فصل کے موقع پر آپ اس سے اتنے روپے فی من کے حساب سے پانچ سو من گندم خریدیں گے۔ یہ بیع سلم کہلاتی ہے اور اس میں لازم ہے کہ آپ پوری قیمت ابھی ادا کردیں اور آپ کو گندم فصل کے موقع پر ملے گی۔ اس طرح کا لین دین بھی باقاعدہ تحریر میں آجانا چاہیے اور اس پر دو گواہ مقرر ہونے چاہئیں۔وَلاَ یُضَآرَّ کَاتِبٌ وَّلاَ شَہِیْدٌ ط یُضَآرَّمیں یہ دونوں مفہوم موجود ہیں۔ اس لیے کہ یہ معروف بھی ہے اور مجہول بھی۔ وَاِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّہٗ فُسُوْقٌم بِکُمْ ط وَاتَّقُوا اللّٰہَ ط وَیُعَلِّمُکُمُ اللّٰہُ ط وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ یہ ایک آیت مکمل ہوئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ آخری پارے کی چار پانچ چھوٹی سورتیں جمع کرلیں تو ان کا حجم اس ایک آیت کے برابر ہوگا۔ میں عرض کرچکا ہوں کہ آیات کی تعیین توقیفی ہے۔ اس کا ہمارے حساب کتاب سے ‘ گرامر سے ‘ منطق سے اور علم بیان سے کوئی تعلق نہیں۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است