وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۲۹:۲
هو الذي خلق لكم ما في الارض جميعا ثم استوى الى السماء فسواهن سبع سماوات وهو بكل شيء عليم ٢٩
هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ لَكُم مَّا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا ثُمَّ ٱسْتَوَىٰٓ إِلَى ٱلسَّمَآءِ فَسَوَّىٰهُنَّ سَبْعَ سَمَـٰوَٰتٍۢ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۭ ٢٩
هُوَ
ٱلَّذِي
خَلَقَ
لَكُم
مَّا
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
جَمِيعٗا
ثُمَّ
ٱسۡتَوَىٰٓ
إِلَى
ٱلسَّمَآءِ
فَسَوَّىٰهُنَّ
سَبۡعَ
سَمَٰوَٰتٖۚ
وَهُوَ
بِكُلِّ
شَيۡءٍ
عَلِيمٞ
٢٩
او (الله) است که همه آنچه را که در زمین است برای شما آفرید، آنگاه آهنگ آسمان کرد و آن‌ها را به‌صورت هفت آسمان مرتب نمود، و او به هر چیز آگاه است.
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
آیات مرتبط
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 2:26 تا 2:29

کسی بندہ کے اوپر اللہ کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ وہ عبدیت کے اس عہد کو نبھائے جو پیدا کرنے والے اور پیدا کیے جانے والے کے درمیان اول روز سے قائم ہوچکا ہے۔ پھر انسانوں کے درمیان وہ اس طرح رہے کہ وہ ان تمام رشتوں اور تعلقات کو پوری طرح استوار کیے ہوئے ہو جن کے استوار کیے جانے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ تیسری چیز یہ کہ جب خدا اپنے ایک بندے کی زبان سے اپنے پیغام کا اعلان کرائے تو اس کے خلاف بے بنیاد باتیں نکال کر خدا کے بندوں کو اس سےدور نه كيا جائے۔ حق کی دعوت دینا دراصل لوگوں کو فطری حالت پر لانے کی کوشش کرنا ہے،اس لیے جو شخص لوگوں کو اس سے روکتا ہے وہ زمین میں فساد ڈالنے کا مجرم بنتا ہے۔

اللہ کا یہ احسان کہ وہ آدمی کو عدم سے وجود میں لے آیا، اتنا بڑا احسان ہے کہ آدمی کو ہمہ تن اس کے آگے بچھ جانا چاہیے۔ پھر اللہ نے انسان کو پیداکرکے یونہی چھوڑ نہیں دیا بلکہ اس کو رہنے کے لیے ایک ایسی زمین دی جو اس کے لیے انتہائی طورپر موافق ڈھنگ سے بنائی گئی تھی۔ پھر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے، بلکہ اس سے بہت آگے کی ہے۔ انسان ہر وقت اس نازک امکان کے کنارے کھڑا ہوا ہے کہ اس کی موت آجائے اور اچانک وہ مالک کائنات کے سامنے حساب کتاب کے لیے پیش کردیا جائے۔ ان باتوں کا تقاضا ہے کہ آدمی ہمہ تن اللہ کا ہو جائے، اس کی یاد اور اس کی اطاعت میں زندگی گزارے۔ ساری عمر وہ اس کا بندہ بنا رہے۔

پیغمبرانہ دعوت کے انتہائی واضح اور مدلّل ہونے کے باوجود کیوں بہت سے لوگ اس کو قبول نہیں کر پاتے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ شوشه يا غير متعلق (irrelevant)بات نکالنے کا فتنہ ہے۔ آدمی کے اندر نصیحت پکڑنے کا ذہن نہ ہو تو وہ کسی بات کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیتاایسے آدمی کے سامنے جب بھی کوئی دلیل آتی ہے تو وہ اس کو سطحی طورپر دیکھ کر ایک شوشہ ياغير متعلق بات نکال لیتا ہے۔ اس طرح وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ دعوت کوئی معقول دعوت نہیں ہے۔ اگر وہ معقول دعوت ہوتی تو کیسے ممکن تھا کہ اس میں اس قسم کی بے وزن باتیں شامل ہوں۔ مگر جو نصیحت پکڑنے والے ذہن ہیں، جو باتوں پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں، ان کو حق کے پہچاننے میں دیر نہیں لگتی، خواہ حق کو ’’مچھر‘‘ جیسی مثالوں ہی میں کیوںنہ بیان کیا گیا ہو۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است