وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۸:۳
ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة انك انت الوهاب ٨
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْوَهَّابُ ٨
رَبَّنَا
لَا
تُزِغۡ
قُلُوبَنَا
بَعۡدَ
إِذۡ
هَدَيۡتَنَا
وَهَبۡ
لَنَا
مِن
لَّدُنكَ
رَحۡمَةًۚ
إِنَّكَ
أَنتَ
ٱلۡوَهَّابُ
٨
می‌گویند: پروردگارا! دل‌های ما را، بعد از آنکه ما را هدایت کردی (از راه حق) منحرف مگردان، و از سوی خود، رحمتی بر ما ببخش براستی که تو بخشنده‌ای.
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 3:7 تا 3:9

قرآن میں دو طرح کے مضامین ہیں۔ ایک وہ جو انسان کی معلوم دنیا سے متعلق ہیں۔ مثلاً تاریخی واقعات، کائناتی نشانیاں، دنیوی زندگی کے احکام وغیرہ۔دوسرے وہ جن کا تعلق ان غیبی امور سے ہے جو آج کے انسان کے لیے ناقابل ادراک ہیں۔ مثلاً خدا کی صفات، جنت دوزخ کے احوال، وغیرہ۔ پہلی قسم کی باتوں کو قرآن میں محکم انداز، بالفاظ دیگر براہِ راست اسلو ب میں بیان کیا گیا ہے۔ دوسری قسم کی باتیں انسان کی نامعلوم دنیا سے متعلق ہیں، وہ انسانی زبان کی گرفت میں نہیںآتیں۔ اس لیے ان کو متشابہ انداز یعنی تمثیل وتشبیہہ کے اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً ’’انسان کا ہاتھ‘‘ کہا جائے تو یہ براہِ راست زبان کی مثال ہے اور ’’اللہ کا ہاتھ‘‘ تمثیلی زبان کی مثال ۔جو لوگ اس فرق کو نہیں سمجھتے وہ متشابہ آیتوں کا مفہوم بھی اسی طرح متعین کرنے لگتے ہیں جس طرح محکم آیتوں کا مفہوم متعین کیا جاتا ہے۔ یہ اپنے فطری دائرہ سے باہر نکلنے کی کوشش ہے۔ اس قسم کی کوشش کا انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ آدمی ہمیشہ بھٹکتا رہے اور کبھی منزل پر نہ پہنچے۔ کیوں کہ ’’انسان کے ہاتھ‘‘ کو متعین طورپر سمجھا جاسکتا ہے۔ مگر ’’خدا کے ہاتھ‘‘ کو موجودہ عقل کے ساتھ متعین طورپر سمجھنا ممکن نہیں۔

متشابہات کے سلسلے میں صحیح علمی وعقلی موقف یہ ہے کہ آدمی اپنی محدودیت کا اعتراف کرے۔ جن باتوں کو وہ متعین صورت میں اپنے حواس کی گرفت میں نہیں لاسکتا ان کے مجمل تصور پر قناعت کرے۔ جب حواس کی محدودیت کی وجہ سے انسان کے لیے ان حقائق کا کلّی احاطہ ممکن نہیں تو حقیقت پسندی یہ ہے کہ ان امور میں تعیّنات کی بحث نہ چھیڑی جائے۔ اس کے بجائے اللہ سے دعا کرنا چاہیے کہ وہ آدمی کو اس قسم کی بے نتیجہ بحثوں میں الجھنے سے بچائے۔ وہ آدمی کو ایسی عقل سلیم دے جو اپنے مقام کو پہچانے اور ان حقائق کے مجمل یقین پر راضی ہوجائے۔ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب کہ یہ حقیقتیں اپنی تفصیلی صورت میں کھل کر سامنے آجائیں گي مگر آدمی جب تک امتحان کی دنیا میں ہے ایسا ہونا ممکن نہیں۔

جس طرح راستہ کی پھسلن ہوتی ہے اسی طرح عقل کے سفر کی بھی پھسلن ہے۔ اور عقل کی پھسلن یہ ہے کہ کسی معاملہ کو آدمی اس کے صحیح رخ سے نہ دیکھے۔ کسی چیز کی حقیقت آدمی اسی وقت سمجھتا ہے جب کہ وہ اس کو اس رخ سے دیکھے جس رخ سے اس کو دیکھنا چاہيے۔ اگر وہ کسی اور رُخ سے دیکھنے لگے تو عین ممکن ہے کہ وہ صحیح رائے قائم نہ کرسکے اور غلط فہمیوں میں پڑ کر رہ جائے۔ سب سے بڑی دانائی یہ ہے کہ آدمی اس راز کو جان لے کہ کسی چیز کو دیکھنے کا صحیح ترین رخ کیا ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است