وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۱۴:۴۲
وما تفرقوا الا من بعد ما جاءهم العلم بغيا بينهم ولولا كلمة سبقت من ربك الى اجل مسمى لقضي بينهم وان الذين اورثوا الكتاب من بعدهم لفي شك منه مريب ١٤
وَمَا تَفَرَّقُوٓا۟ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌۭ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى لَّقُضِىَ بَيْنَهُمْ ۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ أُورِثُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ مِنۢ بَعْدِهِمْ لَفِى شَكٍّۢ مِّنْهُ مُرِيبٍۢ ١٤
وَمَا
تَفَرَّقُوٓاْ
إِلَّا
مِنۢ
بَعۡدِ
مَا
جَآءَهُمُ
ٱلۡعِلۡمُ
بَغۡيَۢا
بَيۡنَهُمۡۚ
وَلَوۡلَا
كَلِمَةٞ
سَبَقَتۡ
مِن
رَّبِّكَ
إِلَىٰٓ
أَجَلٖ
مُّسَمّٗى
لَّقُضِيَ
بَيۡنَهُمۡۚ
وَإِنَّ
ٱلَّذِينَ
أُورِثُواْ
ٱلۡكِتَٰبَ
مِنۢ
بَعۡدِهِمۡ
لَفِي
شَكّٖ
مِّنۡهُ
مُرِيبٖ
١٤
آن‌ها پراکنده نشدند مگر بعد از آنکه علم (و دانش) به سراغ‌شان آمد (و کاملاً آگاهی یافتند، آن هم) از روی حسادت در میان خود (بود) و اگر فرمانی پیش از این از جانب پروردگارت صادر نشده بود، (که آن‌ها) را تا زمانی معین (مهلت) داده است، یقیناً در میان آن‌ها داوری می‌شد، و بی‌گمان کسانی‌که بعد از آن‌ها وارث کتاب شده‌اند، دربارۀ آن سخت در شک و تردیدند، (و نسبت به آن بد‌بینند).
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط

آیت 14 { وَمَا تَفَرَّقُوْٓا اِلَّا مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَ ہُمُ الْعِلْمُ بَغْیًام بَیْنَہُمْ } ”اور انہوں نے تفرقہ نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آچکا تھا ‘ آپس میں ضدم ّضدا کے باعث۔“ عرب میں حضور ﷺ کی دعوت ِاقامت ِدین کے مخاطبین بنیادی طور پر دو گروہ تھے ‘ یعنی مشرکین اور اہل کتاب۔ ان میں مشرکین کا تو اس دعوت کو ماننا بہت مشکل تھا اور یہ تلخ حقیقت پچھلی آیت میں واضح بھی کردی گئی ہے کہ آپ ﷺ کی یہ دعوت مشرکین پر بہت شاق گزر رہی ہے۔ البتہ اہل کتاب کا اس دعوت پر ایمان لے آنا نسبتاً زیادہ قرین قیاس تھا ‘ کیونکہ وہ تورات و انجیل جیسی الہامی کتابوں سے واقف تھے اور وحی ‘ ملائکہ اور آخرت پر بھی ایمان رکھتے تھے۔ لیکن زیر مطالعہ آیت میں حضور ﷺ کو بتایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ اہل کتاب سے بھی مثبت رد عمل کی توقع نہ رکھیں۔ کیونکہ ان دونوں گروہوں کی طرف سے اب تک کی مخالفت کسی لاعلمی کی وجہ سے نہیں ہوئی ہے ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کا اصل پیغام تو ان تک پہنچ چکا ہے ‘ بات پوری طرح واضح ہو کر ان کے دلوں میں اترچکی ہے۔ اس صورت حال میں ان کا انکار اور ان کی مخالفت محض باہمی تعصب اور ضد بازی کی بنا پر ہے ‘ کہ ہم محمد ﷺ کے پیروکار بن کر انہیں خود سے بڑا کیونکر تسلیم کرلیں اور اپنے آپ کو ان ﷺ کے سامنے چھوٹا کیسے بنا لیں ؟ اہل کتاب خود آپس میں بھی ایک دوسرے کی مخالفت اسی تعصب کی بنیاد پر کرتے ہیں ‘ جس کا ذکر سورة البقرۃ میں اس طرح آیا ہے : { وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰی عَلٰی شَیْئٍص وَّقَالَتِ النَّصٰرٰی لَیْسَتِ الْیَہُوْدُ عَلٰی شَیْئٍ لا وَّہُمْ یَتْلُوْنَ الْکِتٰبَ } آیت 133 ”یہودی کہتے ہیں کہ نصاریٰ کسی بنیاد پر نہیں ہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہودی کسی بنیاد پر نہیں ہیں ‘ حالانکہ دونوں ہی کتاب پڑھ رہے ہیں۔“ عہدنامہ قدیم Old Testament یہودیوں اور عیسائیوں میں مشترک ہے۔ اس کے باوجود ان کی باہمی مخاصمت کا یہ عالم َہے کہ وہ ایک دوسرے کے قبلہ کو بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یروشلم کی ”سمت“ پر اگرچہ دونوں گروہوں کا اتفاق ہے ‘ لیکن باہمی عناد کی بنا پر ایک گروہ شرقی حصے کو قبلہ مانتا ہے جبکہ دوسرا غربی حصے کو۔ اس صورت حال میں حضور ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ تعصب کے مرض میں مبتلا ہیں ‘ اس لیے آپ ﷺ ان میں سے کسی گروہ سے کسی مثبت رویے کی توقع نہ رکھیں ‘ ورنہ آپ ﷺ کو مایوسی ہوگی۔ بلکہ آپ ﷺ ان کی طرف سے انتہائی سخت اور منفی ردعمل کے لیے خود کو تیار کھیں۔ اس میں دراصل حضور ﷺ کے لیے بین السطور یہ پیغام بھی ہے کہ اقامت دین کی جدوجہد ایک طویل اور جاں گداز عمل ہے۔ اس لیے آپ ﷺ موافق حالات اور جلد کامیابی کی توقع نہ رکھیں۔ { وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی لَّقُضِیَ بَیْنَہُمْ } ”اور اگر ایک بات آپ کے رب کی طرف سے پہلے سے ایک وقت معین کے لیے طے نہ پا چکی ہوتی تو ان کے مابین اختلافات کا فیصلہ چکا دیا جاتا۔“ { وَاِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْکِتٰبَ مِنْ بَعْدِہِمْ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مُرِیْبٍ } ”اور جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے ان کے بعد وہ اس کے متعلق ایک خلجان آمیز شک میں مبتلا ہیں۔“ یہ نکتہ خاص طور پر بہت اہم اور لائق توجہ ہے کہ ”وارثانِ کتاب“ کے اذہان وقلوب میں الجھن میں ڈالنے والے شکوک و شبہات کیوں ڈیرے جما لیتے ہیں ؟ دراصل ہوتا یوں ہے کہ شروع شروع میں سب معاملات بالکل ٹھیک چلتے رہتے ہیں ‘ مگر چوتھی پانچویں نسل تک آتے آتے معاملات اس وقت بگڑنے لگتے ہیں جب نوجوان اپنے علماء کو باہم دست و گریباں ہوتے دیکھتے ہیں اور ان کے دامن حیات کو متاع عمل سے خالی پاتے ہیں۔ ایسی صورت حال سے بیزار ہو کر علماء کے ساتھ ساتھ وہ اپنی ”کتاب“ سے بھی بدظن ہونے لگتے ہیں۔ یہ نوجوان خود تو کتاب کے علوم و معارف تک رسائی حاصل کرنے کی زحمت نہیں اٹھاتے لیکن اس مفروضے کو اپنے دلوں میں ضرور بٹھا لیتے ہیں کہ جب کتاب کے ”علماء“ کے کردار و عمل میں روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی کوئی روشنی اس کتاب کے اندر سرے سے موجود ہی نہیں۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است