هردور ميں انسان كي گمراهي كي جڑ يه رهي هے كه اس نے موت كے بعد زندگي ميں اپنا يقين كھوديا۔ كچھ لوگوں كي بے يقيني كا اظهار ان كي زبان سے بھي هوجاتا هے، اور كچھ لوگ زبان سے نهيں كهتے۔ مگر ان كا دل اس يقين سے خالي هوتا هے كه انھيں مركر دوباره اٹھنا هے اور الله كے سامنے اپنے اعمال كا حساب ديناهے۔
اس غلط فهمي كا نفسياتي سبب اكثر يه هوتا هے كه دنيا ميں اپني مضبوط حيثيت كو ديكھ كر آدمي گمان كرليتا هے كه وه كبھي بے حيثيت هونے والا نهيں۔ حالانكه پچھلي قوموں كے واقعات اس فريب كي ترديد كرنے كے ليے كافي هيں۔
تبع قديم يمن كے حمير قبيله كے بادشاهوں كا لقب تھا۔ 300 قبل مسيح سے