وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۲۸:۴۵
وترى كل امة جاثية كل امة تدعى الى كتابها اليوم تجزون ما كنتم تعملون ٢٨
وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍۢ جَاثِيَةًۭ ۚ كُلُّ أُمَّةٍۢ تُدْعَىٰٓ إِلَىٰ كِتَـٰبِهَا ٱلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ٢٨
وَتَرَىٰ
كُلَّ
أُمَّةٖ
جَاثِيَةٗۚ
كُلُّ
أُمَّةٖ
تُدۡعَىٰٓ
إِلَىٰ
كِتَٰبِهَا
ٱلۡيَوۡمَ
تُجۡزَوۡنَ
مَا
كُنتُمۡ
تَعۡمَلُونَ
٢٨
و (در آن روز) هر امتی را می‌بینی که به زانو در آمده، هر امتی به سوی نامۀ اعمالش خوانده می‌شود، (و به آن‌ها گفته می‌شود:) «امروز در برابر آنچه می‌کردید، پاداش می‌یابید».
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 45:27 تا 45:29
اس دن ہر شخص گھٹنوں کے بل گرا ہو گا ٭٭

اب سے لے کر ہمیشہ تک اور آج سے پہلے بھی تمام آسمانوں کا کل زمینوں کا مالک بادشاہ سلطان اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ کے اور اس کی کتابوں کے اور اس کے رسولوں کے منکر قیامت کے روز بڑے گھاٹے میں رہیں گے۔

سفیان ثوری رحمہ اللہ جب مدینے شریف میں تشریف لائے تو آپ نے سنا کہ معافری ایک ظریف شخص ہیں، لوگوں کو اپنے کلام سے ہنسایا کرتے ہیں، تو آپ نے انہیں نصیحت کی اور فرمایا: ”کیوں جناب کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ایک دن آئے گا جس میں باطل والے خسارے میں پڑیں گے۔‏“ اس کا بہت اچھا اثر ہوا اور معافری رحمہ اللہ مرتے دم تک اس نصیحت کو نہ بھولے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

فرمایا وہ دن ایسا ہولناک اور سخت تر ہو گا کہ ہر شخص گھٹنوں پر گر جائے گا۔ یہاں تک کہ خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام اور روح اللہ عیسیٰ علیہ السلام بھی۔ ان کی زبان سے بھی اس وقت «نفسی نفسی نفسی» نکلے گا۔ صاف کہہ دیں گے کہ ”اللہ آج ہم تجھ سے اور کچھ نہیں مانگتے صرف اپنی سلامتی چاہتے ہیں۔‏“

عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے کہ ”آج میں اپنی والدہ کے لیے بھی تجھ سے کچھ عرض نہیں کرتا بس مجھے بچا لے۔‏“

گو بعض مفسرین نے کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ہر گروہ جداگانہ الگ الگ ہو گا لیکن اس سے اولیٰ اور بہتر وہی تفسیر ہے جو ہم نے کی یعنی ہر ایک اپنے زانو پر گرا ہوا ہو گا۔

صفحہ نمبر8418

ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں گویا کہ میں تمہیں جہنم کے پاس زانو پر جھکے ہوئے دیکھ رہا ہوں ۔

اور مرفوع حدیث میں جس میں صور وغیرہ کا بیان ہے یہ بھی ہے کہ پھر لوگ جدا جدا کر دئیے جائیں گے اور تمام امتیں زانو پر جھکیں پڑیں گی ۔

یہی اللہ کا فرمان ہے «وَتَرَ‌ىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [45-الجاثية:28] ‏، اس میں دونوں حالتیں جمع کر دی ہیں، پس دراصل دونوں تفسیروں میں ایک دوسرے کے خلاف نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرمایا ہر گروہ اپنے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا۔ جیسے ارشاد ہے «وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ» [39-الزمر:69] ‏، ” نامہ اعمال رکھا جائے گا اور نبیوں اور گواہوں کو لایا جائے گا “، آج تمہیں تمہارے ہر ہر عمل کا بدلہ بھرپور دیا جائے گا۔

جیسے فرمان ہے «يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ بَلِ الْإِنسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُ» [75-القيامة:15-13] ‏ ” انسان کو ہر اس چیز سے باخبر کر دیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجی اور پیچھے چھوڑی اس کے اگلے پچھلے تمام اعمال ہوں گے بلکہ خود انسان اپنے حال پر خوب مطلع ہو جائے گا گو اپنے تمام تر حیلے سامنے لا ڈالے “۔

یہ اعمال نامہ جو ہمارے حکم سے ہمارے امین اور سچے فرشتوں نے لکھا ہے وہ تمہارے اعمال کو تمہارے سامنے پیش کر دینے کے لیے کافی و وافی ہیں جیسے ارشاد ہے «وَوُضِـعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَيَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّلَا كَبِيْرَةً اِلَّآ اَحْصٰىهَا» [18-الكهف:49] ‏، یعنی ” نامہ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا تو تو دیکھے گا کہ گنہگار اس سے خوفزدہ ہو جائیں گے اور کہیں گے ہائے ہماری کم بختی اور عمل نامے کی تو یہ صفت ہے کہ کسی چھوٹے بڑے عمل کو قلم بند کئے بغیر چھوڑا ہی نہیں ہے جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب سامنے حاضر پا لیں گے، تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا “۔

پھر فرماتا ہے کہ ہم نے محافظ فرشتوں کو حکم دے دیا تھا کہ وہ تمہارے اعمال لکھتے رہا کریں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں کہ ”فرشتے بندوں کے اعمال لکھتے ہیں، پھر انہیں لے کر آسمان پر چڑھتے ہیں، آسمان کے دیوان عمل کے رشتے اس نامہ اعمال کو لوح محفوظ میں لکھے ہوئے اعمال سے ملاتے ہیں جو ہر رات اس کی مقدار کے مطابق ان پر ظاہر ہوتا ہے جسے اللہ نے اپنی مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہی لکھا ہے تو ایک حرف کی کمی زیادتی نہیں پاتے پھر آپ نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی“ ۔

صفحہ نمبر8419
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است