وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۱۵:۴۹
انما المومنون الذين امنوا بالله ورسوله ثم لم يرتابوا وجاهدوا باموالهم وانفسهم في سبيل الله اولايك هم الصادقون ١٥
إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا۟ وَجَـٰهَدُوا۟ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلصَّـٰدِقُونَ ١٥
إِنَّمَا
ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
بِٱللَّهِ
وَرَسُولِهِۦ
ثُمَّ
لَمۡ
يَرۡتَابُواْ
وَجَٰهَدُواْ
بِأَمۡوَٰلِهِمۡ
وَأَنفُسِهِمۡ
فِي
سَبِيلِ
ٱللَّهِۚ
أُوْلَٰٓئِكَ
هُمُ
ٱلصَّٰدِقُونَ
١٥
مؤمنان (حقیقی) تنها کسانی اند که به الله و پیامبرش ایمان آورده‌اند، سپس (در این باره) شک (و تردید) نکرده‌اند، و با اموال خود و جان های خود در راه الله جهاد کرده‌اند، اینانند که راستگویانند.
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط

آیت 15 { اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا } ”مومن تو بس وہی ہیں جو ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ‘ پھر شک میں ہرگز نہیں پڑے“ یعنی ایسے لوگوں کا ایمان ان کے دلوں میں راسخ ہو کر یقین کی ایسی صورت اختیار کر گیا ہے کہ ان کے دلوں کے اندر شک کی کوئی گنجائش رہی ہی نہیں۔ جیسے قبل ازیں آیت 7 میں صحابہ رض کے بارے میں فرمایا گیا : { وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ } ”لیکن اے نبی ﷺ کے ساتھیو ! اللہ نے تمہارے نزدیک ایمان کو بہت محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں کے اندر رچا بسا دیا ہے۔“ جب تک ایمان دل میں راسخ نہیں ہوا اور ابھی صرف زبان پر ہے آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ… تو یہ اسلام ہے۔ اسی لیے اسلام کی بنیاد جن پانچ چیزوں پر بتائی گئی ہے : بُنِیَ الاِْسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ…الحدیث ان میں یقین قلبی شامل نہیں ہے ‘ بلکہ نظریاتی طور پر صرف توحید و رسالت کی گواہی دے کر اور اس کے بعد نماز ‘ روزہ ‘ زکوٰۃ اور حج کا التزام کر کے اسلام کا تقاضا پورا ہوجاتا ہے۔ لیکن ایمان اس سے اوپر کی منزل ہے۔ گویا مذکورہ پانچ شرائط پہلی شرط کا تعلق نظریے سے جبکہ باقی چار کا تعلق عمل سے ہے پوری کر کے جو شخص ”مسلمان“ ہوگیا اسے ”مومن“ بننے کے لیے کچھ اضافی شرائط بھی پوری کرنا ہوں گی اور آیت زیر مطالعہ کی رو سے یہ اضافی دو شرائط ہیں ‘ یعنی ”شہادت“ کے ساتھ یقین قلبی لَمْ یَرْتَابُوْا کی کیفیت کا اضافہ ہوگا اور اعمال کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کا : { وَجَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } ”اور انہوں نے جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں۔“ { اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ } ”یہی لوگ ہیں جو اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں۔“ گویا کسی شخص کو ”حقیقی مومن“ بننے کے لیے مذکورہ ساتوں شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ پہلی پانچ شرائط ”اسلام“ میں داخل ہونے کے لیے جبکہ آخری دو شرائط ”ایمان“ کی منزل حاصل کرنے کے لیے۔ اسلام اور ایمان کے اس فرق کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ ایک مومن لامحالہ ”مسلم“ تو ہوگا ہی لیکن ہر ”مسلم“ مومن نہیں ہوسکتا۔ اسلام اور ایمان کی اس بحث میں لائق توجہ نکتہ یہ ہے کہ زبان سے : ”آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ…“ کا دعویٰ کرنا تو آسان ہے مگر دل میں حقیقی ایمان پیدا کرنا اور پھر اس ایمان کے تقاضے پورے کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنی ”ایمانی کیفیت“ کا جائزہ لیتا رہے۔ خصوصی طور پر اس حوالے سے یہ حقیقت تو ہمیں کسی لمحے بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ہم باطل نظام کے تحت زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس حالت میں اگر ہم اس نظام کو ذہنی طور پر قبول کر کے اس کی چاکری کرنا شروع کردیں گے ‘ یعنی اس نظام کے تحت اپنی معیشت کی ترقی اور اپنے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کی فکر میں لگ جائیں گے تو ایسی صورت میں ہمیں اپنے ایمان کی خبر لینے کی ضرورت ہوگی۔ دراصل کسی ملک یا معاشرے میں غلبہ باطل کی صورت میں ایک بندہ مومن کے لیے لازم ہے کہ وہ اس نظام کے تحت حالت احتجاج میں رہتے ہوئے زندگی بسر کرے۔ اور اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ 1 کے مصداق باطل نظام کے تحت وہ ایسے رہے جیسے ایک قیدی جیل کے اندر رہتا ہے۔ یعنی اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات پوری کرنے میں وہ اپنی کم سے کم توانائی صرف کرے اور ان ضروریات کو بھی کم سے کم معیار subsistance level پر رکھے ‘ جبکہ اپنا باقی وقت اور اپنی بہترین صلاحیتیں نظام باطل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کی جدوجہد میں کھپا دے۔ ع ”گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں !“ اگر باطل نظام کے تحت رہتے ہوئے ایک مرد مسلمان کی زندگی کے شب و روز کا نقشہ ایسا نہیں تو بیشک قانونی طور پر وہ اپنے ملک کا ایک مسلمان شہری ہے ‘ اپنے مسلمان باپ کی وراثت کا حقدار ہے ‘ مسلمان عورت سے شادی کرسکتا ہے اور اس طرح کے دوسرے تمام قانونی حقوق سے بھی مستفید ہوسکتا ہے ‘ لیکن ایسا ”مسلمان“ اللہ کے ہاں ”مومن“ شمار نہیں ہوسکتا۔ اس آیت کے بارے میں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ اس کا آغاز ”اِنّما“ سے ہو رہا ہے اور آخر پر ”اُولٰٓئِکَ ھُمُ الصّٰدِقُوْنَ“ کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی آیت کا آغاز بھی اسلوبِ حصر سے ہو رہا ہے اور اختتام پر بھی اسلوبِ حصر آیا ہے۔ اس اعتبار سے آیت کا مفہوم یوں ہوگا کہ مومن تو ہیں ہی صرف وہ لوگ جن کے دلوں میں ایمان نے ”یقین“ کی شکل اختیار کرلی اور پھر انہوں نے اپنے جان و مال کو اللہ کی راہ میں کھپا دیا۔ اور صرف یہی لوگ ہیں جو اپنے ایمان کے دعوے میں سچے ہیں۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ‘ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ۔ آمین ‘ ثم آمین ! آیت کے آخر میں ان مومنین کو جو سر ٹیفکیٹ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ عطا ہوا ہے اس کی اہمیت کو سورة التوبہ کی آیت 119 کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سورة التوبہ کی مذکورہ آیت میں اہل ایمان کو صادقین کے ساتھ شامل ہونے کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ کا حکم دیا گیا ہے ‘ جبکہ آیت زیر مطالعہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ ”صادقین“ کون ہیں۔ اس نکتے کو اس طرح سمجھیں کہ آیت زیر مطالعہ میں مومنین صادقین کی دو نشانیاں ایمان حقیقی اور جہاد فی سبیل اللہ ہماری راہنمائی کے لیے بتائی گئی ہیں کہ مسلمانو ! اٹھو ‘ اس ”چراغ“ کی روشنی میں ”مومنین ِصادقین“ کو تلاش کرو اور پھر ان کے مشن کی جدوجہد میں ان کے دست وبازو بن جائو ! حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔ امیر معاویہ رض روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لاَ یَزَالُ مِنْ اُمَّتِیْ اُمَّۃٌ قَائِمَۃٌ بِاَمْرِ اللّٰہِ ، لَا یَضُرُّھُمْ مَنْ خَذَلَھُمْ وَلَا مَنْ خَالَفَھُمْ ، حَتّٰی یَاْتِیَ اَمْرُ اللّٰہِ وَھُمْ عَلٰی ذٰلِکَ 1 ”میری امت میں سے ایک گروہ اللہ کے حکم کو قائم کرنے والا ہمیشہ موجود رہے گا۔ ان کا ساتھ چھوڑ دینے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے ‘ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے گا ‘ اور وہ اسی پر قائم ہوں گے“۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ”مومنین صادقین“ آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم انہیں تلاش کریں اور { کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ } کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے ان کے جھنڈے تلے جمع ہوجائیں تاکہ { مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِط وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ } الفتح : 29 کی طرز پر ایک مضبوط ”حزب اللہ“ تشکیل پا سکے۔ ظاہر ہے افراد کے اتحاد کے بغیر نہ تو کوئی جمعیت وجود میں آسکتی ہے ‘ نہ اقامت دین کی جدوجہد آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ ہی ”اظہارِ دین حق“ کی شان تکمیلی کا ظہور ممکن ہوسکتا ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است