وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۱۵:۴
واللاتي ياتين الفاحشة من نسايكم فاستشهدوا عليهن اربعة منكم فان شهدوا فامسكوهن في البيوت حتى يتوفاهن الموت او يجعل الله لهن سبيلا ١٥
وَٱلَّـٰتِى يَأْتِينَ ٱلْفَـٰحِشَةَ مِن نِّسَآئِكُمْ فَٱسْتَشْهِدُوا۟ عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةًۭ مِّنكُمْ ۖ فَإِن شَهِدُوا۟ فَأَمْسِكُوهُنَّ فِى ٱلْبُيُوتِ حَتَّىٰ يَتَوَفَّىٰهُنَّ ٱلْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ ٱللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًۭا ١٥
وَٱلَّٰتِي
يَأۡتِينَ
ٱلۡفَٰحِشَةَ
مِن
نِّسَآئِكُمۡ
فَٱسۡتَشۡهِدُواْ
عَلَيۡهِنَّ
أَرۡبَعَةٗ
مِّنكُمۡۖ
فَإِن
شَهِدُواْ
فَأَمۡسِكُوهُنَّ
فِي
ٱلۡبُيُوتِ
حَتَّىٰ
يَتَوَفَّىٰهُنَّ
ٱلۡمَوۡتُ
أَوۡ
يَجۡعَلَ
ٱللَّهُ
لَهُنَّ
سَبِيلٗا
١٥
و کسانی از زنان شما که مرتکب زنا می‌شود، چهار نفر از خودتان بر آنان گواه گیرید، پس اگر گواهی دادند، آنان (= زنان) را در خانه‌ها نگاه دارید، تا مرگ‌شان فرا رسد، یا الله راهی برای آنان قرار دهد [ حکم این آیه با آیه سورۀ نور منسوخ گردیده است. (به تفسیر ابن کثیر رجوع کنید)].
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 4:15 تا 4:16
سیاہ کار عورت اور اس کی سزا ٭٭

ابتدائے اسلام میں یہ حکم تھا کہ جب عادل گواہوں کی سچی گواہی سے کسی عورت کی سیاہ کاری ثابت ہو جائے تو اسے گھر سے باہر نہ نکلنے دیا جائے گھر میں ہی قید کر دیا جائے اور جنم قید یعنی موت سے پہلے اسے چھوڑا نہ جائے، اس فیصلہ کے بعد یہ اور بات ہے کہ اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ پیدا کر دے، پھر جب دوسری صورت کی سزا تجویز ہوئی تو وہ منسوخ ہو گئی اور یہ حکم بھی منسوخ ہوا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب تک سورۃ النور کی آیت نہیں اتری تھی زنا کار عورت کے لیے یہی حکم رہا پھر اس آیت میں شادی شدہ کو رجم کرنے یعنی پتھر مار مار کر مار ڈالنے اور بیشادی شدہ کو کوڑے مارنے کا حکم اترا، عکرمہ، سعید بن جبیر، حسن، عطاء خرسانی ٫ ابوصالح، قتادہ، زید بن اسلم اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی اترتی تو آپ پر اس کا بڑا اثر ہوتا اور تکلیف محسوس ہوتی اور چہرے کا رنگ بدل جاتا پس اللہ تعالیٰ نے ایک دن اپنے نبی پر وحی نازل فرمائی کیفیت وحی سے نکلے تو آپ نے فرمایا:”مجھ سے حکم الٰہی لو اللہ تعالیٰ نے سیاہ کار عورتوں کے لیے راستہ نکال دیا ہے اگر شادی شدہ عورت یا شادی شدہ مرد سے اس جرم کا ارتکاب ہو تو ایک سو کوڑے اور پتھروں سے مار ڈالنا اور غیر شادی شدہ ہوں تو ایک سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی۔‏“ [صحیح مسلم:1690] ‏ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث الفاظ کچھ تبدیلی کے ساتھ سے مروی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں، [سنن ترمذي:1434،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اسی طرح ابوداؤد میں بھی۔

صفحہ نمبر1551

ابن مردویہ کی غریب حدیث میں کنوارے اور بیاہے ہوئے کے حکم کے ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ دونوں اگر بوڑھے ہوں تو انہیں رجم کر دیا جائے۔ [بیہقی:8/223:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث غریب ہے،

طبرانی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”سورۃ نساء کے اترنے کے بعد اب روک رکھنے کا یعنی عورتوں کو گھروں میں قید رکھنے کا حکم نہیں رہا۔ [بیہقی:6/162:ضعیف] ‏

امام احمد رحمہ اللہ کا مذہب اس حدیث کے مطابق یہی ہے کہ زانی شادی شدہ کو کوڑے بھی لگائے جائیں گے اور رجم بھی کیا جائے گا اور جمہور کہتے ہیں کوڑے نہیں لگیں گے صرف رجم کیا جائے گا اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز رضی اللہ عنہ کو اور غامدیہ عورت کو رجم کیا لیکن کوڑے نہیں مارے، اسی طرح دو یہودیوں کو بھی آپ نے رجم کا حکم دیا اور رجم سے پہلے بھی انہیں کوڑے نہیں لگوائے، پھر جمہور کے اس قول کے مطابق معلوم ہوا کہ انہیں کوڑے لگانے کا حکم منسوخ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر1552

پھر فرمایا اس بےحیائی کے کام کو دو مرد اگر آپس میں کریں انہیں ایذاء پہنچاؤ یعنی برا بھلا کہہ کر شرم و غیرہ دلا کر جوتیاں لگا کر، [تفسیر ابن جریر الطبری:8/85] ‏ یہ حکم بھی اسی طرح پر رہا یہاں تک کہ اسے بھی اللہ تعالیٰ نے کوڑے اور رجم سے منسوخ فرمایا۔

عکرمہ، عطاء، حسن، عبداللہ بن کثیر رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس سے مراد بھی مرد و عورت ہیں، سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد وہ نوجوان مرد ہیں جو شادی شدہ نہ ہوں مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں لواطت کے بارے میں یہ آیت ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:82/8] ‏

صفحہ نمبر1553

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جسے تم لوطی فعل کرتے دیکھو تو فاعل مفعول دونوں کو قتل کر ڈالو، ہاں اگر یہ دونوں باز آ جائیں اپنی بدکاری سے توبہ کر لیں اپنے اعمال کی اصلاح کر لیں اور ٹھیک ٹھاک ہو جائیں تو اب ان کے ساتھ درشت کلامی اور سختی سے پیش نہ آؤ، اس لیے کہ گناہ سے توبہ کر لینے والا مثل گناہ نہ کرنے والے کے ہے۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا اور درگزر کرنے والا ہے، بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر کسی کی لونڈی بدکاری کرے تو اس کا مالک اسے حد لگا دے اور ڈانٹ ڈپٹ نہ کرے، [صحیح بخاری:6839] ‏ یعنی حد لگ جانے کے بعد پھر اسے عار نہ دلایا کرے کیونکہ حد کفارہ ہے۔

صفحہ نمبر1554
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است