وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۵۶:۵۱
وما خلقت الجن والانس الا ليعبدون ٥٦
وَمَا خَلَقْتُ ٱلْجِنَّ وَٱلْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ٥٦
وَمَا
خَلَقۡتُ
ٱلۡجِنَّ
وَٱلۡإِنسَ
إِلَّا
لِيَعۡبُدُونِ
٥٦
و من جن و انس را نیافریده ام مگر برای اینکه مرا عبادت کنند،
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
آیات مرتبط
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 51:52 تا 51:60
تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔

پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ [31-لقمان:25] ‏

اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» [29-العنکبوت:61] ‏ ” اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے “، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔

مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

صفحہ نمبر8830

مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا ۔ [مسند احمد:358/2:صحیح] ‏ ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔

خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی“ اور فرمایا: ”سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے“ ۔ [مسند احمد:469/3:ضعیف] ‏

بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر8831
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است