وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۱۸:۵۳
لقد راى من ايات ربه الكبرى ١٨
لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ ءَايَـٰتِ رَبِّهِ ٱلْكُبْرَىٰٓ ١٨
لَقَدۡ
رَأَىٰ
مِنۡ
ءَايَٰتِ
رَبِّهِ
ٱلۡكُبۡرَىٰٓ
١٨
به راستی (او) پاره‌ای از نشانه‌های بزرگ پروردگارش را دید [ این آیه دربارۀ معراج پیامبر صلی الله علیه وسلم می‌باشد که رسول الله صلی الله علیه وسلم با روح و جسد به آسمان‌ها رفتند. (اختصار از صحیح بخاری شماره .].
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط

آیت 18{ لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیٰتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی۔ } ”انہوں نے اپنے رب کی عظیم ترین آیات کو دیکھا۔“ معراج کے موقع پر حضور ﷺ کے مشاہدے سے متعلق صحابہ کرام میں بھی دو آراء پائی جاتی ہیں۔ کچھ صحابہ رض کا خیال ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کو دیکھا ‘ جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اللہ کو نہیں دیکھا بلکہ انوارِالٰہیہ کا مشاہدہ کیا۔ حضرت عائشہ رض اور حضرت عبداللہ بن مسعود رض اس بات کے قائل تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے شب معراج میں اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا۔ حضرت عائشہ رض تو یہاں تک فرمایا کرتی تھیں کہ ”جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تھا وہ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا افترا کرتا ہے“۔ صحیح مسلم کتاب الایمان میں حضرت ابوذر غفاری رض سے عبداللہ بن شفیق رح کی دو روایتیں منقول ہیں۔ ایک روایت میں حضرت ابوذر رض فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : ھَلْ رَاَیْتَ رَبَّکَ ”کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا تھا ؟“ حضور ﷺ نے جواب میں فرمایا : نُوْرٌ اَنّٰی اَرَاہُ ؟ ”ایک نور تھا ‘ میں اسے کیسے دیکھتا ؟“ دوسری روایت میں حضرت ابوذر رض فرماتے ہیں کہ میرے اس سوال کا جواب آپ ﷺ نے یہ دیا کہ رَاَیْتُ نُوْرًا ”میں نے ایک نور دیکھا تھا“۔ علامہ ابن القیم رح نے ”زاد المعاد“ میں رسول اللہ ﷺ کے پہلے ارشاد کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ”میرے اور رویت باری تعالیٰ کے درمیان نور حائل تھا“۔ جبکہ دوسرے ارشاد کا مطلب وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے اپنے رب کو نہیں بلکہ بس ایک نور دیکھا“۔ البتہ حضرت عبداللہ بن عباس سے منسوب روایات میں رویت ِباری تعالیٰ کا اثبات ملتا ہے۔ آیت زیر مطالعہ اس حوالے سے یہ واضح کرتی ہے کہ آپ ﷺ نے اللہ کی عظیم آیات کا مشاہدہ کیا۔ چناچہ یہ آیت اول الذکر کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا مشاہدہ کیا نہ کہ خود اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔ سورة بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں سفر معراج کے پہلے حصے مسجد حرام تا مسجد اقصیٰ کا ذکر ہوا ‘ وہاں بھی یہ ارشاد ہوا ہے کہ ہم اپنے بندے کو اس لیے لے گئے تھے { لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا } ”تاکہ اس کو اپنی نشانیاں دکھائیں“۔ لیکن وہاں ”زمینی آیات“ کے مشاہدے کی بات ہوئی ہے ‘ جبکہ ان آیات میں سفر معراج کے دوسرے مرحلے کے دوران سدرۃ المنتہیٰ کے مقام کی آیات و تجلیات کے مشاہدے کا ذکر ہے۔ یہ مقام کسی مخلوق کی رسائی کی آخری حد ہے۔ اس سے آگے ”حریم ذات“ ہے ‘ جہاں کسی غیر کا کوئی دخل ممکن نہیں۔ اس مقام خاص اور اس آخری حد پر لے جا کر حضور ﷺ کو خاص الخاص آیات الٰہیہ کا مشاہدہ کرایا گیا جنہیں آیت زیر مطالعہ میں ”آیات الکبریٰ“ کہا گیا ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است