آیت 20{ اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗٓ اُولٰٓئِکَ فِی الْاَذَلِّیْنَ۔ } ”یقینا جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت پر ُ تلے بیٹھے ہیں ‘ وہی ذلیل ترین لوگوں میں سے ہوں گے۔“ ذلت کے ذکر کے لیے اَذَلِّیْن ذلیل ترین یہاں ”تفضیل کل“ superlative degree کے طور پر آیا ہے۔ سورة النساء کی اس آیت میں بھی منافقین کے لیے بالکل یہی اسلوب اختیار فرمایا گیا ہے : { اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِج وَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ نَصِیْرًا۔ } ”یقینا منافقین آگ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے ‘ اور تم نہ پائو گے ان کے لیے کوئی مدد گار۔“