وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۱۰۶:۵
يا ايها الذين امنوا شهادة بينكم اذا حضر احدكم الموت حين الوصية اثنان ذوا عدل منكم او اخران من غيركم ان انتم ضربتم في الارض فاصابتكم مصيبة الموت تحبسونهما من بعد الصلاة فيقسمان بالله ان ارتبتم لا نشتري به ثمنا ولو كان ذا قربى ولا نكتم شهادة الله انا اذا لمن الاثمين ١٠٦
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ شَهَـٰدَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ حِينَ ٱلْوَصِيَّةِ ٱثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍۢ مِّنكُمْ أَوْ ءَاخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ إِنْ أَنتُمْ ضَرَبْتُمْ فِى ٱلْأَرْضِ فَأَصَـٰبَتْكُم مُّصِيبَةُ ٱلْمَوْتِ ۚ تَحْبِسُونَهُمَا مِنۢ بَعْدِ ٱلصَّلَوٰةِ فَيُقْسِمَانِ بِٱللَّهِ إِنِ ٱرْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِى بِهِۦ ثَمَنًۭا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۙ وَلَا نَكْتُمُ شَهَـٰدَةَ ٱللَّهِ إِنَّآ إِذًۭا لَّمِنَ ٱلْـَٔاثِمِينَ ١٠٦
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
شَهَٰدَةُ
بَيۡنِكُمۡ
إِذَا
حَضَرَ
أَحَدَكُمُ
ٱلۡمَوۡتُ
حِينَ
ٱلۡوَصِيَّةِ
ٱثۡنَانِ
ذَوَا
عَدۡلٖ
مِّنكُمۡ
أَوۡ
ءَاخَرَانِ
مِنۡ
غَيۡرِكُمۡ
إِنۡ
أَنتُمۡ
ضَرَبۡتُمۡ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
فَأَصَٰبَتۡكُم
مُّصِيبَةُ
ٱلۡمَوۡتِۚ
تَحۡبِسُونَهُمَا
مِنۢ
بَعۡدِ
ٱلصَّلَوٰةِ
فَيُقۡسِمَانِ
بِٱللَّهِ
إِنِ
ٱرۡتَبۡتُمۡ
لَا
نَشۡتَرِي
بِهِۦ
ثَمَنٗا
وَلَوۡ
كَانَ
ذَا
قُرۡبَىٰ
وَلَا
نَكۡتُمُ
شَهَٰدَةَ
ٱللَّهِ
إِنَّآ
إِذٗا
لَّمِنَ
ٱلۡأٓثِمِينَ
١٠٦
ای کسانی‌که ایمان آورده‌اید! چون مرگ یکی از شما فرا رسد در موقع وصیت باید از میان شما دو نفر عادل را گواه بگیرید یا اگر مسافرت کردید و مصیبت مرگ به شما رسید (و مسلمانی را نیافتید) دو نفر از غیر خودتان را به گواهی بطلبید و اگر (هنگام ادای شهادت در صدق آن‌ها) شک کردید آن دو را بعد از نماز نگاه دارید تا به الله سوگند بخورند که: «ما حاضر نیستیم حق را به چیزی بفروشیم اگر چه خویشان‌مان باشند و شهادت الله را کتمان نمی‌کنیم که در این صورت از گناهکاران خواهیم بود».
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
معتبر گواہی کی شرائط ٭٭

بعض لوگوں نے اس آیت کے عزیز حکم کو منسوخ کہا ہے لیکن اکثر حضرات اس کے خلاف ہیں «اِثْنَانِ» خبر ہے، اس کی تقدیر «شَهَادَةُ اثْنَیْنِ» ہے مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ اس کے قائم مقام کر دیا گیا ہے یا دلالت کلام کی بنا پر فعل محذوف کر دیا گیا ہے یعنی «‏اَنْ یَّشْهَدَ اِثْنَانِ» - «ذَوَاعَدْلٍ» صفت ہے، «مِنْکُمْ» سے مراد مسلمانوں میں سے ہونا یا وصیت کرنے والے کے اہل میں سے ہونا ہے، «مِنْ غَیْرِکُمْ» سے مراد اہل کتاب ہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ «مِنْکُمْ» سے مراد قبیلہ میں اور «مِنْ غَیْرِکُمْ» سے مراد اس کے قبیلے کے سوا، شرطیں دو ہیں ایک مسافر کے سفر میں ہونے کی صورت میں موت کے وقت وصیت کے لیے غیر مسلم کی گواہی چل سکتی ہے، شریح سے یہی مروی ہے۔

صفحہ نمبر2491

امام احمد رحمة الله بھی یہی فرماتے ہیں اور تینوں امام خلاف ہیں، امام ابوحنیفہ رحمة الله ذمی کافروں کی گواہی آپس میں ایک دوسرے پر جائز مانتے ہیں، زہری رحمة الله کا قول ہے کہ سنت جاری ہو چکی ہے کہ کافر کی شہادت جائز نہیں نہ سفر میں نہ حضر میں۔ ابن زید کہتے ہیں کہ یہ آیت اس شخص کے بارے میں اتری ہے جس کی موت کے وقت اس کے پاس کوئی مسلمان نہ تھا یہ ابتدائے اسلام کا وقت تھا جبکہ زمین کافروں سے بھری تھی اور وصیت سے ورثہ بٹتا تھا، ورثے کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے، پھر وصیت منسوخ ہو گئی ورثے کے احکام اترے اور لوگوں نے ان پر عمل درآمد شروع کر دیا، پھر یہ بھی کہ ان دونوں غیر مسلموں کو وصی بنایا جائے گا یا گواہ؟

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ یہ حکم اس شخص کے بارے میں ہے جو سفر میں ہو اور وہیں اجل آ جائے اور مال اس کے پاس ہو پس اگر دو مسلمان اسے مل جائیں تو انہیں اپنا مال سونپ دے اور دو گواہ مسلمان مقرر کر لے، اس قول کے مطابق تو یہ دونوں وصی ہوئے، دوسرا قول یہ ہے کہ یہ دونوں گواہ ہوں گے، آیت کے الفاظ کا ظاہر مطلب بھی یہی معلوم ہوتا ہے، ہاں جس صورت میں ان کے ساتھ اور گواہ نہ ہوں تو یہی وصی ہوں گے اور یہی گواہ بھی ہوں گے امام ابن جریررحمة الله نے ایک مشکل اس میں یہ بیان کی ہے کہ شریعت کے کسی حکم میں گواہ پر قسم نہیں۔ لیکن ہم کہتے ہیں یہ ایک حکم ہے جو مستقل طور پر بالکل علیحدہ صورت میں ہے اور احکام کا قیاس اس پر جاری نہیں ہے، یہ ایک خاص شہادت خاص موقعہ کی ہے اس میں اور بھی بہت سی ایسی باتیں جو دوسرے احکام میں نہیں۔ پس شک کے قرینے کے وقت اس آیت کے حکم کے مطابق ان گواہوں پر قسم لازم آتی ہے۔

صفحہ نمبر2492

” نماز کے بعد ٹھہرا لو “ سے مطلب نماز عصر کے بعد ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ نماز سے مراد مسلمانوں کی نماز ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ ان کے مذہب کی نماز، مقصود یہ ہے کہ انہیں نماز کے بعد لوگوں کی موجودگی میں کھڑا کیا جائے اور اگر خیانت کا شک ہو تو ان سے قسم اٹھوائی جائے وہ کہیں کہ اللہ کی قسم ہم اپنی قسموں کو کسی قیمت بیچنا نہیں چاہتے۔

دنیوی مفاد کی بناء پر جھوٹی قسم نہیں کھاتے چاہے ہماری قسم سے کسی ہمارے قریبی رشتہ دار کو نقصان پہنچ جائے تو پہنچ جائے لیکن ہم جھوٹی قسم نہیں کھائیں گے اور نہ ہم سچی گواہی چھپائیں گے۔ اس گواہی کی نسبت اللہ کی طرف اس کی عزت و عظمت کے اظہار کیلئے ہے بعض نے اسے قسم کی بنا پر مجرور پڑھا ہے لیکن مشہور قرأت پہلی ہی ہے وہ ساتھ ہی یہ بھی کہیں کہ اگر ہم شہادت کو بدلیں یا الٹ پلٹ کریں یا کچھ حصہ چھپالیں تو ہم بھی گنہگار۔

صفحہ نمبر2493
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است