وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۷:۶۲
ولا يتمنونه ابدا بما قدمت ايديهم والله عليم بالظالمين ٧
وَلَا يَتَمَنَّوْنَهُۥٓ أَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِٱلظَّـٰلِمِينَ ٧
وَلَا
يَتَمَنَّوۡنَهُۥٓ
أَبَدَۢا
بِمَا
قَدَّمَتۡ
أَيۡدِيهِمۡۚ
وَٱللَّهُ
عَلِيمُۢ
بِٱلظَّٰلِمِينَ
٧
ولی آن‌ها به خاطر آنچه از پیش فرستاده‌اند هرگز آن آرزو را نخواهند کرد، و الله ستمکاران را خوب می‌شناسد.
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط

آیت 7{ وَلَا یَتَمَنَّوْنَہٗ اَبَدًام بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ } ”اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہرگز کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے اپنے ان اعمال کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں۔“ { وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بِالظّٰلِمِیْنَ۔ } ”اور اللہ ان ظالموں سے خوب واقف ہے۔“ اللہ تعالیٰ کے فرمان : { بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ۔ } القیامۃ کے مصداق یہ لوگ اپنے کرتوتوں کو خوب جانتے ہیں۔ اس لیے یہ نہیں چاہتے کہ انہیں موت آئے اور وہ اپنی بداعمالیوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہوں۔ ہم مسلمانوں کے لیے بنی اسرائیل سے متعلق ان آیات کی حیثیت ایک آئینے کی سی ہے۔ اس آئینے میں اگر ہم اپنی تصویر دیکھیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ یہ زعم صرف بنی اسرائیل میں ہی نہیں پایاجاتا تھا بلکہ آج ہم مسلمانوں کی اکثریت بھی اسی سوچ کی حامل ہے اور اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ جب اللہ کی کتاب سے ہمارا ذہنی و قلبی رشتہ نہ رہا تو اپنی تسلی کے لیے ہمیں خود ساختہ خوش فہمیوں wishful thinkings کا سہارالینا پڑا۔ ان میں سب سے بڑی اور سب سے موثر خوش فہمی تویہی ہے کہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب ہے ‘ ہم اللہ کے محبوب ترین نبی حضرت محمد ﷺ کی امت ہیں اور اس رشتے سے اللہ کے بہت ہی لاڈلے اور چہیتے ہیں۔ چناچہ ہم جیسے بھی گناہگار سہی ‘ آخرت میں ہمارے نبی ﷺ یقینا ہماری شفاعت کریں گے اور دوزخ سے ہماری خلاصی کو یقینی بنائیں گے۔ اگر خدانخواستہ ہم میں سے کوئی فرد کسی بڑے جرم میں پکڑا بھی گیا تو اسے بھی بہت جلد دوزخ سے نکال کر جنت میں پہنچا دیا جائے گا۔ ہمارے ہاں یہ خوش فہمیاں پختہ ہو کر باقاعدہ عقائد کی شکل اختیار کرچکی ہیں۔ اب ایسی ضمانتوں کے ہوتے ہوئے بھلا کون احمق ہوگا جو نیک اعمال کے لیے مشقتیں اٹھائے اور رشوت ‘ چور بازاری اور دوسری حرام کاریوں سے اجتناب کرتا پھرے : ؎خبر نہیں کیا ہے نام اس کا ‘ خدا فریبی کہ خود فریبی ؟ عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ !اقبال کا یہ شعر اس حوالے سے آج ہم پر ہوبہو صادق آتا ہے۔ پہلے تو ”مسلمان“ کے پاس عمل سے بچنے کے لیے صرف تقدیر کا بہانہ تھا ‘ اب ہم نے مذکورہ بالا عقائد کی صورت میں بہت مضبوط سہارا بھی تلاش کرلیا ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است