وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۱۱:۶۳
ولن يوخر الله نفسا اذا جاء اجلها والله خبير بما تعملون ١١
وَلَن يُؤَخِّرَ ٱللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَآءَ أَجَلُهَا ۚ وَٱللَّهُ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ ١١
وَلَن
يُؤَخِّرَ
ٱللَّهُ
نَفۡسًا
إِذَا
جَآءَ
أَجَلُهَاۚ
وَٱللَّهُ
خَبِيرُۢ
بِمَا
تَعۡمَلُونَ
١١
و الله هرگز (مرگ) کسی را هنگامی‌که اجلش فرا رسد به تأخیر نمی‌اندازد، و الله به آنچه می‌کنید آگاه است.
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 63:10 تا 63:11
موت کے وقت خواہش اعمال ٭٭

اس آیت میں تو کافروں کی مذمت کا ذکر ہے، دوسری آیت میں نیک عمل میں کمی کرنے والوں کے افسوس کا بیان اس طرح ہوا ہے، «حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدهمْ الْمَوْت قَالَ رَبّ اِرْجِعُونِ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْت كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ» [23-المؤمنون:99-100] ‏ یعنی ” جب ان میں سے کسی کو موت آنے لگتی ہے، تو کہتا ہے، میرے رب! مجھے لوٹا دے، تو میں نیک اعمال کر لوں “۔

یہاں فرماتا ہے ” موت کا وقت آگے پیچھے نہیں ہوتا، اللہ خود خبر رکھنے والا ہے کہ کون اپنے قول میں صادق ہے اور اپنے سوال میں حق بجانب ہے یہ لوگ تو اگر لوٹائے جائیں تو پھر ان باتوں کو بھول جائیں گے اور وہی کچھ کرنے لگ جائیں گے جو اس سے پہلے کرتے رہے “۔ ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہر وہ شخص جو مالدار ہو اور اس نے حج نہ کیا ہو یا زکوٰۃ نہ دی ہو وہ موت کے وقت دنیا میں واپس لوٹنے کی آرزو کرتا ہے، ایک شخص نے کہا: اللہ کا خوف کیجئے واپسی کی آرزو تو کافر کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: جلدی کیوں کرتے ہو؟ سنو! قرآن فرماتا ہے: پھر آپ نے یہ پورا رکوع تلاوت کر سنایا اس نے پوچھا: زکوٰۃ کتنے میں واجب ہے فرمایا: دو سو اور اس سے زیادہ میں، پوچھا: حج کب فرض ہو جاتا ہے، فرمایا: جب راہ خرچ اور سواری خرچ کی طاقت ہو۔ [سنن ترمذي:3316،قال الشيخ الألباني:-ضعیف] ‏

ایک مرفوع روایت بھی اسی طرح مروی ہے لیکن موقوف ہی زیادہ صحیح ہے، ضحاک رحمہ اللہ کی روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما والی بھی منقطع ہے، دسری سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے وہ بھی ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے زیادتی عمر کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اجل آ جائے پھر مؤخر نہیں ہوتی، زیادتی عمر صرف اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کو نیک صالح اولاد دے، جو اس کے لیے اس کے مرنے کے بعد دعا کرتی رہے اور دعا اسے اس کی قبر میں پہنچتی رہے“ ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:اسنادہ موضوع] ‏

اللہ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے سورۃ المنافقون کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فَالْحَمْدُ لِلَّـهِ»

صفحہ نمبر9535
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است