وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۲۲:۶
ويوم نحشرهم جميعا ثم نقول للذين اشركوا اين شركاوكم الذين كنتم تزعمون ٢٢
وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًۭا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوٓا۟ أَيْنَ شُرَكَآؤُكُمُ ٱلَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ ٢٢
وَيَوۡمَ
نَحۡشُرُهُمۡ
جَمِيعٗا
ثُمَّ
نَقُولُ
لِلَّذِينَ
أَشۡرَكُوٓاْ
أَيۡنَ
شُرَكَآؤُكُمُ
ٱلَّذِينَ
كُنتُمۡ
تَزۡعُمُونَ
٢٢
و روزی‌که همه آن‌ها را گرد آوریم، سپس به کسانی‌که شرک ورزیده‌اند؛ می‌گوییم: «معبودهایی که آن‌ها را شریک الله می‌پنداشتید؛ کجا هستند؟»
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 6:22 تا 6:26
قیامت کے دن مشرکوں کا حشر ٭٭

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا حشر اپنے سامنے کرے گا پھر جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی پرستش کرتے تھے انہیں لا جواب شرمندہ اور بے دلیل کرنے کے لیے ان سے فرمائے گا کہ ” جن جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے رہے آج وہ کہاں ہیں؟ “ سورۃ قصص کی آیت «وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ» [28-القصص:62] ‏ میں بھی یہ موجود ہے۔

اس کے بعد کی آیت میں جو لفظ «فِتْنَتُهُمْ» ہے اس کا مطلب فتنہ سے مراد حجت و دلیل، عذرو معذرت، ابتلا اور جواب ہے۔

صفحہ نمبر2557

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کسی نے مشرکین کے اس انکار شرک کی بابت سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”ایک وقت یہ ہوگا کہ اللہ سے کوئی بات چھپائیں گے نہیں۔‏“ پس ان دونوں آیتوں میں کوئی تعارض و اختلاف نہیں جب مشرکین دیکھیں گے کہ موحد نمازی جنت میں جانے لگے تو کہیں گے آؤ ہم بھی اپنے مشرک ہونے کا انکار کر دیں، اس انکار کے بعد ان کی زبانیں بند کر دی جائیں گی اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہیاں دینے لگیں گے تو اب کوئی بات اللہ سے نہ چھپائیں گے۔

یہ توجہیہ بیان فرما کر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اب تو تیرے دل میں کوئی شک نہیں رہا؟ سنو بات یہ ہے کہ قرآن میں ایسی چیزوں کا دوسری جگہ بیان و توجیہ موجود ہے لیکن بے علمی کی وجہ سے لوگوں کی نگاہیں وہاں تک نہیں پہنچتیں۔‏“

یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیت منافقوں کے بارے میں ہے۔ لیکن یہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ آیت مکی ہے اور منافقوں کا وجود مکہ شریف میں تھا ہی نہیں۔ ہاں منافقوں کے بارے میں آیت «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰي شَيْءٍ اَلَآ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ» [58-المجادلة:18] ‏ ہے۔ دیکھ لو کہ کس طرح انہوں نے خود اپنے اوپر جھوٹ بولا؟ اور جن جھوٹے معبودوں کا افترا انہوں نے کر رکھا تھا کیسے ان سے خالی ہاتھ ہوگئے؟

چنانچہ دوسری جگہ ہے کہ «ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا» [40-غافر:73،74] ‏ ” جب ان سے یہ سوال ہوگا خود یہ کہیں گے «ضَلُّوا عَنَّا» وہ سب آج ہم سے دور ہوگئے “۔

صفحہ نمبر2558

پھر فرماتا ہے ” بعض ان میں وہ بھی ہیں جو قرآن سننے کو تیرے پاس آتے ہیں لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ان کے دلوں پر پردے ہیں وہ سمجھتے ہی نہیں ان کے کان انہیں یہ مبارک آوازیں اس طرح سناتے ہی نہیں کہ یہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور احکام قرآنی کو قبول کریں “۔

جیسے اور جگہ ہے «وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا وَّهُم مُّعْرِضُونَ» [8-الأنفال:23] ‏ ان کی مثال ان چوپائے جانوروں سے دی گئی جو اپنے چروا ہے کی آواز تو سنتے ہیں لیکن مطلب خاک نہیں سمجھتے، یہ وہ لوگ ہیں جو بکثرت دلائل و براہن اور معجزات اور نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان قبول نہیں کرتے، ان ازلی بد قسمتوں کے نصیب میں ایمان ہے ہی نہیں، یہ بے انصاف ہونے کے ساتھ ہی بے سمجھ بھی ہیں۔ اگر اب ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں سننے کی توفیق کے ساتھ ہی توفیق عمل و قبول بھی مرحمت فرماتا، ہاں انہیں اگر سوجھتی ہے تو یہ کہ اپنے باطل کے ساتھ تیرے حق کو دبا دیں تجھ سے جھگڑتے ہیں اور صاف کہہ جاتے ہیں کہ یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں جو پہلی کتابوں سے نقل کر لیے گئے ہیں۔

صفحہ نمبر2559

اس کے بعد کی آیت کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ” یہ کفار خود بھی ایمان نہیں لاتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایمان لانے سے روکتے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برحق جانتے ہیں اور خود حق کو قبول نہیں کرتے “۔

جیسے کہ ابوطالب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی حمایتی تھا لیکن ایمان نصیب نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس چچا تھے جو اعلانیہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے لیکن خفیہ مخالف تھے۔ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل وغیرہ سے روکتے تھے لیکن خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے دور ہوتے جاتے تھے۔ افسوس اس اپنے فعل سے خود اپنے ہی تئیں غارت کرتے تھے لیکن جانتے ہی نہ تھے کہ اس کرتوت کا وبال ہمیں ہی پڑ رہا ہے۔

صفحہ نمبر2560
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است