وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۷۶:۶
فلما جن عليه الليل راى كوكبا قال هاذا ربي فلما افل قال لا احب الافلين ٧٦
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ ٱلَّيْلُ رَءَا كَوْكَبًۭا ۖ قَالَ هَـٰذَا رَبِّى ۖ فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَآ أُحِبُّ ٱلْـَٔافِلِينَ ٧٦
فَلَمَّا
جَنَّ
عَلَيۡهِ
ٱلَّيۡلُ
رَءَا
كَوۡكَبٗاۖ
قَالَ
هَٰذَا
رَبِّيۖ
فَلَمَّآ
أَفَلَ
قَالَ
لَآ
أُحِبُّ
ٱلۡأٓفِلِينَ
٧٦
پس هنگامی‌که (تاریکی) شب او را پوشانید، ستاره‌ای دید، گفت: «این پروردگار من است» و چون غروب کرد؛ گفت: «غروب کنندگان را دوست ندارم».
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 6:74 تا 6:79

حضرت ابراہیم کی کہانی جو یہاں بیان ہوئی ہے وہ تلاش حق کی کہانی نہیں ہے بلکہ مشاہدۂ حق کی کہانی ہے۔ حضرت ابراہیم چار ہزار سال پہلے عراق میں ایسے ماحول میں پیداہوئے جہاں سورج، چاند، اور تاروں کی پرستش ہورهي تھی۔ تاہم فطرت کی رہنمائی اور اللہ کی خصوصی مدد نے آنجناب کو شرک سے محفوظ رکھا۔ آپ کی بیدار نگاہیں کائنات کے پھیلے ہوئے شواہد میں توحید کے کھلے ہوئے دلائل دیکھتیں، کائنات کے آئینہ میں ہر طرف آپ کو ایک خدا کا چہرہ نظر آتا تھا۔ آپ قوم کی حالت پر افسوس کرتے اور لوگوں کو بتاتے کہ کھلے ہوئے حقائق کے باوجود کیوں تم لوگ اندھے بنے ہوئے ہو۔

رات کا وقت ہے۔ حضرت ابراہیم آسمان میں خدائے واحد کی نشانیاں دیکھ رہے ہیں۔ اسی عالم میں سیارہ زہرہ چمکتاہوا ان کے سامنے آتاہے جس کو ان کی قوم معبود سمجھ کر پوجتی تھی۔ ان کے دل میں بطور سوال نہیں بلکہ بطور استعجاب یہ خیال آتا ہے کہ کیا یہی وہ چیز ہے جو میرا رب ہو، یہی وہ معبود ہے جس کی ہمیں پرستش کرنی چاہیے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کو اپنے سامنے ڈوبتا ہوا دیکھتے ہیں تو اس کا ڈوبنا ان کے لیے اپنے عقیدہ کے صحیح ہونے کی ایک مشاہداتی دلیل بن جاتی ہے۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ جو چیز ایک لمحہ کے لیے چمکے اور پھر غائب ہوجائے وہ کیسے اس قابل ہوسکتی ہے کہ اس کو پوجا جائے۔ بالکل یہی تجربہ ان کو چاند اور سورج کے ساتھ بھی گزرتا ہے۔ ہر ایک چمک کر تھوڑی دیر کے لیے استعجاب پیدا کرتا ہے اور پھر ڈوب جاتا ہے۔ یہ فلکیاتی مشاہدات جو ان کے اپنے لیے توحید کی کھلی ہوئی تصدیق تھے اسی کو وہ قوم کے سامنے اپنی تبلیغ میں بطور استدلال پیش کرتے ہیں اور انداز کلام وہ اختیار کرتے ہیں جس کو اصطلاح میں حجت الزامی کہاجاتاہے، یعنی مخاطب کے الفاظ کو دہرا کر پھر اسے قائل کرنا۔ حجت الزامی کا یہ طریقہ قرآن میں دوسرے مقامات پر بھی مذکور ہواہے۔ مثلاً وَانْظُرْ إِلَى إِلَهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا ( 20:97 )۔ یعنی، اور تو اپنے اس معبود کو دیکھ جس پر تو برابر معتکف رہتا تھا۔

کائنات میں خدا کی جو تخلیقی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ کسی بندہ کے لیے اضافہ ایمان کا ذریعہ بھی ہیں اور انھیں سے دعوت حق کے لیے مضبوط دلائل بھی حاصل ہوتے ہیں۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است