وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۲۴:۷۹
فقال انا ربكم الاعلى ٢٤
فَقَالَ أَنَا۠ رَبُّكُمُ ٱلْأَعْلَىٰ ٢٤
فَقَالَ
أَنَا۠
رَبُّكُمُ
ٱلۡأَعۡلَىٰ
٢٤
و آنگاه گفت: «من پروردگار برتر شما هستم».
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط

آیت 24{ فَقَالَ اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی۔ } ”پس کہا کہ میں ہوں تمہارا سب سے بڑا ربّ !“ ظاہر ہے فرعون نے خود کو ”ربّ“ اس معنی میں نہیں کہا تھا کہ وہ اس کائنات کا یا اپنے ملک کے لوگوں کا خالق ہے ‘ بلکہ وہ تو خود باطل معبودوں کو پوجتا تھا سورة الاعراف کی آیت 127 سے ثابت ہوتا ہے کہ فرعون اور اس کی قوم کے لوگوں نے پوجا پاٹ کے لیے اپنے کچھ معبود بھی بنا رکھے تھے۔ پھر اس کی رعیت میں بہت سے بڑے بوڑھے لوگ ایسے بھی ہوں گے جن کے سامنے وہ پیدا ہوا ہوگا اور جنہوں نے اس کا بچپن بھی دیکھا ہوگا۔ گویا اسے خود بھی معلوم تھا اور اس کی رعیت کے تمام لوگ بھی جانتے تھے کہ وہ عام انسانوں کی طرح پیدا ہوا ہے اور بحیثیت انسان وہ دوسرے عام انسانوں جیسا ہی ہے۔ چناچہ اس کا مذکورہ دعویٰ دراصل حکومت اوراقتدارِ اعلیٰ کے مالک ہونے کا دعویٰ تھا۔ اپنے اس دعوے کی مزید وضاحت اس نے ان الفاظ میں کی تھی : { یٰـــقَوْمِ اَلَـیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ وَہٰذِہِ الْاَنْہٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْج } الزخرف : 51 ”اے میری قوم کے لوگو ! کیا مصر کی حکومت میری نہیں ہے ؟ اور کیا یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں ؟“ کہ دیکھو اس پورے ملک پر میرا حکم چلتا ہے ‘ پورے ملک کا نہری نظام بھی میرے تابع ہے ‘ میں جسے جو چاہوں عطا کروں اور جسے چاہوں محروم رکھوں ‘ میں مطلق اختیار اور اقتدار کا مالک ہوں۔ یہ تھا اس کا اصل دعویٰ اور یہی دعویٰ اپنے زمانے میں نمرود کا بھی تھا۔ یہ دعویٰ دراصل اللہ تعالیٰ کے اقتدار و اختیار کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے اور اس لحاظ سے بہت بڑا شرک ہے۔ آج بدقسمتی سے یہ سیاسی شرک ”عوام کی حکومت“ کے لیبل کے ساتھ پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ نمرودی اور فرعونی دور میں تو شرک کی گندگی کا یہ ٹوکرا کوئی ایک شخص اٹھائے پھرتا تھا ‘ یعنی ”حاکمیت“ کا دعوے دار کوئی ایک شخص ہوا کرتا تھا ‘ جبکہ آج اس گندگی کو تولوں اور ماشوں میں بانٹ کر ملک کے ہر شہری کو اس میں حصہ دار بنا دیا گیا ہے۔ ”جدید دور“ میں اس سیاسی شرک کو نئے بھیس میں متعارف کرانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ اس کی تعبیر علامہ اقبال نے اپنی نظم ”ابلیس کی مجلس شوریٰ“ میں ابلیس کی زبان سے اس طرح کی ہے : ؎ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است