آیت 12 اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الْمَلآءِکَۃِ اَنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ط۔وہی ایک ہزار فرشتے جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے ‘ انہیں میدان جنگ میں مسلمانوں کے شانہ بشانہ رہنے کی ہدایت کا تذکرہ ہے۔سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْہُمْ کُلَّ بَنَانٍ اللہ تعالیٰ نے کفار کو بھر پور مقابلے کے دوران دہشت زدہ کردیا تھا اور جب کوئی شخص اپنے حریف کے مقابلے میں دہشت زدہ ہوجائے تو اس کے اندر قوت مدافعت نہیں رہتی۔ پھر وہ گویا حملہ آور کے رحم وکرم پر ہوتا ہے ‘ وہ جدھر سے چاہے اسے چوٹ لگائے ‘ جدھر سے چاہے اسے مارے۔