وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۶۷:۸
ما كان لنبي ان يكون له اسرى حتى يثخن في الارض تريدون عرض الدنيا والله يريد الاخرة والله عزيز حكيم ٦٧
مَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَن يَكُونَ لَهُۥٓ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ ٱلدُّنْيَا وَٱللَّهُ يُرِيدُ ٱلْـَٔاخِرَةَ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ ٦٧
مَا
كَانَ
لِنَبِيٍّ
أَن
يَكُونَ
لَهُۥٓ
أَسۡرَىٰ
حَتَّىٰ
يُثۡخِنَ
فِي
ٱلۡأَرۡضِۚ
تُرِيدُونَ
عَرَضَ
ٱلدُّنۡيَا
وَٱللَّهُ
يُرِيدُ
ٱلۡأٓخِرَةَۗ
وَٱللَّهُ
عَزِيزٌ
حَكِيمٞ
٦٧
هیچ پیامبری را سزاوار نیست که اسیرانی داشته باشد؛ تا آنکه در زمین کشتار بسیار کند، شما (با گرفتن فدیه از اسیران) متاع دنیا را می‌خواهید، و الله (سرای) آخرت را (برای شما) می‌خواهد، و الله پیروزمند حکیم است.
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط

آیت 67 مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ ط۔یہ آیت غزوۂ بدر میں پکڑے جانے والے قیدیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ غزوۂ بدر میں قریش کے ستر لوگ قیدی بنے۔ ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رض سے مشاورت کی۔ حضرت ابوبکر رض کی رائے تھی کہ ان لوگوں کے ساتھ نرمی کی جائے اور فدیہ وغیرہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے۔ خود حضور ﷺ چونکہ رؤف و رحیم اور رقیق القلب تھے اس لیے آپ ﷺ کی بھی یہی رائے تھی۔ مگر حضرت عمر رض اس اعتبار سے بہت سخت گیر تھے اَشَدُّ ھُمْ فِی اَمْرِ اللّٰہِ عُمَرِ ۔ آپ رض کی رائے یہ تھی کہ یہ لوگ آزاد ہو کر پھر کفر کے لیے تقویت کا باعث بنیں گے ‘ اس لیے جب تک کفر کی کمر پوری طرح ٹوٹ نہیں جاتی ان کے ساتھ نرمی نہ کی جائے۔ آپ رض کا اصرار تھا کہ تمام قیدیوں کو قتل کردیا جائے ‘ بلکہ مہاجرین اپنے قریب ترین عزیزوں کو خود اپنے ہاتھوں سے قتل کریں۔ بعد میں ان قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنے کا فیصلہ ہوا اور اس پر عمل درآمد بھی ہوگیا۔ اس فیصلے پر اس آیت کے ذریعے گرفت ہوئی کہ جب تک باطل کی کمر پوری طرح سے توڑ نہ دی جائے اس وقت تک حملہ آور کفار کو جنگی قیدی بنانا درست نہیں۔ انہیں قیدی بنانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ زندہ رہیں گے ‘ اور آج نہیں تو کل انہیں چھوڑنا ہی پڑے گا۔ لہٰذا وہ پھر سے باطل کی طاقت کا سبب بنیں گے اور پھر سے تمہارے خلاف لڑیں گے۔ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَاق یہ فدیے کی طرف اشارہ ہے۔ اب نہ تو رسول اللہ ﷺ کی یہ نیت ہوسکتی تھی معاذ اللہ اور نہ ہی حضرت ابوبکر رض کی ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کا معاملہ ایسا ہے کہ اس کے ہاں جب اپنے مقرب بندوں کی گرفت ہوتی ہے تو الفاظ بظاہر بہت سخت استعمال کیے جاتے ہیں۔ چناچہ ان الفاظ میں بھی ایک طرح کی سختی موجود ہے ‘ لیکن ظاہر ہے کہ یہ بات نہ حضور ﷺ کے لیے ہے اور نہ حضرت ابوبکر رض کے لیے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است