وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۷۳:۸
والذين كفروا بعضهم اولياء بعض الا تفعلوه تكن فتنة في الارض وفساد كبير ٧٣
وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُن فِتْنَةٌۭ فِى ٱلْأَرْضِ وَفَسَادٌۭ كَبِيرٌۭ ٧٣
وَٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
بَعۡضُهُمۡ
أَوۡلِيَآءُ
بَعۡضٍۚ
إِلَّا
تَفۡعَلُوهُ
تَكُن
فِتۡنَةٞ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
وَفَسَادٞ
كَبِيرٞ
٧٣
و کسانی‌که کافر شدند، دوستدار (و یاور) یکدیگرند، اگر (شما ای مؤمنان این کار را) نکنید، فتنه و فسادی بزرگ در زمین بر پا خواهد شد.
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
دو مختلف مذاہب والے آپس میں دوست نہیں ہو سکتے ٭٭

اوپر مومنوں کے کارنامے اور رفاقت و ولایت کا ذکر ہوا اب یہاں کافروں کی نسبت بھی بیان فرما کر کافروں اور مومنوں میں سے دوستانہ کاٹ دیا۔ مستدرک حاکم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دو مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے نہ مسلمان کافر کا وارث اور نہ کافر مسلمان کا وارث پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [مستدرک حاکم:240/2:صحیح] ‏

بخاری و مسلم میں بھی ہے مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا۔ [صحیح بخاری:6864] ‏

سنن وغیرہ میں ہے دو مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں۔ [سنن ابوداود:2911،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اسے امام ترمذی رحمہ اللہ حسن کہتے ہیں۔

ابن جریر میں ہے کہ ایک نئے مسلمان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عہد لیا کہ نماز قائم رکھنا، زکوٰۃ دینا، بیت اللہ شریف کا حج کرنا، رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور جب اور جہاں شرک کی آگ بھڑک اٹھے تو اپنے آپ کو ان کا مقابل اور ان سے برسر جنگ سمجھنا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16353:صحیح بالشواھد] ‏۔ یہ روایت مرسل ہے

صفحہ نمبر3379

اور مفصل روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکین میں ٹھہرا رہے۔ کیا وہ دونوں جگہ لگی ہوئی آگ نہیں دیکھتا؟ [سنن ابوداود:2645،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ابوداؤد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو مشرکوں سے خلا ملا رکھے اور ان میں ٹھہرا رہے وہ انہی جیسا ہے۔ [سنن ابوداود:2787،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ابن مردویہ میں ہے اللہ کے رسول رسولوں کے سرتاج محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تمہارے پاس وہ آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم رضامند ہو تو اس کے نکاح میں دے دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ملک میں زبردست فتنہ فساد برپا ہو گا۔ لوگوں نے دریافت کیا کہ یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ چاہے وہ انہیں میں رہتا ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: جب تمہارے پاس کسی ایسے شخص کی طرف سے پیغام نکاح آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم خوش ہو تو اس کا نکاح کر دو تین بار یہی فرمایا۔ [سنن ترمذي:1084،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

آیت کے ان الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ ” اگر تم نے مشرکوں سے علیحدگی اختیار نہ کی اور ایمان داروں سے دوستیاں نہ رکھیں تو ایک فتنہ برپا ہو جائے گا۔ یہ اختلاط برے نتیجے دکھائے گا لوگوں میں زبردست فساد برپا ہو جائے گا۔“

صفحہ نمبر3380
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است