وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۱۰:۹۲
فسنيسره للعسرى ١٠
فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلْعُسْرَىٰ ١٠
فَسَنُيَسِّرُهُۥ
لِلۡعُسۡرَىٰ
١٠
پس به‌زودی او را به (راه) دشوار سوق می‌دهیم.
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 92:10 تا 92:11

آیت 10{ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰی۔ } ”تو اس کو ہم رفتہ رفتہ مشکل منزل جہنم تک پہنچا دیں گے۔“ یہ ہیں انسانی کوشش اور مشقت کے دو رخ۔ گویا پہلی تین شرائط کو اپنانے کا راستہ صدیقین اور شہداء کا راستہ ہے۔ اگر کسی نے کوشش کی لیکن وہ مذکورہ تینوں شرائط کو کماحقہ پورا نہ کرسکا تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی کوشش اور اخلاص کے مطابق ہوگا۔ لیکن جس بدقسمت شخص کی کوشش اور محنت میں ان تینوں اوصاف کا فقدان ہوا اور وہ ان کے مقابلے میں عمر بھر دوسرے راستے بخل ‘ استغناء اور تکذیب پر گامزن رہا ‘ ظاہر ہے اس کا شمار ان بدترین لوگوں کے گروہ میں ہوگا جس کے سرغنہ ابولہب اور ابوجہل ہیں۔ یہاں ضمنی طور پر یہ بھی جان لیجیے کہ ابوجہل کے مقابلے میں ابولہب کا کردار کہیں زیادہ گھٹیا اور مذموم تھا ‘ بلکہ قرآن مجید نے جس انداز میں اس کی مذمت کی ہے اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے گروہ کا بدترین فرد تھا۔ بزدلی ‘ بخیلی اور حد سے بڑھی ہوئی خود غرضی اس کے کردار کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ اس کے بخل اور مال کو سینت سینت کر رکھنے کا ذکر سورة اللہب میں بھی آیا ہے۔ اس کی بزدلی اور خودغرضی کا پول اس وقت کھلا جب اس کے سامنے اپنے ”دین“ کے لیے جنگ کرنے کا مرحلہ آیا ‘ اس وقت اس نے اپنی جگہ کرائے کے دو سپاہیوں کو لڑنے کے لیے بھیج دیا۔ اس کے مقابلے میں ابوجہل صاف گو ‘ بہادر اور اپنے نظریے پر مرمٹنے والا شخص تھا۔ چناچہ اس نے اپنے باطل دین کی خاطر بڑے فخر سے گردن کٹوائی۔ انگریزی کی مثل ہے : " give the devil his due" یعنی شیطان کے کردار میں بھی اگر کوئی مثبت خصوصیت ہو تو اس کے اعتراف میں کوئی حرج نہیں۔ ظاہر ہے اس کی شخصیت میں آخر کوئی تو خوبی تھی جس کی بنا پر حضور ﷺ نے اپنی خصوصی دعا میں اسے اور حضرت عمر رض کو ایک ہی پلڑے میں رکھا تھا۔ حضور ﷺ نے تو ان دونوں شخصیات کے لیے برابر کی دعا کی تھی کہ اے اللہ ! عمر بن الخطاب اور عمرو بن ہشام میں سے کسی ایک کو میری جھولی میں ڈال دے ! حضور ﷺ کی اس دعا کی روشنی میں تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اگر ابوجہل ایمان لے آتا تو وہ حضرت عمر رض کے پائے کا مسلمان ہوتا ‘ نہ کہ عبداللہ بن ابی کے کردار والا مسلمان۔ بہرحال ان آیات میں انسان کی کامیابی اور ناکامی کے معیار اور اوصاف کی واضح طور پر نشاندہی کردی گئی ہے۔ جو انسان اپنی سیرت و شخصیت کی بنیاد پہلے تین اوصاف بحوالہ آیت 5 اور 6 پر رکھے گا وہ ان شاء اللہ کامیابی سے ہمکنار ہوگا اور جو آخری تین اوصاف بحوالہ آیت 8 اور 9 کا انتخاب کرے گا وہ بدترین خلائق قرارپائے گا۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است