وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۱۸:۹
انما يعمر مساجد الله من امن بالله واليوم الاخر واقام الصلاة واتى الزكاة ولم يخش الا الله فعسى اولايك ان يكونوا من المهتدين ١٨
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَـٰجِدَ ٱللَّهِ مَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ وَأَقَامَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَى ٱلزَّكَوٰةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا ٱللَّهَ ۖ فَعَسَىٰٓ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَن يَكُونُوا۟ مِنَ ٱلْمُهْتَدِينَ ١٨
إِنَّمَا
يَعۡمُرُ
مَسَٰجِدَ
ٱللَّهِ
مَنۡ
ءَامَنَ
بِٱللَّهِ
وَٱلۡيَوۡمِ
ٱلۡأٓخِرِ
وَأَقَامَ
ٱلصَّلَوٰةَ
وَءَاتَى
ٱلزَّكَوٰةَ
وَلَمۡ
يَخۡشَ
إِلَّا
ٱللَّهَۖ
فَعَسَىٰٓ
أُوْلَٰٓئِكَ
أَن
يَكُونُواْ
مِنَ
ٱلۡمُهۡتَدِينَ
١٨
مساجد الله را فقط کسی آباد می‌کند که به الله و روز آخرت ایمان آورده، و نماز را بر پا دارد، و زکات را بدهد، و جز از الله نترسد، امید است که اینان از هدایت‌یافتگان باشند.
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 9:17 تا 9:18
مشرکوں کو اللہ کے گھر سے کیا تعلق؟ ٭٭

یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی کرنے والے بننا لائق ہی نہیں یہ مشرک ہیں بیت اللہ سے انہیں کیا تعلق؟ «مساجد» کو «مسجد» بھی پڑھا گیا ہے پس مراد مسجد الحرام ہے جو روئے زمین کی مسجدوں سے اشرف ہے جو اول دن سے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنائی گئی ہے جس کی بنیادیں خلیل اللہ نے رکھیں تھیں۔

اور یہ لوگ مشرک ہیں حال و قال دونوں اعتبار سے۔ تم نصرانی سے پوچھو وہ صاف کہے گا میں تو نصرانی ہوں۔ یہود سے پوچھو وہ اپنی یہودیت کا اقرار کریں گے صابی سے پوچھو وہ بھی اپنا صابی ہونا اپنی زبان سے کہے گا مشرک بھی اپنے مشرک ہونے کے اقراری ہیں ان کے اس شرک کی وجہ سے ان کے اعمال اکارت ہو چکے ہیں اور وہ ہمیشہ کے لیے ناری ہیں۔ یہ تو مسجد الحرام سے اوروں کو روکتے ہی ہیں یہ گو کہیں لیکن دراصل یہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء نہیں‏ اولیاء اللہ تو وہ ہیں جو متقی ہوں لیکن اکثر لوگ علم سے کورے اور خالی ہوتے ہیں۔ ہاں مسجدوں کی آبادی مومنوں کے ہاتھوں ہوتی ہے۔ پس جس کے ہاتھ سے مسجدوں کی آبادی ہو اس کے ایمان کا قرآن گواہ ہے۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب تم کسی کو مسجد میں آنے جانے کی عادت والا دیکھو تو اس کے ایمان کی شہات دو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی“ [سنن ترمذي:2617،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اور حدیث میں ہے مسجدوں کے آباد کرنے والے اللہ والے ہیں [میزان الاعتدال:3773:ضعیف] ‏ اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مسجد والوں پر نظریں ڈال کر اپنے عذاب پوری قوم پر سے ہٹا لیتا ہے۔ [المیزان:5502:ضعیف] ‏

اور حدیث میں ہے اللہ عزوجل فرماتا ہے مجھے اپنی عزت اور اپنے جلال کی قسم! کہ میں زمین والوں کو عذاب کرنا چاہتا ہوں لیکن اپنے گھروں کے آباد کرنے والوں اور اپنی راہ میں آپس میں محبت رکھنے والوں اور صبح سحری کے وقت استغفار کرنے والوں پر نظریں ڈال کر اپنے عذاب ہٹا لیتا ہوں۔ [بیهقی فی شعب الایمان:9051:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر3412

ابن عساکر میں ہے کہ شیطان انسان کا بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا بھیڑیا ہوتا ہے کہ وہ الگ تھلگ پڑی ہوئی ادھر ادھر کی بکری کو پکڑ لے جاتا ہے پس تم پھوٹ اور اختلاف سے بچو جماعت کو اور امام کو اور مسجدوں کو لازم پکڑے رہو۔ [مسند احمد:232/5:ضعیف] ‏

اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان ہے کہ مسجدیں اس زمین پر اللہ کا گھر ہیں۔ جو یہاں آۓ اللہ تعالیٰ کا ان پر حق ہے کہ وہ ان کا احترام کریں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو نماز کی اذان سن کر پھر بھی مسجد میں آ کر باجماعت نماز نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی وہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نافرمان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ مسجدوں کی آبادی کرنے والے اللہ تعالیٰ کے اور قیامت کے ماننے والے ہی ہوتے ہیں۔ [سنن ابن ماجہ:793،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرمایا یہ نمازی ہوتے ہیں بدنی عبادت نماز کے پابند ہوتے ہیں اور مالی عبادت زکوٰۃ کے بھی ادا کرنے والے ہوتے ہیں ان کی بھلائی اپنے لیے بھی ہوتی ہے اور پھر عام مخلوق کے لیے بھی ہوتی ہے ان کے دل اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی سے ڈرتے نہیں یہی راہ یافتہ لوگ ہیں۔ موحد، ایماندار، قرآن و حدیث کے ماتحت پانچوں نمازوں کے پابند، صرف اللہ تعالیٰ کا خوف کھانے والے، اس کے سوا دوسرے کی بندگی نہ کرنے والے ہی راہ یافتہ اور کامیاب اور بامقصد ہیں۔ یہ یاد رہے کہ بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن کریم میں جہاں بھی لفظ «عَسَىٰ» وہاں یقین کے معنی میں ہے اُمید کے معنی میں نہیں مثلاً فرمان ہے «عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ‏ [17-الاسراء:79] ‏ تو مقام محمود میں پہنچانا یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شافع محشر بننا یقینی چیز ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں «عَسَىٰ» کلام اللہ میں حق و یقین کے لیے آتا ہے۔

صفحہ نمبر3413
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است