آیت 32 یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِءُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَیَاْبَی اللّٰہُ اِلَّآاَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ اس اسلوب میں یہودیوں پر ایک طرح کا طنز ہے کہ وہ خفیہ سازشوں کے ذریعے سے اس دین کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی علی الاعلان میدان میں آکر مقابلہ کرنے کی جرأت نہیں کرتے۔ اس آیت کی ترجمانی مولانا ظفر علی خان نے اپنے ایک شعر میں اس طرح کی ہے : نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا !