Se connecter
🚀 Participez à notre défi du Ramadan !
En savoir plus
🚀 Participez à notre défi du Ramadan !
En savoir plus
Se connecter
Se connecter
2:259
او كالذي مر على قرية وهي خاوية على عروشها قال انى يحيي هاذه الله بعد موتها فاماته الله ماية عام ثم بعثه قال كم لبثت قال لبثت يوما او بعض يوم قال بل لبثت ماية عام فانظر الى طعامك وشرابك لم يتسنه وانظر الى حمارك ولنجعلك اية للناس وانظر الى العظام كيف ننشزها ثم نكسوها لحما فلما تبين له قال اعلم ان الله على كل شيء قدير ٢٥٩
أَوْ كَٱلَّذِى مَرَّ عَلَىٰ قَرْيَةٍۢ وَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحْىِۦ هَـٰذِهِ ٱللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ۖ فَأَمَاتَهُ ٱللَّهُ مِا۟ئَةَ عَامٍۢ ثُمَّ بَعَثَهُۥ ۖ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ۖ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍۢ ۖ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِا۟ئَةَ عَامٍۢ فَٱنظُرْ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ ۖ وَٱنظُرْ إِلَىٰ حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ ءَايَةًۭ لِّلنَّاسِ ۖ وَٱنظُرْ إِلَى ٱلْعِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًۭا ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُۥ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ ٢٥٩
أَوۡ
كَٱلَّذِي
مَرَّ
عَلَىٰ
قَرۡيَةٖ
وَهِيَ
خَاوِيَةٌ
عَلَىٰ
عُرُوشِهَا
قَالَ
أَنَّىٰ
يُحۡيِۦ
هَٰذِهِ
ٱللَّهُ
بَعۡدَ
مَوۡتِهَاۖ
فَأَمَاتَهُ
ٱللَّهُ
مِاْئَةَ
عَامٖ
ثُمَّ
بَعَثَهُۥۖ
قَالَ
كَمۡ
لَبِثۡتَۖ
قَالَ
لَبِثۡتُ
يَوۡمًا
أَوۡ
بَعۡضَ
يَوۡمٖۖ
قَالَ
بَل
لَّبِثۡتَ
مِاْئَةَ
عَامٖ
فَٱنظُرۡ
إِلَىٰ
طَعَامِكَ
وَشَرَابِكَ
لَمۡ
يَتَسَنَّهۡۖ
وَٱنظُرۡ
إِلَىٰ
حِمَارِكَ
وَلِنَجۡعَلَكَ
ءَايَةٗ
لِّلنَّاسِۖ
وَٱنظُرۡ
إِلَى
ٱلۡعِظَامِ
كَيۡفَ
نُنشِزُهَا
ثُمَّ
نَكۡسُوهَا
لَحۡمٗاۚ
فَلَمَّا
تَبَيَّنَ
لَهُۥ
قَالَ
أَعۡلَمُ
أَنَّ
ٱللَّهَ
عَلَىٰ
كُلِّ
شَيۡءٖ
قَدِيرٞ
٢٥٩
Ou comme celui qui passait par un village désert et dévasté : "Comment Allah va-t-Il redonner la vie à celui-ci après sa mort ?" dit-il. Allah donc le fit mourir et le garda ainsi pendant cent ans. Puis Il le ressuscita en disant : "Combien de temps as-tu demeuré ainsi ?" "Je suis resté un jour, dit l’autre, ou une partie de la journée." "Non ! dit Allah, tu es resté cent ans. Regarde donc ta nourriture et ta boisson: rien ne s’est gâté; mais regarde ton âne... Et pour faire de toi un signe pour les gens, et regarde ces ossements, comment Nous les assemblons et les revêtons de chair ." Et devant l’évidence, il dit : "Je sais qu’Allah est Omnipotent ." 1
Tafsirs
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat

آیت 259 اَوْ کَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰی قَرْیَۃٍ وَّہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوْشِہَا ج تفاسیر میں اگرچہ اس واقعے کی مختلف تعبیرات ملتی ہیں ‘ لیکن یہ دراصل حضرت عزیر علیہ السلام کا واقعہ ہے جن کا گزر یروشلم شہر پر ہوا تھا جو تباہ و برباد ہوچکا تھا۔ بابل عراق کے بادشاہ بخت نصر Nebuchadnezzar نے 586 ق م میں فلسطین پر حملہ کیا تھا اور یروشلم کو تاخت و تاراج کردیا تھا۔ اس وقت بھی عراق اور اسرائیل کی آپس میں بدترین دشمنی ہے۔ یہ دشمنی درحقیقت ڈھائی ہزار سال پرانی ہے۔ بخت نصر کے حملے کے وقت یروشلم بارہ لاکھ کی آبادی کا شہر تھا۔ بخت نصر نے چھ لاکھ نفوس کو قتل کردیا اور باقی چھ لاکھ کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتا ہوا قیدی بنا کرلے گیا۔ یہ لوگ ڈیڑھ سو برس تک اسیری captivity میں رہے ہیں اور یروشلم اجڑا رہا ہے۔ وہاں کوئی متنفسّ زندہ نہیں بچا تھا۔ بخت نصر نے یروشلم کو اس طرح تباہ و برباد کیا تھا کہ کوئی دو اینٹیں سلامت نہیں چھوڑیں۔ اس نے ہیکل سلیمانی کو بھی مکمل طور پر شہید کردیا تھا۔ یہودیوں کے مطابق ہیکل کے ایک تہہ خانے میں تابوت سکینہ بھی تھا اور وہاں ان کے ربائی بھی موجود تھے۔ ہیکل مسمار ہونے پر وہیں ان کی موت واقع ہوئی اور تابوت سکینہ بھی وہیں دفن ہوگیا۔ تو جس زمانے میں یہ بستی اجڑی ہوئی تھی ‘ حضرت عزیر علیہ السلام کا ادھر سے گزر ہوا۔ انہوں نے دیکھا کہ وہاں کوئی متنفسّ زندہ نہیں اور کوئی عمارت سلامت نہیں۔ قَالَ اَنّٰی یُحْیٖ ہٰذِہِ اللّٰہُ بَعْدَ مَوْتِہَاج ان کا یہ سوال اظہار حیرت کی نوعیت کا تھا کہ اس طرح اجڑی ہوئی بستی میں دوبارہ کیسے احیا ہوسکتا ہے ؟ دوبارہ کیسے اس میں لوگ آکر آباد ہوسکتے ہیں ؟ اتنی بڑی تباہی و بربادی کہ کوئی متنفس باقی نہیں ‘ کوئی دو اینٹیں سلامت نہیں !فَاَمَاتَہُ اللّٰہُ ماءَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہٗ ط قَالَ کَمْ لَبِثْتَ ط قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ ط۔ ان کو ایسا محسوس ہوا جیسے تھوڑی دیر کے لیے سویا تھا ‘ شاید ایک دن یا دن کا کچھ حصہ میں یہاں رہا ہوں۔قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ ماءَۃَ عَامٍ اللہ تعالیٰ نے فرمایا بلکہ تم پورے سو سال اس حال میں رہے ہو فَانْظُرْ اِلٰی طَعَامِکَ وَشَرَابِکَ لَمْ یَتَسَنَّہْ ج۔ ان میں سے کوئی شے گلی سڑی نہیں ‘ ان کے اندر کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی۔وَانْظُرْ اِلٰی حِمَارِکَ حضرت عزیر علیہ السلام کی سواری کا گدھا اس عرصے میں بالکل ختم ہوچکا تھا ‘ اس کی بوسیدہ ہڈیاں ہی باقی رہ گئی تھیں ‘ گوشت گل سڑ چکا تھا۔ وَلِنَجْعَلَکَ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ یعنی اے عزیر علیہ السلام ! ہم نے تو خود تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنانا ہے ‘ اس لیے ہم تمہیں اپنی یہ نشانی دکھا رہے ہیں تاکہ تمہیں دوبارہ اٹھائے جانے پر یقین کامل حاصل ہو۔وَانْظُرْ اِلَی الْعِظَامِ کَیْفَ نُنْشِزُہَا ثُمَّ نَکْسُوْہَا لَحْمًا ط چنانچہ حضرت عزیر علیہ السلام کے دیکھتے ہی دیکھتے ان کے گدھے کی ہڈیاں جمع ہو کر اس کا ڈھانچہ کھڑا ہوگیا اور پھر اس پر گوشت بھی چڑھ گیا۔فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ لا حضرت عزیر علیہ السلام نے بچشم سر ایک مردہ جسم کے زندہ ہونے کا مشاہدہ کرلیا۔قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ انہیں یقین ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ اس اجڑی ہوئی بستی کو بھی دوبارہ آباد کرسکتا ہے ‘ اس کی آبادی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔حضرت عزیر علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی نشاۃأثانیہ Renaissance کے نقیب کی حیثیت حاصل ہے۔ بابل کی اسارت کے دوران یہود اخلاقی زوال کا شکار تھے۔ جب حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے متذکرہ بالا مشاہدات کرا دیے تو آپ علیہ السلام نے وہاں جا کر یہود کو دین کی تعلیم دی اور ان کے اندر روح دین کو بیدار کیا۔ اس کے بعد ایران کے بادشاہ کیخورس Cyrus نے جب بابل عراق پر حملہ کیا تو یہودیوں کو اسارت captivity سے نجات دی اور انہیں دوبارہ فلسطین میں جا کر آباد ہونے کی اجازت دے دی۔ اس طرح یروشلم کی تعمیر نو ہوئی اور یہ بستی 136 سال بعد دوبارہ آباد ہوئی۔ پھر یہودیوں نے وہاں ہیکل سلیمانی دوبارہ تعمیر کیا جس کو وہ معبد ثانی Second Templeکہتے ہیں۔ پھر یہ ہیکل 70 عیسوی میں رومن جنرل ٹائٹس کے ہاتھوں تباہ ہوگیا اور اب تک دوبارہ تعمیر نہیں ہوسکا۔ دو ہزار برس ہونے کو آئے ہیں کہ ان کا کعبہ زمین بوس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر کے یہودیوں کے دلوں میں آگ سی لگی ہوئی ہے اور وہ مسجد اقصیٰ کو مسمار کر کے وہاں ہیکل سلیمانی معبد ثالث تعمیر کرنے کے لیے بےتاب ہیں۔ اس کے نقشے بھی تیار ہوچکے ہیں۔ بس کسی دن کوئی ایک دھماکہ ہوگا اور خبر آجائے گی کہ کسی جنونی fanatic نے وہاں جا کر بم رکھ دیا تھا ‘ جس کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ شہید ہوگئی ہے۔ آپ کے علم میں ہوگا کہ ایک جنونی یہودی ڈاکٹر نے مسجد الخلیل میں 70 مسلمانوں کو شہید کر کے خود بھی خود کشی کرلی تھی۔ اسی طرح کوئی جنونی یہودی مسجد اقصیٰ میں بم نصب کر کے اس کو گرا دے گا اور پھر یہودی کہیں گے کہ جب مسجد مسمار ہو ہی گئی ہے تو اب ہمیں یہاں ہیکل تعمیر کرنے دیں۔ جیسے ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ہندوؤں کا موقف تھا کہ جب مسجد گر ہی گئی ہے تو اب یہاں پر ہمیں رام مندر بنانے دو ! بہرحال یہ حضرت عزیر علیہ السلام کا واقعہ تھا۔ اب اسی طرح کا ایک معاملہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مشاہدہ ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Lire, Écouter, Rechercher et Méditer sur le Coran

Quran.com est une plateforme fiable utilisée par des millions de personnes dans le monde pour lire, rechercher, écouter et méditer sur le Coran en plusieurs langues. Elle propose des traductions, des tafsirs, des récitations, des traductions mot à mot et des outils pour une étude plus approfondie, rendant le Coran accessible à tous.

En tant que Sadaqah Jariyah, Quran.com se consacre à aider les gens à se connecter profondément au Coran. Soutenu par Quran.Foundation , une organisation à but non lucratif 501(c)(3), Quran.com continue de se développer en tant que ressource gratuite et précieuse pour tous, Alhamdulillah.

Naviguer
Accueil
Quran Radio
Récitateurs
À propos de nous
Développeurs
Mises à jour du produit
Avis
Aider
Nos projets
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projets à but non lucratif détenus, gérés ou sponsorisés par Quran.Foundation
Liens populaires

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

Plan du site (sitemap)ConfidentialitéTermes et conditions
© 2026 Quran.com. Tous droits réservés