Se connecter
🚀 Participez à notre défi du Ramadan !
En savoir plus
🚀 Participez à notre défi du Ramadan !
En savoir plus
Se connecter
Se connecter
39:3
الا لله الدين الخالص والذين اتخذوا من دونه اولياء ما نعبدهم الا ليقربونا الى الله زلفى ان الله يحكم بينهم في ما هم فيه يختلفون ان الله لا يهدي من هو كاذب كفار ٣
أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلْخَالِصُ ۚ وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلْفَىٰٓ إِنَّ ٱللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِى مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ كَـٰذِبٌۭ كَفَّارٌۭ ٣
أَلَا
لِلَّهِ
ٱلدِّينُ
ٱلۡخَالِصُۚ
وَٱلَّذِينَ
ٱتَّخَذُواْ
مِن
دُونِهِۦٓ
أَوۡلِيَآءَ
مَا
نَعۡبُدُهُمۡ
إِلَّا
لِيُقَرِّبُونَآ
إِلَى
ٱللَّهِ
زُلۡفَىٰٓ
إِنَّ
ٱللَّهَ
يَحۡكُمُ
بَيۡنَهُمۡ
فِي
مَا
هُمۡ
فِيهِ
يَخۡتَلِفُونَۗ
إِنَّ
ٱللَّهَ
لَا
يَهۡدِي
مَنۡ
هُوَ
كَٰذِبٞ
كَفَّارٞ
٣
C’est à Allah qu’appartient la religion pure. Tandis que ceux qui prennent des protecteurs en dehors de Lui (disent) : "Nous ne les adorons que pour qu’ils nous rapprochent davantage d’Allah." En vérité, Allah jugera parmi eux sur ce en quoi ils divergent. Allah ne guide pas celui qui est menteur et grand ingrat.
Tafsirs
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Vous lisez un tafsir pour le groupe d'Ayahs 39:1 à 39:4
تفسیر سورۃ الزمر:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نفلی روزے اس طرح پے درپے رکھے چلے جاتے کہ ہم خیال کرتیں کہ آپ اب چھوڑیں گے ہی نہیں اور ایسا بھی ہوتا کہ نہ رکھتے یہاں تک کہ ہم سمجھ لیتیں کہ اب رکھیں گے ہی نہیں اور ہر رات آپ سورۃ بقرہ اور سورۃ زمر کی تلاوت کر لیا کرتے۔ (سنن ترمذي:2920،قال الشيخ الألباني:صحیح)

باطل عقائد کی تردید ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” یہ قرآن عظیم اسی کا کلام ہے اور اسی کا اتارا ہوا ہے۔ اس کے حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ نَزَلَ بِهِ الرُّ‌وحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِ‌ينَ بِلِسَانٍ عَرَ‌بِيٍّ مُّبِينٍ» [26-الشعراء:195-192] ‏، ” یہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔ جسے روح الامین لے کر اترا ہے۔ تیرے دل پر اترا ہے تاکہ تو آگاہ کرنے والابن جائے۔ صاف فصیح عربی زبان میں ہے “

اور آیتوں میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا بِالذِّكْرِ‌ لَمَّا جَاءَهُمْ وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» [41-فصلت:41-42] ‏ ” یہ باعزت کتاب وہ ہے جس کے آگے یا پیچھے سے باطل آ ہی نہیں سکتا یہ حکمتوں والی تعریفوں والے اللہ کی طرف سے اتری ہے “۔

یہاں فرمایا کہ ” یہ کتاب بہت بڑے عزت والے اور حکمت والے اللہ کی طرف سے اتری ہے جو اپنے اقوال افعال شریعت تقدیر سب میں حکمتوں والا ہے۔ ہم نے تیری طرف اس کتاب کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے۔ تجھے چاہیئے کہ خود اللہ کی عبادتوں میں اور اس کی توحید میں مشغول رہ کر ساری دنیا کو اسی طرف بلا، کیونکہ اس اللہ کے سوا کسی کی عبادت زیبا نہیں، وہ لاشریک ہے، وہ بے مثال ہے، اس کا شریک کوئی نہیں۔ دین خالص یعنی شہادت توحید کے لائق وہی ہے “۔

صفحہ نمبر7778

پھر مشرکوں کا ناپاک عقیدہ بیان کیا کہ ” وہ فرشتوں کو اللہ کا مرقب جان کر ان کی خیالی تصویریں بنا کر ان کی پوجا پاٹ کرنے لگے یہ سمجھ کر یہ اللہ کے لاڈلے ہیں، ہمیں جلدی اللہ کا مقرب بنا دیں گے۔ پھر تو ہماری روزیوں میں اور ہرچیز میں خوب برکت ہو جائے گی “۔ یہ مطلب نہیں کہ قیامت کے روز ہمیں وہ نزدیکی اور مرتبہ دلوائیں گے۔ اس لیے کہ قیامت کے تو وہ قائل ہی نہ تھے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ انہیں اپنا سفارشی جانتے تھے۔

جاہلیت کے زمانہ میں حج کو جاتے تو وہاں لبیک پکارتے ہوئے کہتے «لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَك إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَك تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ» اللہ ہم تیرے پاس حاضر ہوئے۔ تیرا کوئی شریک نہیں مگر ایسے شریک جن کے اپنے آپ کا مالک بھی تو ہی ہے اور جو چیزیں ان کے ماتحت ہیں ان کا بھی حقیقی مالک تو ہی ہے۔

یہی شبہ اگلے پچھلے تمام مشرکوں کو رہا اور اسی کو تمام انبیاء علیہم السلام رد کرتے رہے اور صرف اللہ تعالیٰ واحد کی عبادت کی طرف انہیں بلاتے رہے۔ یہ عقیدہ مشرکوں نے بے دلیل گھڑ لیا تھا جس سے اللہ بیزار تھا۔ فرماتا ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا» [16-النحل:36] ‏، یعنی ” ہر امت میں ہم نے رسول بھیجے کہ تم اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو “

اور فرمایا «وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» [21-الأنبياء:25] ‏، یعنی ” تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ معبود برحق صرف میں ہی ہوں پس تم سب میری ہی عبادت کرنا “۔ ساتھ ہی یہ بھی بیان فرمادیا کہ ” آسمان میں جس قدر فرشتے ہیں خواہ وہ کتنے ہی بڑے مرتبے والے کیوں نہ ہوں سب کے سب اس کے سامنے لاچار عاجز اور غلاموں کی مانند ہیں اتنا بھی تو اختیار نہیں کہ کسی کی سفارش میں لب ہلا سکیں “۔

صفحہ نمبر7779

یہ عقیدہ محض غلط ہے کہ وہ اللہ کے پاس ایسے ہیں جیسے بادشاہوں کے پاس امیر امراء ہوتے ہیں کہ جس کی وہ سفارش کر دیں اس کا کام بن جاتا ہے اس باطل اور غلط عقیدے سے یہ کہہ کر منع فرمایا کہ «‏فَلَا تَضْرِ‌بُوا لِلَّـهِ الْأَمْثَالَ إِنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» ‏ [16-النحل:74] ‏ ” اللہ کے سامنے مثالیں نہ بیان کیا کرو۔ اللہ اسے بہت بلند و بالا ہے “۔

قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کا سچا فیصلہ کر دے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا ان سب کو جمع کر کے فرشتوں سے سوال کرے گا کہ ” کیا یہ لوگ تمہیں پوجتے تھے؟ “ وہ جواب دیں گے کہ تو پاک ہے، یہ نہیں بلکہ ہمارا ولی تو تو ہی ہے یہ لوگ تو جنات کی پرستش کرتے تھے اور ان میں سے اکثر کا عقیدہ و ایمان انہی پر تھا۔

اللہ تعالیٰ انہیں راہ راست نہیں دکھاتا جن کا مقصود اللہ پر جھوٹ بہتان باندھنا ہو اور جن کے دل میں اللہ کی آیتوں، اس کی نشانیوں اور اس کی دلیلوں سے کفر بیٹھ گیا ہو۔

صفحہ نمبر7780

پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے عقیدے کی نفی کی جو اللہ کی اولاد ٹھہراتے تھے مثلاً مشرکین مکہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ یہود کہتے تھے عزیز علیہ السلام اللہ کے لڑکے ہیں۔ عیسائی گمان کرتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں۔

پس فرمایا کہ ” جیسا ان کا خیال ہے اگر یہی ہوتا تو اس امر کے خلاف ہوتا “، پس یہاں شرط نہ تو واقع ہونے کے لیے ہے نہ امکان کے لیے۔ بلکہ محال کے لیے ہے اور مقصد صرف ان لوگوں کی جہالت بیان کرنے کا ہے۔

جیسے فرمایا «لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ» [21-الأنبياء:17] ‏، ” اگر ہم ان بیہودہ باتوں کا ارادہ کرتے تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے اگر ہم کرنے والے ہی ہوتے“۔

اور آیت میں ہے «قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ» [43-الزخرف:81] ‏ یعنی ” کہدے کہ اگر رحمان کی اولاد ہوتی تو میں تو سب سے پہلے اس کا قائل ہوتا “۔ پس یہ سب آیتیں شرط کو محال کے ساتھ متعلق کرنے والی ہیں۔ امکان یا وقوع کے لیے نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ نہ یہ ہو سکتا ہے نہ وہ ہو سکتا ہے۔

اللہ ان سب باتوں سے پاک ہے وہ فرد احد، صمد اور واحد ہے۔ ہرچیز اس کی ماتحت فرمانبردار عاجز محتاج فقیر بے کس اور بے بس ہے۔ وہ ہرچیز سے غنی ہے سب سے بےپرواہ ہے سب پر اس کی حکومت اور غلبہ ہے، ظالموں کے ان عقائد سے اور جاہلوں کی ان باتوں سے اس کی ذات مبرا و منزہ ہے۔

صفحہ نمبر7781
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Lire, Écouter, Rechercher et Méditer sur le Coran

Quran.com est une plateforme fiable utilisée par des millions de personnes dans le monde pour lire, rechercher, écouter et méditer sur le Coran en plusieurs langues. Elle propose des traductions, des tafsirs, des récitations, des traductions mot à mot et des outils pour une étude plus approfondie, rendant le Coran accessible à tous.

En tant que Sadaqah Jariyah, Quran.com se consacre à aider les gens à se connecter profondément au Coran. Soutenu par Quran.Foundation , une organisation à but non lucratif 501(c)(3), Quran.com continue de se développer en tant que ressource gratuite et précieuse pour tous, Alhamdulillah.

Naviguer
Accueil
Quran Radio
Récitateurs
À propos de nous
Développeurs
Mises à jour du produit
Avis
Aider
Nos projets
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projets à but non lucratif détenus, gérés ou sponsorisés par Quran.Foundation
Liens populaires

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

Plan du site (sitemap)ConfidentialitéTermes et conditions
© 2026 Quran.com. Tous droits réservés