Se connecter
🚀 Participez à notre défi du Ramadan !
En savoir plus
🚀 Participez à notre défi du Ramadan !
En savoir plus
Se connecter
Se connecter
4:83
واذا جاءهم امر من الامن او الخوف اذاعوا به ولو ردوه الى الرسول والى اولي الامر منهم لعلمه الذين يستنبطونه منهم ولولا فضل الله عليكم ورحمته لاتبعتم الشيطان الا قليلا ٨٣
وَإِذَا جَآءَهُمْ أَمْرٌۭ مِّنَ ٱلْأَمْنِ أَوِ ٱلْخَوْفِ أَذَاعُوا۟ بِهِۦ ۖ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى ٱلرَّسُولِ وَإِلَىٰٓ أُو۟لِى ٱلْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ ٱلَّذِينَ يَسْتَنۢبِطُونَهُۥ مِنْهُمْ ۗ وَلَوْلَا فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُۥ لَٱتَّبَعْتُمُ ٱلشَّيْطَـٰنَ إِلَّا قَلِيلًۭا ٨٣
وَإِذَا
جَآءَهُمۡ
أَمۡرٞ
مِّنَ
ٱلۡأَمۡنِ
أَوِ
ٱلۡخَوۡفِ
أَذَاعُواْ
بِهِۦۖ
وَلَوۡ
رَدُّوهُ
إِلَى
ٱلرَّسُولِ
وَإِلَىٰٓ
أُوْلِي
ٱلۡأَمۡرِ
مِنۡهُمۡ
لَعَلِمَهُ
ٱلَّذِينَ
يَسۡتَنۢبِطُونَهُۥ
مِنۡهُمۡۗ
وَلَوۡلَا
فَضۡلُ
ٱللَّهِ
عَلَيۡكُمۡ
وَرَحۡمَتُهُۥ
لَٱتَّبَعۡتُمُ
ٱلشَّيۡطَٰنَ
إِلَّا
قَلِيلٗا
٨٣
Et quand leur parvient une nouvelle rassurante ou alarmante, ils la diffusent. S’ils la rapportaient au Messager et aux détenteurs du commandement parmi eux ceux d’entre eux qui cherchent à être éclairés, auraient appris (la vérité de la bouche du Prophète et des détenteurs du commandement). Et n’eussent été la grâce d’Allah sur vous et Sa miséricorde, vous auriez suivi le Diable (Satan), à part quelques-uns.
Tafsirs
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Vous lisez un tafsir pour le groupe d'Ayahs 4:82 à 4:83
کتاب اللہ میں اختلاف نہیں ہمارے دماغ میں فتور ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ قرآن کو غور و فکر تامل و تدبر سے پڑھیں، اس سے اعراض نہ کریں، اس سے تغافل نہ برتیں، بےپرواہی نہ کریں اس کے مستحکم مضامین اس کے حکمت بھرے احکام اس کے فصیح و بلیغ الفاظ پر غور کریں، ساتھ یہ خبر دیتا ہے کہ یہ پاک کتاب اختلاف، اضطراب، تعارض اور تضاد سے پاک ہے اس لیے کہ حکیم و حمید اللہ کا کلام ہے وہ خود حق ہے اور اسی طرح اس کا کلام بھی سراسر حق ہے، چنانچہ اور جگہ فرمایا «اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا» [47-محمد:24] ‏ ” یہ لوگ کیوں قرآن میں غور و خوض نہیں کرتے؟ کیا ان کے دلوں پر سنگین قفل لگ گئے ہیں۔ “

صفحہ نمبر1839

پھر فرماتا ہے اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہ ہوتا جیسے کہ مشرکین اور منافقین کا زعم ہے یہ اگر یہ فی الحقیقت کسی کا اپنی طرف سے وضع کیا ہوا ہوتا یا کوئی اور اس کا کہنے والا ہوتا تو ضروری بات تھی کہ اس میں انسانی طبائع کے مطابق اختلاف ملتا، یعنی ناممکن ہے کہ انسانی کلام اضطراب و تضاد سے مبرا ہو لازماً یہ ہوتا کہ کہیں کچھ کہا جاتا اور کہیں کچھ اور یہاں ایک بات کہی تو آگے جا کر اس کے خلاف بھی کہہ گئے۔

چنانچہ اس پاک کتاب کا ایسی متضاد باتوں سے بچا ہونا اس سچائی کی صاف دلیل ہے کہ یہ اللہ قادر و مطلق کا کلام ہے۔ اور جگہ ہے پختہ عالموں کا قول بیان کیا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، «‏آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا» [3-آل عمران:7] ‏ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے یعنی محکم اور متشابہ کو محکم کی طرف لوٹا دیتے ہیں اور ہدایت پالیتے ہیں اور جن کے دلوں میں کجی ہے بد نیتی ہے وہ محکم متشابہ کی طرف موڑ توڑ کرکے گمراہ ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پہلے صحیح مزاج والوں کی تعریف کی اور دوسری قسم کے لوگوں کی برائی بیان فرمائی۔

عمرو بن شعیب سے مروی ہے «‏عَـنْ اَبِـیْـہِ عَـنْ جَـدِّہِ» ‏والی حدیث میں ہے کہ میں ہے کہ میں اور میرے بھائی ایک ایسی مجلس میں شامل ہوئے کہ اس کے مقابلہ میں سرخ اونٹوں کا مل جانا بھی اس کے پاسنگ برابر بھی قیمت نہیں رکھتا ہم دونوں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر چند بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم کھڑے ہوئے ہیں ہم ادب کے ساتھ ایک طرف بیٹھ گئے ان میں قرآن کریم کی کسی آیت کی بابت مذاکرہ ہو رہا تھا جس میں اختلافی مسائل بھی تھے آخر بات بڑھ گئی اور زور زور سے آپس میں بات چیت ہونے لگی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے سن کر سخت غضبناک ہو کرباہر تشریف لائے چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا ان پر مٹی ڈالتے ہوئے فرمانے لگے خاموش رہو تم سے اگلی امتیں اسی باعث تباہ و برباد ہو گئیں، کہ انہوں نے اپنے انبیاء سے اختلاف کیا اور کتاب اللہ کی ایک آیت کو دوسری آیت کے خلاف سمجھایاد رکھو قرآن کی کوئی آیت دوسری آیت کے خلاف اسے جھٹلانے والی نہیں بلکہ قرآن کی ایک ایک آیت ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے تم جسے جان لو عمل کرو جسے نہ معلوم کر سکو اس کے جاننے والے کے لیے چھوڑ دو۔ [مسند احمد:181/2،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏

صفحہ نمبر1840

دوسری آیت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم تقدیر کے بارے میں مباحثہ کر رہے تھے، راہی کہتے ہیں کہ کاش کہ میں اس مجلس میں نہ بیٹھتا۔ [مسند احمد:178/2،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں دوپہر کے وقت حاضر حضور ہوا تو بیٹھا ہی تھا کہ ایک آیت کے بارے میں دو شخصوں کے درمیان اختلاف ہوا ان کی آوازیں اونچی ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلی امتوں کی ہلاکت کا باعث صرف ان کا کتاب اللہ کا اختلاف کرنا ہی تھا [صحیح مسلم:2666] ‏ (‏مسند احمد)۔

پھر ان جلد باز لوگوں کو روکا جا رہا ہے جو کسی امن یا خوف کی خبر پاتے ہی بے تحقیق بات ادھر سے ادھر تک پہنچا دیتے ہیں حالانکہ ممکن ہے وہ بالکل ہی غلط ہو۔

صفحہ نمبر1841

صحیح مسلم شریف کے مقدمے میں حدیث ہے کہ ” انسان کو یہی جھوٹ کافی ہے کہ جو سنے اس کو بیان کرنے لگ جائے “ ابو داذد میں بھی روایت ہے۔ [صحیح مسلم:5] ‏ بخاری و مسلم میں ہے کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گپ بازی سے منع فرمایا۔ “ [صحیح بخاری:6473] ‏ یعنی سنی سنائی باتیں بیان کرنے سے جن کی تحقیق اچھی طرح سے نہ کی ہو، ابو داذد میں ہے انسان کا یہ کہنا کہ ” فلاں نے یہ کہا اور فلاں نے یہ کہا، برا فعل ہے۔ “ [سنن ابوداود:4972،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اور صحیح حدیث میں ہے ” جو شخص کوئی بات بیان کرے اور وہ گمان کرتا ہو کہ یہ غلط ہے وہ بھی جھوٹوں میں کا ایک جھوٹا ہے۔ “ [صحیح مسلم:1] ‏ یہاں پر ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی روایت کا ذکر کرنا بھی مناسب سمجھتے ہیں کہ جب انہیں یہ خبری پہنچی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی تو آپ اپنے گھر سے چلے مسجد میں آئے یہاں بھی لوگوں کو یہی کہتے سنا تو بذات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور خود آپ سے دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے؟ کہ آپ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق دے دی؟ آپ نے فرمایا غلط ہے چنانچہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اللہ کی بڑائی بیان کی۔ [صحیح بخاری:89] ‏

صحیح مسلم میں ہے کہ پھر آپ نے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر بہ آواز بلند فرمایا لوگو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی۔ اسی پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [صحیح مسلم:1479] ‏ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہ ہیں جنہوں نے اس معاملہ کی تحقیق کی۔

علمی اصطلاح میں «استنباط» کہتے ہیں کسی چیز کو اس کے منبع اور مخزن سے نکالنا مثلاً جب کوئی شخص کسی کان کو کھود کر اس کے نیجے سے کوئی چیز نکالے تو عرب کہتے ہیں «اِستَـْنـَبطَ الرَّجُـلُ» ‏۔ پھر فرماتا ہے اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو تم سب کے سب سوائے چند کامل ایمان والوں کے شیطان کے تابعدار بن جاتے۔ ایسے موقعوں پر محاورۃً معنی ہوتے ہیں کہ تم کل کے کل شامل ہو چنانچہ عرب کے ایسے شعر بھی ہیں۔

صفحہ نمبر1842
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Lire, Écouter, Rechercher et Méditer sur le Coran

Quran.com est une plateforme fiable utilisée par des millions de personnes dans le monde pour lire, rechercher, écouter et méditer sur le Coran en plusieurs langues. Elle propose des traductions, des tafsirs, des récitations, des traductions mot à mot et des outils pour une étude plus approfondie, rendant le Coran accessible à tous.

En tant que Sadaqah Jariyah, Quran.com se consacre à aider les gens à se connecter profondément au Coran. Soutenu par Quran.Foundation , une organisation à but non lucratif 501(c)(3), Quran.com continue de se développer en tant que ressource gratuite et précieuse pour tous, Alhamdulillah.

Naviguer
Accueil
Quran Radio
Récitateurs
À propos de nous
Développeurs
Mises à jour du produit
Avis
Aider
Nos projets
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projets à but non lucratif détenus, gérés ou sponsorisés par Quran.Foundation
Liens populaires

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

Plan du site (sitemap)ConfidentialitéTermes et conditions
© 2026 Quran.com. Tous droits réservés