Se connecter
🚀 Participez à notre défi du Ramadan !
En savoir plus
🚀 Participez à notre défi du Ramadan !
En savoir plus
Se connecter
Se connecter
5:103
ما جعل الله من بحيرة ولا سايبة ولا وصيلة ولا حام ولاكن الذين كفروا يفترون على الله الكذب واكثرهم لا يعقلون ١٠٣
مَا جَعَلَ ٱللَّهُ مِنۢ بَحِيرَةٍۢ وَلَا سَآئِبَةٍۢ وَلَا وَصِيلَةٍۢ وَلَا حَامٍۢ ۙ وَلَـٰكِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ ۖ وَأَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ١٠٣
مَا
جَعَلَ
ٱللَّهُ
مِنۢ
بَحِيرَةٖ
وَلَا
سَآئِبَةٖ
وَلَا
وَصِيلَةٖ
وَلَا
حَامٖ
وَلَٰكِنَّ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
يَفۡتَرُونَ
عَلَى
ٱللَّهِ
ٱلۡكَذِبَۖ
وَأَكۡثَرُهُمۡ
لَا
يَعۡقِلُونَ
١٠٣
Allah n’a pas institué la Bahîrah, la Sâ’ibah, la Wasîlah ni le Hâm, mais ceux qui ont mécru ont inventé ce mensonge contre Allah, et la plupart d’entre eux ne raisonnent pas . 1
Tafsirs
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Vous lisez un tafsir pour le groupe d'Ayahs 5:103 à 5:104
بتوں کے نام کٹے ہوئے جانوروں کے نام؟ ٭٭

صحیح بخاری شریف میں سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ «بَحِيرَةٍ» اس جانور کو کہتے ہیں جس کے بطن کا دودھ وہ لوگ اپنے بتوں کے نام کر دیتے تھے اسے کوئی دو ہتا نہ تھا «سَائِبَةٍ» ان جانوروں کو کہتے تھے جنہیں وہ اپنے معبود باطل کے نام پر چھوڑ دیتے تھے سواری اور بوجھ سے آزاد کر دیتے تھے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا ہے اس نے سب سے پہلے یہ رسم ایجاد کی تھی۔ «وَصِيلَةٍ» وہ اونٹنی ہے جس کے پلوٹھے دو بچے اوپر تلے کے مادہ ہوں ان دونوں کے درمیان کوئی نر اونٹ پیدا نہ ہوا ہو اسے بھی وہ اپنے بتوں کے نام وقف کر دیتے تھے۔ «حَامٍ» اس نر اونٹ کا نام تھا جس کی نسل سے کئی بچے ہو گئے ہوں پھر اسے بھی اپنے بزرگوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور کسی کام میں نہ لیتے تھے ۔ [صحیح بخاری:4623] ‏

ایک حدیث میں ہے کہ میں نے جہنم کو دیکھا اس کا ایک حصہ دوسرے کو گویا کھائے جا رہا تھا اس میں میں نے عمرو کو دیکھا کہ اپنی آنتیں گھسیٹا پھرتا ہے اسی نے سائبہ کا رواج سب سے پہلے نکالا تھا ۔ [صحیح بخاری:4624] ‏

ایک حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عمورو کا یہ ذکر حصرت اکتم بن جون رضی اللہ عنہ سے کر کے فرمایا وہ صورت و شکل میں بالکل تیرے جیسا ہے اس پر اکتم نے فرمایا یا رسول اللہ کہیں یہ مشابہت مجھے نقصان نہ پہنچائے؟ آپ نے فرمایا نہیں بے فکر رہو وہ کافر تھا تم مسلمان ہو۔ اسی نے ابراہیم علیہ السلام کے دین کو سب سے پہلے بدلا اسی نے بحیرہ، سائبہ اور حام کی رسم نکالی، اسی نے بت پرستی دین ابراہیمی میں ایجاد کی ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12820:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2480

ایک روایت میں ہے یہ بنو کعب میں سے ہے، جہنم میں اس کے جلنے کی بدبو سے دوسرے جہنمیوں کو بھی تکلیف پہنچتی ہے۔ بحیرہ کی رسم کو ایجاد کرنے والا بنو مدلج کا ایک شخص تھا اس کی دو اونٹنیاں تھیں جن کے کان کاٹ دیئے اور دودھ حرام کر دیا پھر کچھ عرصہ کے بعد پینا شروع کر دیا، میں نے اسے بھی دوزخ میں دیکھا دونوں اونٹنیاں اسے کاٹ رہی تھیں اور روند رہی تھیں ۔

یاد رہے کہ یہ عمر ولحی بن قمعہ کا لڑکا ہے جو خزاعہ کے سرداروں میں سے ایک تھا قبیلہ جرہم کے بعد بیت اللہ شریف کی تولیت انہی کے پاس تھی یہی شخص عرب میں بت لایا اور سفلے لوگوں میں ان کی عبادت جاری کی اور بہت سی بدعتیں ایجاد کیں جن میں سے چوپایوں کو الگ الگ طریقے سے بتوں کے نام کرنے کی رسم بھی تھی۔ جس کی طرف اشارہ آیت «وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَھٰذَا لِشُرَكَاىِٕنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَاىِٕهِمْ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ وَمَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ يَصِلُ اِلٰي شُرَكَاىِٕهِمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُوْنَ» [6-الأنعام:136] ‏ میں ہے۔

صفحہ نمبر2481

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اونٹنی کے جب پانچ بچے ہوتے تو پانچواں اگر نر ہوتا تو اسے ذبح کر ڈالتے اور اس کا گوشت صرف مرد کھاتے عورتوں پر حرام جانتے اور اگر مادہ ہوتی تو اس کے کان کاٹ کر اس کا نام بحیرہ رکھتے۔ سائبہ کی تفسیر میں مجاہد رحمة الله سے اسی کے قریب قریب بکریوں میں مروی ہے۔ محمد بن اسحاق رحمة الله کا قول ہے کہ جس اونٹنی کے پے در پے دس اونٹنیاں پیدا ہوتیں اسے چھوڑ دیتے نہ سواری لیتے نہ بال کاٹتے نہ دودھ دوہتے اور اسی کا نام سائبہ ہے۔ صرف مہمان کے لیے تو دودھ نکال لیتے ورنہ اس کا دودھ یونہی رکا رہتا، ابو روق کہتے ہیں یہ نذر کا جانور ہوتا تھا جب کسی کی کوئی حاجت پوری ہو جاتی تو وہ اپنے بت اور بزرگ کے نام کوئی جانور آزاد کر دیتا پھر اس کی نسل بھی آزاد سمجھی جاتی، سدی کہتے ہیں اگر کوئی شخص اس جانور کی بیحرمتی کرتا تو اسے یہ لوگ سزا دیتے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وصیلہ اس جانور کو کہتے ہیں کہ مثلاً ایک بکری کا ساتواں بچہ ہے اب اگر وہ نر ہے اور ہے مردہ تو اسے مرد عورت کھاتے اور اگر وہ مادہ ہے تو اسے زندہ باقی رہنے دیتے اور اگر نر مادہ دونوں ایک ساتھ ہوئے ہیں تو اس نر کو بھی زندہ رکھتے اور کہتے کہ اس کے ساتھ اس کی بہن ہے اس نے اسے ہم پر حرام کر دیا۔ سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ جس اونٹنی کے مادہ پیدا ہو پھر دوسرا بچہ بھی مادہ ہو تو اسے وصیلہ کہتے تھے، محمد بن اسحاق رحمة الله فرماتے ہیں جو بکری پانچ دفعہ دو دو مادہ بکریاں بچے دے اس کا نام وصیلہ تھا پھر اسے چھوڑ دیا جاتا تھا اس کے بعد اس کا جو بچہ ہوتا اسے ذبح کر کے صرف مرد کھا لیتے اور اگر مردہ پیدا ہوتا تو مرد عورت سب کا حصہ سمجھا جاتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حام اس نر اونٹ کو کہتے ہیں جس کی نسل سے دس بچے پیدا ہو جائیں یہ بھی مروی ہے کہ جس کے بچے سے کوئی بچہ ہو جائے اسے وہ آزاد کر دیتے نہ اس پر سواری لیتے نہ اس پر بوجھ لادتے، نہ اس کے بال کام میں لیتے نہ کسی کھیتی یا چارے یا حوض سے اسے روکتے، اور اقوال بھی ہیں۔

صفحہ نمبر2482

حضرت مالک بن نفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت میں پھٹے پرانے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا: تیرے پاس کچھ مال بھی ہے؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: کس قسم کا؟ کہا ہر قسم کا اونٹ بکریاں گھوڑے غلام وغیرہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو اللہ نے تجھے بہت کچھ دے رکھا ہے سن اونٹ کے جب بچہ ہوتا ہے تو صحیح سالم کان والا ہی ہوتا ہے؟ میں نے کہا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو استرا لے کر ان کے کان کاٹ دیتا ہے اور ان کا نام بحیرہ رکھ دیتا ہے؟ اور بعض کے کان چیر کر انہیں حرام سمجھنے لگتا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا: خبردار ایسا نہ کرنا اللہ نے تجھے جتنے جانور دے رکھے ہیں سب حلال ہیں ۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی ۔ [مسند احمد:473/3:صحیح] ‏

بحیرہ وہ ہے جس کے کان کاٹ دیئے جاتے تھے پھر گھر والوں میں سے کوئی بھی اس سے کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا ہاں جب وہ مر جاتا تو سب بیٹھ کر اس کا گوشت کھا جاتے، سائبہ اس جانور کو کہتے ہیں جسے اپنے معبودوں کے پاس لے جا کر ان کے نام کا کر دیتے تھے۔ وصیلہ اس بکری کو کہتے تھے جس کے ہاں ساتویں دفعہ بچہ ہو اس کے کان اور سینگ کاٹ کر آزاد کر دیتے، اس روایت کے مطابق تو حدیث ہی میں ان جانورون کی تفصیل ملی جلی ہے ایک روایت میں یہ بقول عوف بن مالک مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ پھر فرمان قرآن ہے کہ ” یہ نام اور چیزیں اللہ کی مقرر کردہ نہیں نہ اس کی شریعت میں داخل ہیں نہ ذریعہ ثواب ہیں “۔ یہ لوگ اللہ کی پاک صاف شریعت کی طرف دعوت دیئے جاتے ہیں تو اپنے باپ دادوں کے طریقوں کو اس کے مقابلے میں پیش کرتے ہیں حالانکہ ان کے بڑے محض ناواقف اور بے راہ تھے ان کی تابعداری تو وہ کرے گا جو ان سے بھی زیادہ بہکا ہوا اور بے عقل ہو۔

صفحہ نمبر2483
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Lire, Écouter, Rechercher et Méditer sur le Coran

Quran.com est une plateforme fiable utilisée par des millions de personnes dans le monde pour lire, rechercher, écouter et méditer sur le Coran en plusieurs langues. Elle propose des traductions, des tafsirs, des récitations, des traductions mot à mot et des outils pour une étude plus approfondie, rendant le Coran accessible à tous.

En tant que Sadaqah Jariyah, Quran.com se consacre à aider les gens à se connecter profondément au Coran. Soutenu par Quran.Foundation , une organisation à but non lucratif 501(c)(3), Quran.com continue de se développer en tant que ressource gratuite et précieuse pour tous, Alhamdulillah.

Naviguer
Accueil
Quran Radio
Récitateurs
À propos de nous
Développeurs
Mises à jour du produit
Avis
Aider
Nos projets
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projets à but non lucratif détenus, gérés ou sponsorisés par Quran.Foundation
Liens populaires

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

Plan du site (sitemap)ConfidentialitéTermes et conditions
© 2026 Quran.com. Tous droits réservés