Se connecter
🚀 Participez à notre défi du Ramadan !
En savoir plus
🚀 Participez à notre défi du Ramadan !
En savoir plus
Se connecter
Se connecter
95:8
اليس الله باحكم الحاكمين ٨
أَلَيْسَ ٱللَّهُ بِأَحْكَمِ ٱلْحَـٰكِمِينَ ٨
أَلَيۡسَ
ٱللَّهُ
بِأَحۡكَمِ
ٱلۡحَٰكِمِينَ
٨
Allah n’est-Il pas le plus sage des Juges 1 ?
Tafsirs
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Vous lisez un tafsir pour le groupe d'Ayahs 95:1 à 95:8
تفسیر سورۃ التین:

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفر میں دو رکعتوں میں سے کسی ایک میں یہ سورۃ پڑھ رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی آواز اور اچھی قرأت کسی کی نہیں سنی۔ [صحيح بخاري: 767‏]

باب

«وَالتِّينِ» سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے، کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے، بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح علیہ السلام ہے وہ مراد ہے۔

بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے، «زیتون» سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، «طور سِينِينَ» وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر علیہم السلام بھیجے گئے تھے۔

10717

«وَالتِّينِ» سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر عیسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور «وَطُورِ سِينِينَ» سے مراد طور سینا ہے جہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا اور «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ مکرمہ جہاں ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔

تورات کے آخر میں بھی ان تینوں جگہوں کا نام ہے اس میں ہے کہ طور سینا سے اللہ تعالیٰ آیا یعنی وہاں پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور «ساعیر» یعنی بیت المقدس کے پہاڑ سے اس نے اپنا نور چمکایا یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو وہاں بھیجا اور فاران کی چوٹیوں پر وہ بلند ہوا یعنی مکہ کے پہاڑوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، پھر ان تینوں زبردست بڑے مرتبے والے پیغمبروں کی زمانی اور وجودی ترتیب بیان کر دی۔

اسی طرح یہاں بھی پہلے جس کا نام لیا اس سے زیادہ شریف چیز کا نام پھر لیا اور پھر ان دونوں سے بزرگ تر چیز کا نام آخر میں لیا۔ پھر ان قسموں کے بعد بیان فرمایا کہ ” انسان کو اچھی شکل و صورت میں صحیح قد و قامت والا، درست اور سڈول اعضاء والا خوبصورت اور سہانے چہرے والا پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نِیچ کر دیا یعنی جہنمی ہو گیا، اگر اللہ کی اطاعت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہ کی تو اسی لیے ایمان والوں کو اس سے الگ کر لیا “۔ بعض کہتے ہیں کہ مراد انتہائی بڑھاپے کی طرف لوٹا دینا ہے۔

10718

سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے قرآن جمع کیا وہ رذیل عمر کو نہ پہنچے گا۔‏“ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں، لیکن اگر یہی بڑھاپا مراد ہوتا تو مومنوں کا استشناء کیوں ہوتا؟ بڑھاپا تو بعض مومنوں پر بھی آتا ہے پس ٹھیک بات وہی ہے جو اوپر ہم نے ذکر کی۔

جیسے اور جگہ سورۃ والعصر میں ہے کہ «وَالْعَصْر إِنَّ الْإِنْسَان لَفِي خُسْر إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَات» [103-العصر:1-3] ‏ ” تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ایمان اور اعمال صالح والوں کے کہ انہیں ایسی نیک جزا ملے گی جس کی انتہا نہ ہو “۔ جیسے پہلے بیان ہو چکا ہے۔

پھر فرماتا ہے ” اے انسان جبکہ تو اپنی پہلی اور اول مرتبہ کی پیدائش کو جانتا ہے تو پھر جزا و سزا کے دن کے آنے پر اور تیرے دوبارہ زندہ ہونے پر تجھے کیوں یقین نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ تو اسے نہیں مانتا حالانکہ ظاہر ہے کہ جس نے پہلی دفعہ پیدا کر دیا اس پر دوسری دفعہ کا پیدا کرنا کیا مشکل ہے؟ “۔

مجاہد رحمہ اللہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھ بیٹھے کہ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”معاذاللہ اس سے مراد مطلق انسان ہے۔‏“ عکرمہ رحمہ اللہ وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ” کیا اللہ حکم الحاکمین نہیں ہے وہ نہ ظلم کرے نہ بے عدلی کرے اسی لیے وہ قیامت قائم کرے گا اور ہر ایک ظالم سے مظلوم کا انتقام لے گا “۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ جو شخص «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» پڑھے اور اس کے آخر کی آیت «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ» پڑھے تو کہہ دے «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» یعنی ہاں اور میں اس پر گواہ ہوں۔ [سنن ترمذي:3347،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ التین کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

10719
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Lire, Écouter, Rechercher et Méditer sur le Coran

Quran.com est une plateforme fiable utilisée par des millions de personnes dans le monde pour lire, rechercher, écouter et méditer sur le Coran en plusieurs langues. Elle propose des traductions, des tafsirs, des récitations, des traductions mot à mot et des outils pour une étude plus approfondie, rendant le Coran accessible à tous.

En tant que Sadaqah Jariyah, Quran.com se consacre à aider les gens à se connecter profondément au Coran. Soutenu par Quran.Foundation , une organisation à but non lucratif 501(c)(3), Quran.com continue de se développer en tant que ressource gratuite et précieuse pour tous, Alhamdulillah.

Naviguer
Accueil
Quran Radio
Récitateurs
À propos de nous
Développeurs
Mises à jour du produit
Avis
Aider
Nos projets
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projets à but non lucratif détenus, gérés ou sponsorisés par Quran.Foundation
Liens populaires

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

Plan du site (sitemap)ConfidentialitéTermes et conditions
© 2026 Quran.com. Tous droits réservés