Masuk
🚀 Ikuti Tantangan Ramadan kami!
Pelajari lebih lanjut
🚀 Ikuti Tantangan Ramadan kami!
Pelajari lebih lanjut
Masuk
Masuk
10:98
فلولا كانت قرية امنت فنفعها ايمانها الا قوم يونس لما امنوا كشفنا عنهم عذاب الخزي في الحياة الدنيا ومتعناهم الى حين ٩٨
فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ ءَامَنَتْ فَنَفَعَهَآ إِيمَـٰنُهَآ إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّآ ءَامَنُوا۟ كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ ٱلْخِزْىِ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَمَتَّعْنَـٰهُمْ إِلَىٰ حِينٍۢ ٩٨
فَلَوۡلَا
كَانَتۡ
قَرۡيَةٌ
اٰمَنَتۡ
فَنَفَعَهَاۤ
اِيۡمَانُهَاۤ
اِلَّا
قَوۡمَ
يُوۡنُسَ ۚؕ
لَمَّاۤ
اٰمَنُوۡا
كَشَفۡنَا
عَنۡهُمۡ
عَذَابَ
الۡخِزۡىِ
فِى
الۡحَيٰوةِ
الدُّنۡيَا
وَمَتَّعۡنٰهُمۡ
اِلٰى
حِيۡنٍ‏
٩٨
Maka mengapa tidak ada (penduduk) suatu negeri pun yang beriman, lalu imannya itu bermanfaat baginya selain kaum Yunus. Ketika mereka (kaum Yunus itu) beriman, Kami hilangkan dari mereka azab yang menghinakan dalam kehidupan dunia, dan Kami beri kesenangan kepada mereka sampai waktu tertentu.
Tafsir
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
افسوس انسان نے اکثر حق کی مخالفت کی ٭٭

کسی بستی کے تمام باشندے کسی نبی علیہ السلام پر کبھی ایمان نہیں لائے، یا تو سب نے ہی کفر کیا یا اکثر نے۔ سورۃ یٰسین میں فرمایا «يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ» [36-یس:30] ‏ ” بندوں پر افسوس ہے ان کے پاس جو رسول آئے انہوں نے ان کا مذاق اڑایا “۔

ایک آیت میں ہے «كَذَٰلِكَ مَا أَتَى الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ» [51-الذاريات:52] ‏ ” ان سے پہلے رسول آئے، انہیں لوگوں نے جادوگر یا مجنون کا ہی خطاب دیا “۔

«وَكَذَٰلِكَ مَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِم مُّقْتَدُونَ» [43-الزخرف:23] ‏ ” تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب کو ان کی قوم کے سرکش ساہو کاروں نے یہی کہا کہ ہم نے تو اپنے بڑوں کو جس لکیر پر پایا اسی کے فقیر بنے رہیں گے “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھ پر انبیاء علیہم السلام پیش کئے گئے کسی نبی علیہ السلام کے ساتھ تو لوگوں کا ایک گروہ تھا۔ کسی کے ساتھ صرف ایک آدمی کوئی محض تنہا ۔ پھر آپ نے موسیٰ علیہ السلام کی امت کی کثرت کا بیان کیا۔ پھر اپنی امت کا، اس سے بھی زیادہ ہونا۔ زمین کے مشرق مغرب کی سمت کو ڈھانپ لینا بیان فرمایا ۔ [صحیح بخاری:6541] ‏

الغرض تمام انبیاء علیہم السلام میں سے کسی کی ساری امت نے انہیں نبی نہیں مانا۔ سوائے اہل نینویٰ کے جو یونس علیہ السلام کی امت کے لوگ تھے۔ یہ بھی اس وقت جب نبی علیہ السلام کی زبان سے عذاب کی خبر معلوم ہوگئی، پھر اس کے ابتدائی آثار بھی دیکھ لیے۔ ان کے نبی علیہ السلام انہیں چھوڑ کر چلے بھی گئے۔ اس وقت یہ سارے کے سارے اللہ کے سامنے جھک گئے اس سے فریاد شروع کی، اس کی جناب میں عاجزی اور گریہ و زاری کرنے لگے، اپنی مسکینی ظاہر کرنے لگے۔ اور دامن رحمت سے لپٹ گئے۔ سارے کے سارے میدان میں نکل کھڑے ہوئے اپنی بیویوں، بچوں اور جانوروں کو بھی ساتھ اٹھا کر لے گئے۔ اور آنسوؤں کی جھڑیاں لگا کر اللہ تعالیٰ سے فریاد کرنے دعائیں مانگنے لگے کہ یا رب عذاب ہٹا لے۔ رحمت رب جوش میں آئی، پروردگار نے ان سے عذاب ہٹا لیا اور دنیا کی رسوائی کے عذاب سے انہیں بچا لیا۔

صفحہ نمبر3776

اور ان کی عمر تک کی انہیں مہلت دے دی اور اس دنیا کا فائدہ انہیں پہنچایا۔ یہاں جو فرمایا کہ ” دنیا کا عذاب ان سے ہٹا لیا “۔ اس سے بعض نے کہا ہے کہ اُخروی عذاب دور نہیں۔ لیکن یہ ٹھیک نہیں اس لیے کے دوسری آیت میں ہے «وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» [37-الصافات:147،148] ‏ ” وہ ایمان لائے اور ہم نے انہیں زندگی کا فائدہ دیا “۔

اس سے ثابت ہوا کہ وہ ایمان لائے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ ایمان آخرت کے عذاب سے نجات دینے والا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت کا مطلب یہ ہے کہ کس بستی اہل کفر کا عذاب دیکھ لینے کے بعد ایمان لانا ان کے لیے نفع بخش ثابت نہیں ہوا۔ سوائے قوم یونس علیہ السلام کی قوم کے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے نبی علیہ السلام ان میں سے نکل گئے اور انہوں نے خیال کر لیا کہ اب اللہ کا عذاب آیا چاہتا ہے، اس وقت توبہ استغفار کرنے لگے ٹاٹ پہن کر خشوع و خضوع سے میلے کچیلے میدان میں آکھڑے ہوئے بچوں کو ماؤں سے دور کردیا۔ جانوروں کے تھنوں سے ان کے بچوں کو الگ کر دیا۔ اب جو رونا دھونا اور فریاد شروع کی تو چالیس دن رات اسی طرح گزار دیئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کی سچائی دیکھ لی۔ ان کی توبہ و ندامت قبول فرمائی اور ان سے عذاب دور کر دیا، یہ لوگ موصل کے شہر نینویٰ کے رہنے والے تھے۔ «فَلَوْلَا» کی «فَھَلَّا» قرأت بھی ہے ان کے سروں پر عذاب رات کی سیاہی کے ٹکڑوں کی طرح گھوم رہا تھا ان کے علماء نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ جنگل میں نکل کھڑے ہو اور اللہ سے دعا کرو کہ وہ ہم سے اپنے عذاب کو دور کر دے اور یہ کہو «يَا حَيُّ مُحْييْ الْـمَـوْتٰى يَا حَيُّ لَاۤ إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» قوم یونس کا پورہ قصہ سورۃ الصافات کی تفسیر میں ان شاءاللہ العزیز ہم بیان کریں گے۔

صفحہ نمبر3777
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengarkan, Cari, dan Renungkan Al Quran

Quran.com adalah platform tepercaya yang digunakan jutaan orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengarkan, dan merefleksikan Al-Qur'an dalam berbagai bahasa. Platform ini menyediakan terjemahan, tafsir, tilawah, terjemahan kata demi kata, dan berbagai alat untuk pembelajaran yang lebih mendalam, sehingga Al-Qur'an dapat diakses oleh semua orang.

Sebagai sebuah Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang-orang terhubung secara mendalam dengan Al-Qur'an. Didukung oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi nirlaba 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai referensi yang sangat bernilai dan gratis untuk semua orang, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Qur'an
Qari
Tentang Kami
Pengembang
Pengkinian Produk
Beri Masukan
Bantuan
Proyek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Proyek nirlaba yang dimiliki, dikelola, atau disponsori oleh Quran.Foundation
Link populer

Ayat Kursi

Surah Yasin

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahfi

Surah Al Muzzammil

Peta situsKerahasiaanSyarat dan Ketentuan
© 2026 Quran.com. Hak Cipta Terlindungi