Masuk
🚀 Ikuti Tantangan Ramadan kami!
Pelajari lebih lanjut
🚀 Ikuti Tantangan Ramadan kami!
Pelajari lebih lanjut
Masuk
Masuk
16:90
۞ ان الله يامر بالعدل والاحسان وايتاء ذي القربى وينهى عن الفحشاء والمنكر والبغي يعظكم لعلكم تذكرون ٩٠
۞ إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ وَٱلْإِحْسَـٰنِ وَإِيتَآئِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ ٱلْفَحْشَآءِ وَٱلْمُنكَرِ وَٱلْبَغْىِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ٩٠
۞ اِنَّ
اللّٰهَ
يَاۡمُرُ
بِالۡعَدۡلِ
وَالۡاِحۡسَانِ
وَاِيۡتَآىِٕ
ذِى
الۡقُرۡبٰى
وَيَنۡهٰى
عَنِ
الۡفَحۡشَآءِ
وَالۡمُنۡكَرِ
وَالۡبَغۡىِ​ۚ
يَعِظُكُمۡ
لَعَلَّكُمۡ
تَذَكَّرُوۡنَ‏
٩٠
Sesungguhnya Allah menyuruh (kamu) berlaku adil dan berbuat kebajikan, memberi bantuan kepada kerabat, dan Dia melarang (melakukan) perbuatan keji, kemungkaran dan permusuhan. Dia memberi pengajaran kepadamu agar kamu dapat mengambil pelajaran.
Tafsir
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
برابر کا بدلہ ٭٭

اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے بندوں کو عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور سلوک و احسان کی رہنمائی کرتا ہے گو بدلہ لینا بھی جائز ہے جیسے آیت «وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ وَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ» [16-النحل:126] ‏ میں فرمایا کہ ” اگر بدلہ لے سکو تو برابر برابر کا بدلہ لو لیکن اگر صبر و برداشت کر لو تو کیا ہی کہنا یہ بڑی مردانگی کی بات ہے “۔

اور آیت میں فرمایا «وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّـهِ» [42-اشوریٰ:40] ‏ ” اس کا اجر خدا کے ہاں ملے گا “۔

ایک اور آیت میں ہے «وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ» [5-المائدہ:45] ‏ ” زخموں کا قصاص ہے لیکن جو درگزر کر جائے اس کے گناہوں کی معافی ہے “۔

پس عدل تو فرض، احسان نفل اور کلمہ تو حید کی شہادت بھی عدل ہے۔ ظاہر باطن کی پاکیزگی بھی عدل ہے اور احسان یہ ہے کہ پاکی صفائی ظاہر سے بھی زیادہ ہو۔ اور فحشاء اور منکر یہ ہے کہ باطن میں کھوٹ ہو اور ظاہر میں بناوٹ ہو۔ وہ صلہ رحمی کا بھی حکم دیتا ہے۔ جیسے صاف لفظوں میں ارشاد آیت «وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا» [17-الإسراء:26] ‏، ” رشتے داروں، مسکینوں، مسافروں کو ان کا حق دو اور بے جا خرچ نہ کرو “۔ محرمات سے وہ تمہیں روکتا ہے، برائیوں سے منع کرتا ہے ظاہری باطنی تمام برائیاں حرام ہیں، لوگوں پر ظلم و زیادتی حرام ہے۔

حدیث میں ہے کہ کوئی گناہ ظلم و زیادتی اور قطع رحمی سے بڑھ کر ایسا نہیں کہ دنیا میں بھی جلدی ہی اس کا بدلہ ملے اور اخرت میں بھی سخت پکڑ ہو ۔ [سنن ابوداود:4902، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اللہ کے یہ احکام اور یہ نواہی تمہاری نصیحت کے لیے ہیں جو اچھی عادتیں ہیں، ان کا حکم قرآن نے دیا ہے «قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ» [7-الأعراف:33] ‏ اور جو بری خصلتیں لوگوں میں ہیں ان سے اللہ تعالیٰ نے روک دیا ہے، بد خلقی اور برائی سے اس نے ممانعت کر دی ہے۔

حدیث شریف میں ہے بہترین اخلاق اللہ کو پسند ہیں اور بد خلقی کو وہ مکروہ رکھتا ہے ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1378] ‏

صفحہ نمبر4511

اکثم بن صیفی کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت اطلاع ہوئی تو اس نے خدمت نبوی میں حاضر ہونے کی ٹھان لی لیکن اس کی قوم اس کے سر ہوگئی اور اسے روک لیا اس نے کہا اچھا مجھے نہیں جانے دیتے تو قاصد لاؤ جنہیں میں وہاں بھیجوں۔

دو شخص اس خدمت کی انجام دہی کے لیے تیار ہوئے یہاں آکر انہوں نے کہا کہ ہم اکثم بن صیفی کے قاصد ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں اور کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ میں محمد بن عبداللہ ہوں صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کا رسول ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت انہیں پڑھ کر سنائی انہوں نے کہا دوبارہ پڑھئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پڑھی، یہاں تک کہ انہوں نے یاد کرلی۔

پھر واپس جا کر اکثم کو خبر دی اور کہا اپنے نسب پر اس نے کوئی فخر نہیں کیا۔ صرف اپنا اور اپنے والد کا نام بتا دیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہیں وہ بڑے نسب والے، مضر میں اعلی خاندان کے ہیں اور پھر یہ کلمات ہمیں تعلیم فرمائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ہم نے سنے۔ یہ سن کر اکثم نے کہا وہ تو بڑی اچھی اور اعلی باتیں سکھاتے ہیں اور بری اور سفلی باتوں سے روکتے ہیں۔ میرے قبیلے کے لوگو تم اسلام کی طرف سبقت کرو تاکہ تم دوسروں پر سرداری کرو اور دوسروں کے ہاتھوں میں دمیں بن کر نہ رہ جاؤ۔

صفحہ نمبر4512

اس آیت کے شان نزول میں ایک حسن حدیث مسند امام احمد میں وارد ہوئی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگنائی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھتے نہیں ہو؟ وہ بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوکر باتیں کر رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دفعتہً اپنی نظریں آسمان کی جانب اٹھائیں کچھ دیر اوپر ہی کو دیکھتے رہے، پھر نگاہیں آہستہ آہستہ نیچی کیں اور اپنی دائیں جانب زمین کی طرف دیکھنے لگے اور اسی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخ بھی کرلیا اور اس طرح سر ہلانے لگے گویا کسی سے کچھ سمجھ رہے ہیں اور کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کہہ رہا ہے تھوڑی دیر تک یہی حالت طاری رہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہیں اونچی کرنی شروع کیں، یہاں تک کہ آسمان تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں پہنچیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھیک ٹھاک ہوگئے اور اسی پہلی بیٹھک پر عثمان کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھ گئے۔ وہ یہ سب دیکھ رہا تھا، اس سے صبر نہ ہو سکا، پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کئی بار بیٹھنے کا اتفاق ہوا لیکن آج جیسا منظر تو کبھی نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم نے کیا دیکھا؟ اس نے کہا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی پھر نیچیں کرلی اور اپنے دائیں طرف دیکھنے لگے اور اسی طرف گھوم کر بیٹھ گئے، مجھے چھوڑ دیا، پھر اس طرح سر ہلانے لگے جیسے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کہہ رہا ہو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اچھی طرح سن سمجھ رہے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تم نے یہ سب کچھ دیکھا؟ اس نے کہا برابر دیکھتا ہی رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس اللہ کا نازل کردہ فرشتہ وحی لے کر آیا تھا ، اس نے کہا اللہ کا بھیجا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ہاں اللہ کا بھیجا ہوا ۔ پوچھا پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھ سنائی۔ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسی وقت میرے دل میں ایمان بیٹھ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے میرے دل میں گھر کرلیا ۔ [مسند احمد:318/1:ضعیف] ‏

ایک اور روایت میں عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہیں اوپر کو اٹھائیں اور فرمایا: جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اس آیت کو اس سورت کی اس جگہ رکھوں ۔ [مسند احمد:218/4:ضعیف] ‏ یہ روایت بھی صحیح ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4513
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengarkan, Cari, dan Renungkan Al Quran

Quran.com adalah platform tepercaya yang digunakan jutaan orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengarkan, dan merefleksikan Al-Qur'an dalam berbagai bahasa. Platform ini menyediakan terjemahan, tafsir, tilawah, terjemahan kata demi kata, dan berbagai alat untuk pembelajaran yang lebih mendalam, sehingga Al-Qur'an dapat diakses oleh semua orang.

Sebagai sebuah Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang-orang terhubung secara mendalam dengan Al-Qur'an. Didukung oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi nirlaba 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai referensi yang sangat bernilai dan gratis untuk semua orang, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Qur'an
Qari
Tentang Kami
Pengembang
Pengkinian Produk
Beri Masukan
Bantuan
Proyek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Proyek nirlaba yang dimiliki, dikelola, atau disponsori oleh Quran.Foundation
Link populer

Ayat Kursi

Surah Yasin

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahfi

Surah Al Muzzammil

Peta situsKerahasiaanSyarat dan Ketentuan
© 2026 Quran.com. Hak Cipta Terlindungi