Masuk
🚀 Ikuti Tantangan Ramadan kami!
Pelajari lebih lanjut
🚀 Ikuti Tantangan Ramadan kami!
Pelajari lebih lanjut
Masuk
Masuk
22:46
افلم يسيروا في الارض فتكون لهم قلوب يعقلون بها او اذان يسمعون بها فانها لا تعمى الابصار ولاكن تعمى القلوب التي في الصدور ٤٦
أَفَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌۭ يَعْقِلُونَ بِهَآ أَوْ ءَاذَانٌۭ يَسْمَعُونَ بِهَا ۖ فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى ٱلْأَبْصَـٰرُ وَلَـٰكِن تَعْمَى ٱلْقُلُوبُ ٱلَّتِى فِى ٱلصُّدُورِ ٤٦
اَفَلَمۡ
يَسِيۡرُوۡا
فِى
الۡاَرۡضِ
فَتَكُوۡنَ
لَهُمۡ
قُلُوۡبٌ
يَّعۡقِلُوۡنَ
بِهَاۤ
اَوۡ
اٰذَانٌ
يَّسۡمَعُوۡنَ
بِهَا​ ۚ
فَاِنَّهَا
لَا
تَعۡمَى
الۡاَبۡصَارُ
وَلٰـكِنۡ
تَعۡمَى
الۡـقُلُوۡبُ
الَّتِىۡ
فِى
الصُّدُوۡرِ‏
٤٦
Maka tidak pernahkah mereka berjalan di bumi, sehingga hati (akal) mereka dapat memahami, telinga mereka dapat mendengar? Sebenarnya bukan mata itu yang buta, tetapi yang buta ialah hati yang di dalam dada.
Tafsir
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Ayat-ayat terkait

آیت 46 اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَکُوْنَ لَہُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِہَآ ”اگر یہ لوگ عقل اور سمجھ سے کام لیتے تو پیغمبروں کو جھٹلانے والی قوموں کی بستیوں کے کھنڈرات کو دیکھ کر عبرت پکڑتے اور اصل بات کی تہہ تک پہنچتے۔ اس آیت میں ایک بہت اہم نکتہ بیان ہوا ہے کہ یہاں لفظ ”قلب“ کے ساتھ عقل اور سمجھنے کے تعلق کی بات ہوئی ہے۔ یہ بات کئی دفعہ اس سے پہلے بھی میں دہرا چکا ہوں کہ انسان ایک مرکب وجود کا حامل ہے۔ اس مرکب کی ایک اکائی تو اس کا جسم ہے جو خالص ایک حیوانی وجود ہے۔ اس وجود میں حیوانوں کی تمام تر خصوصیات faculties موجود ہیں۔ اس لحاظ سے انسان گویا اعلیٰ ترین حیوان ہے ‘ یعنی اپنے جسم کی ساخت کے اعتبار سے وہ تمام حیوانوں سے افضل ہے۔ لیکن اپنے اس حیوانی وجود کے ساتھ ساتھ انسان اپنا ایک روحانی وجود بھی رکھتا ہے ‘ جو اس کے حیوانی وجود سے علیحدہ اور مستقل بالذات وجود ہے۔ انسان کے ان دونوں وجودوں کے ملاپ اور امتزاج کی ترکیب اور کیفیت کے متعلق ہم کچھ بھی ادراک نہیں رکھتے۔ ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ انسانی وجود کے اندر جو ”جان“ life ہے وہ کہاں ہے ؟ کیا یہ جان دل میں ہے ؟ لیکن دل تو آج کل بدل بھی دیا جاتا ہے اور جان وہیں کی وہیں رہتی ہے۔ تو کیا یہ جان دل سے متعلق ہے یا دماغ سے متعلق ؟ حقیقت بہر حال یہی ہے کہ اس کے متعلق ہم واقعی نہیں جانتے۔ تو جب ہم جان کے متعلق ہی کچھ نہیں جانتے تو اس سے آگے بڑھ کر ”روح“ کے متعلق ہم کیا جان سکتے ہیں کہ انسان کی روح اس کے جسم کے اندر کس طور سے صحبت پذیر ہے ؟ اتصالے ّ بےتکیف بےقیاس ! ہست رب الناسّ را با جان ناس انسان کے حیوانی اور روحانی وجود میں باہم مصاحبت اور اتصال تو ہے ‘ لیکن اس کی نوعیت واقعتا کیا ہے ؟ بقول شاعر یہ مصاحبت اور اتصال ”بےتکیف و بےقیاس“ ہے۔ نہ اس کی کیفیت معلوم ہوسکتی ہے اور نہ ہی اسے کسی اور چیز پر قیاس کیا جاسکتا ہے ‘ لیکن انسان کے دو علیحدہ علیحدہ وجود بہر حال موجود ہیں۔ ان میں سے اس کا روحانی وجود بہت پہلے عالم ارواح میں پیدا کیا گیا تھا ‘ جس کا حوالہ سورة الانعام کی آیت 94 میں اس طرح آیا ہے : کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ جبکہ ہر انسان کے مادی یا جسمانی وجود کی پیدائش اس دنیا یا عالم خلق کے اندر اپنے اپنے وقت پر ہوتی ہے۔اس ساری تفصیل میں سیاق وسباق کے حوالے سے سمجھنے کی اصل بات یہ ہے کہ انسان کے دونوں وجودوں میں سے ہر وجود کی اپنی اپنی صلاحیتیں اور اپنے اپنے ذرائع علم ہیں۔ روح کی اپنی عقل ‘ اپنی بصارت اور اپنی سماعت ہے ‘ جبکہ حیوانی وجود کی اپنی عقل ہے ‘ اپنی آنکھیں اور اپنے کان ہیں۔ سورة بنی اسرائیل کی اس آیت میں حیوانی وجود ہی کے حواس کا ذکر ہے : اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓءِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْءُوْلاً ۔ سورة بنی اسرائیل کے مطالعے کے دوران اس آیت کے تحت حیوانی وجود کے ذرائع علم سے متعلق تفصیلاً گفتگو ہوچکی ہے۔ اب آیت زیر نظر میں روحانی وجود کے ذرائع علم کی بات ہو رہی ہے۔ اس کو مختصراً یوں سمجھ لیں کہ روح دیکھتی بھی ہے ‘ سنتی بھی ہے اور سمجھتی بھی ہے۔ چناچہ اسی حوالے سے یہاں فرمایا گیا ہے کہ ان لوگوں کے دل ہوتے جن سے یہ بات سمجھتے !فَاِنَّہَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ ”ذرا غور کریں ‘ یہ کون سا اندھا پن ہے ؟ دراصل یہی وہ اندھا پن تھا جو ابوجہل ‘ ابو لہب اور ولید بن مغیرہ جیسے لوگوں کو لاحق تھا۔ ان کی آنکھیں تو اندھی نہیں تھیں ‘ لیکن ان کے دل مکمل طور پر اندھے ہوچکے تھے۔ ان کی روحوں پر دنیوی اغراض ‘ ہٹ دھرمیوں اور عصبیتوں کے غلیظ پردے پڑچکے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی روحیں نہ دیکھ سکتی تھیں ‘ نہ سن سکتی تھیں اور نہ سمجھ سکتی تھیں۔ ایسے لوگوں کا دیکھنا اور سننا صرف حیوانی سطح کا دیکھنا اور سننا ہوتا ہے۔ جیسے تیزی سے گزرتی ہوئی کار کو دیکھ کر انسان بھی ایک طرف ہوجاتا ہے اور کتا بھی اس سے اپنا بچاؤ کرلیتا ہے۔ اس حوالے سے انسان اور کتے ّ کے دیکھنے میں کوئی فرق نہیں۔ چناچہ انسان کو چاہیے کہ اپنی ان صلاحیتوں کے اعتبار سے حیوانوں کی سطح سے ترقی کر کے انسانی مقام و مرتبہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اسی نکتہ کو اقبال جیسے صاحب نظر نے یوں بیان کیا ہے : ”دیدن دگر آموز ! شنیدن دگر آموز !“ کہ ذرا دوسری طرح کا دیکھنا سیکھو اور دوسرے انداز کا سننا سیکھو ! قریش مکہّ کے تجارتی قافلے عذاب الٰہی کی زد میں آنے والی تباہ شدہ بستیوں کے کھنڈرات کے پاس سے گزرا کرتے تھے۔ وہ لوگ ان کھنڈرات کو دیکھتے تو تھے لیکن وہ یہ سب کچھ حیوانی آنکھوں سے دیکھتے تھے۔ چناچہ نہ وہ ان سے کوئی سبق حاصل کرتے تھے ‘ نہ عبرت پکڑتے تھے۔ انسان کی یہی وہ کیفیت ہے جس کے بارے میں آیت زیر مطالعہ میں فرمایا گیا ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوا کرتیں بلکہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں۔ اس لیے کہ روح کا مسکن قلب ہے۔ ہم یہ تو نہیں سمجھ سکتے کہ اس ملاپ کی نوعیت اور کیفیت کیا ہے اور نہ ہی ہم دل کے اندر کسی طریقے سے روح کے اثرات کا کھوج لگا سکتے ہیں ‘ کیونکہ وہ ایک غیر مرئی چیز ہے ‘ لیکن انسان کے حیوانی وجود کے اندر روح کا تعلق بہر حال اس کے ”قلب“ کے ساتھ ہی ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengarkan, Cari, dan Renungkan Al Quran

Quran.com adalah platform tepercaya yang digunakan jutaan orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengarkan, dan merefleksikan Al-Qur'an dalam berbagai bahasa. Platform ini menyediakan terjemahan, tafsir, tilawah, terjemahan kata demi kata, dan berbagai alat untuk pembelajaran yang lebih mendalam, sehingga Al-Qur'an dapat diakses oleh semua orang.

Sebagai sebuah Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang-orang terhubung secara mendalam dengan Al-Qur'an. Didukung oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi nirlaba 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai referensi yang sangat bernilai dan gratis untuk semua orang, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Qur'an
Qari
Tentang Kami
Pengembang
Pengkinian Produk
Beri Masukan
Bantuan
Proyek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Proyek nirlaba yang dimiliki, dikelola, atau disponsori oleh Quran.Foundation
Link populer

Ayat Kursi

Surah Yasin

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahfi

Surah Al Muzzammil

Peta situsKerahasiaanSyarat dan Ketentuan
© 2026 Quran.com. Hak Cipta Terlindungi