Masuk
🚀 Ikuti Tantangan Ramadan kami!
Pelajari lebih lanjut
🚀 Ikuti Tantangan Ramadan kami!
Pelajari lebih lanjut
Masuk
Masuk
2:196
واتموا الحج والعمرة لله فان احصرتم فما استيسر من الهدي ولا تحلقوا رءوسكم حتى يبلغ الهدي محله فمن كان منكم مريضا او به اذى من راسه ففدية من صيام او صدقة او نسك فاذا امنتم فمن تمتع بالعمرة الى الحج فما استيسر من الهدي فمن لم يجد فصيام ثلاثة ايام في الحج وسبعة اذا رجعتم تلك عشرة كاملة ذالك لمن لم يكن اهله حاضري المسجد الحرام واتقوا الله واعلموا ان الله شديد العقاب ١٩٦
وَأَتِمُّوا۟ ٱلْحَجَّ وَٱلْعُمْرَةَ لِلَّهِ ۚ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا ٱسْتَيْسَرَ مِنَ ٱلْهَدْىِ ۖ وَلَا تَحْلِقُوا۟ رُءُوسَكُمْ حَتَّىٰ يَبْلُغَ ٱلْهَدْىُ مَحِلَّهُۥ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ بِهِۦٓ أَذًۭى مِّن رَّأْسِهِۦ فَفِدْيَةٌۭ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍۢ ۚ فَإِذَآ أَمِنتُمْ فَمَن تَمَتَّعَ بِٱلْعُمْرَةِ إِلَى ٱلْحَجِّ فَمَا ٱسْتَيْسَرَ مِنَ ٱلْهَدْىِ ۚ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَـٰثَةِ أَيَّامٍۢ فِى ٱلْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ ۗ تِلْكَ عَشَرَةٌۭ كَامِلَةٌۭ ۗ ذَٰلِكَ لِمَن لَّمْ يَكُنْ أَهْلُهُۥ حَاضِرِى ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ ١٩٦
وَاَتِمُّوا
الۡحَجَّ
وَالۡعُمۡرَةَ
لِلّٰهِؕ
فَاِنۡ
اُحۡصِرۡتُمۡ
فَمَا
اسۡتَيۡسَرَ
مِنَ
الۡهَدۡىِ​ۚ
وَلَا
تَحۡلِقُوۡا
رُءُوۡسَكُمۡ
حَتّٰى
يَبۡلُغَ
الۡهَدۡىُ
مَحِلَّهٗ ؕ
فَمَنۡ
كَانَ
مِنۡكُمۡ
مَّرِيۡضًا
اَوۡ
بِهٖۤ
اَذًى
مِّنۡ
رَّاۡسِهٖ
فَفِدۡيَةٌ
مِّنۡ
صِيَامٍ
اَوۡ
صَدَقَةٍ
اَوۡ
نُسُكٍۚ
فَاِذَآ
اَمِنۡتُمۡ
فَمَنۡ
تَمَتَّعَ
بِالۡعُمۡرَةِ
اِلَى
الۡحَجِّ
فَمَا
اسۡتَيۡسَرَ
مِنَ
الۡهَدۡىِ​ۚ
فَمَنۡ
لَّمۡ
يَجِدۡ
فَصِيَامُ
ثَلٰثَةِ
اَيَّامٍ
فِى
الۡحَجِّ
وَسَبۡعَةٍ
اِذَا
رَجَعۡتُمۡؕ
تِلۡكَ
عَشَرَةٌ
كَامِلَةٌ  ؕ
ذٰ لِكَ
لِمَنۡ
لَّمۡ
يَكُنۡ
اَهۡلُهٗ
حَاضِرِىۡ
الۡمَسۡجِدِ
الۡحَـرَامِ​ؕ
وَاتَّقُوا
اللّٰهَ
وَاعۡلَمُوۡٓا
اَنَّ
اللّٰهَ
شَدِيۡدُ
الۡعِقَابِ‏
١٩٦
Dan sempurnakanlah ibadah haji dan umrah karena Allah. Tetapi jika kamu terkepung (oleh musuh), maka (sembelihlah) hadyu1 yang mudah didapat, dan jangan kamu mencukur kepalamu sebelum hadyu sampai di tempat penyembelihannya. Jika ada di antara kamu yang sakit atau ada gangguan di kepalanya (lalu dia bercukur), maka dia wajib berfidyah, yaitu berpuasa, bersedekah atau berkurban. Apabila kamu dalam keadaan aman, maka siapa yang mengerjakan umrah sebelum haji, dia (wajib menyembelih) hadyu yang mudah didapat. Tetapi jika dia tidak mendapatkannya, maka dia (wajib) berpuasa tiga hari dalam (musim) haji dan tujuh (hari) setelah kamu kembali. Itulah sepuluh (hari) yang lengkap. Demikian itu, bagi orang yang keluarganya tidak ada (tinggal) di sekitar Masjidilharam. Bertakwalah kepada Allah dan ketahuilah bahwa Allah sangat keras hukuman-Nya.
Tafsir
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat

آیت 196 وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ ط۔ عمرہ کے لیے احرام تو مدینہ منورہ سے سات میل باہر نکل کر ہی باندھ لیا جائے گا ‘ لیکن حج مکمل تب ہوگا جب طواف بھی ہوگا ‘ وقوف عرفہ بھی ہوگا اور اس کے سارے مناسک ادا کیے جائیں گے۔ لہٰذا جو شخص بھی حج یا عمرہ کی نیت کرلے تو پھر اسے تمام مناسک کو مکمل کرنا چاہیے ‘ کوئی کمی نہ رہے۔فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ یعنی روک دیا جائے ‘ جیسا کہ 6 ہجری میں ہوا کہ مسلمانوں کو صلح حدیبیہ کرنی پڑی اور عمرہ ادا کیے بغیر واپس جانا پڑا۔ مشرکین مکہ اڑ گئے تھے کہ مسلمانوں کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ ج۔ یہ دم احصار کہلاتا ہے کہ چونکہ اب ہم آگے نہیں جاسکتے ‘ ہمیں یہیں احرام کھولنا پڑ رہا ہے تو ہم اللہ کے نام پر یہ جانور دے رہے ہیں۔ یہ ایک طرح سے اس کا کفارہ ہے۔ّوَلاَ تَحْلِقُوْا رُءُ وْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہٗ ط۔ یعنی جہاں جا کر قربانی کا جانور ذبح ہونا ہے وہاں پہنچ نہ جائے۔ اگر آپ کو حج یا عمرہ سے روک دیا گیا اور آپ نے قربانی کے جانور آگے بھیج دیے تو آپ کو روکنے والے ان جانوروں کو نہیں روکیں گے ‘ اس لیے کہ ان کا گوشت تو انہیں کھانے کو ملے گا۔ اب اندازہ کرلیا جائے کہ اتنا وقت گزر گیا ہے کہ قربانی کا جانور اپنے مقام پر پہنچ گیا ہوگا۔فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِہٖٓ اَذًی مِّنْ رَّاْسِہٖ یعنی سر میں کوئی زخم وغیرہ ہو اور اس کی وجہ سے بال کٹوانے ضروری ہوجائیں۔فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ ج۔ اگر اس ہدی کے جانور کے کعبہ پہنچنے سے پہلے پہلے تمہیں اپنے بال کاٹنے پڑیں تو فدیہ ادا کرنا ہوگا۔ یعنی ایک کمی جو رہ گئی ہے اس کی تلافی کے لیے کفارہّ ادا کرنا ہوگا۔ اس کفارے ّ کی تین صورتیں بیان ہوئی ہیں : روزے ‘ یا صدقہ یا قربانی۔ اس کی وضاحت احادیث نبویہ ﷺ سے ہوتی ہے کہ یا تو تین دن کے روزے رکھے جائیں ‘ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے یا کم از کم ایک بکری کی قربانی دی جائے۔ اس قربانی کو دم جنایت کہتے ہیں۔فَاِذَآ اَمِنْتُمْ قف فَمَنْ تَمَتَّعَ بالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِج رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے اہل عرب کے ہاں ایک سفر میں حج اور عمرہ دونوں کرنا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ ان کے نزدیک یہ کعبہ کی توہین تھی۔ ان کے ہاں حج کے لیے تین مہینے شوال ‘ ذوالقعدہ اور ذوالحجہ تھے ‘ جبکہ رجب کا مہینہ عمرے کے لیے مخصوص تھا۔ وہ عمرے کے لیے علیحدہ سفر کرتے اور حج کے لیے علیحدہ۔ یہ بات حدود حرم میں رہنے والوں کے لیے تو آسان تھی ‘ لیکن اس امت کو تو پوری دنیا میں پھیلنا تھا اور دور دراز سے سفر کر کے آنے والوں کے لیے اس میں مشقت تھی۔ لہٰذا شریعت محمدی ﷺ میں لوگوں کے لیے جہاں اور آسانیاں پیدا کی گئیں وہاں حج وعمرہ کے ضمن میں یہ آسانی بھی پیدا کی گئی کہ ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ دونوں کو جمع کرلیا جائے۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ پہلے عمرہ کر کے احرام کھول دیا جائے اور پھر آٹھویں ذوالحجہ کو حج کا احرام باندھ لیا جائے۔ یہ حج تمتع کہلاتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ حج کے لیے احرام باندھا تھا ‘ جاتے ہی عمرہ بھی کرلیا ‘ لیکن احرام کھولا نہیں اور اسی احرام میں حج بھی کرلیا۔ یہ حج قرآن کہلاتا ہے۔ لیکن اگر شروع ہی سے صرف حج کا احرام باندھا جائے اور عمرہ نہ کیا جائے تو یہ حج افراد کہلاتا ہے۔ قرآن یا تمتع کرنے والے پر قربانی ضروری ہے۔ امام ابوحنیفہ رض اسے دم شکر کہتے ہیں اور قربانی کرنے والے کو اس میں سے کھانے کی اجازت دیتے ہیں۔ امام شافعی رح کے نزدیک یہ دم جبر ہے اور قربانی کرنے والے کو اس میں سے کھانے کی اجازت نہیں ہے۔فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْْحَجِّ یعنی عین ایام حج میں ساتویں ‘ آٹھویں اور نویں ذوالحجہ کو روزہ رکھے۔ دسویں کا روزہ نہیں ہوسکتا ‘ وہ عید کا دن یوم النحر ہے۔وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ ط اپنے گھروں میں جا کر سات روزے رکھو۔تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ط ذٰلِکَ لِمَنْ لَّمْ یَکُنْ اَہْلُہٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ط یعنی ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ کو جمع کرنے کی رعایت ‘ خواہ تمتعّ کی صورت میں ہو یا قران کی صورت میں ‘ صرف آفاقی کے لیے ہے ‘ جس کے اہل و عیال جوار حرم میں نہ رہتے ہوں ‘ یعنی جو حدودحرم کے باہر سے حج کرنے آیا ہو۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengarkan, Cari, dan Renungkan Al Quran

Quran.com adalah platform tepercaya yang digunakan jutaan orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengarkan, dan merefleksikan Al-Qur'an dalam berbagai bahasa. Platform ini menyediakan terjemahan, tafsir, tilawah, terjemahan kata demi kata, dan berbagai alat untuk pembelajaran yang lebih mendalam, sehingga Al-Qur'an dapat diakses oleh semua orang.

Sebagai sebuah Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang-orang terhubung secara mendalam dengan Al-Qur'an. Didukung oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi nirlaba 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai referensi yang sangat bernilai dan gratis untuk semua orang, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Qur'an
Qari
Tentang Kami
Pengembang
Pengkinian Produk
Beri Masukan
Bantuan
Proyek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Proyek nirlaba yang dimiliki, dikelola, atau disponsori oleh Quran.Foundation
Link populer

Ayat Kursi

Surah Yasin

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahfi

Surah Al Muzzammil

Peta situsKerahasiaanSyarat dan Ketentuan
© 2026 Quran.com. Hak Cipta Terlindungi