Masuk
🚀 Ikuti Tantangan Ramadan kami!
Pelajari lebih lanjut
🚀 Ikuti Tantangan Ramadan kami!
Pelajari lebih lanjut
Masuk
Masuk
41:34
ولا تستوي الحسنة ولا السيية ادفع بالتي هي احسن فاذا الذي بينك وبينه عداوة كانه ولي حميم ٣٤
وَلَا تَسْتَوِى ٱلْحَسَنَةُ وَلَا ٱلسَّيِّئَةُ ۚ ٱدْفَعْ بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ فَإِذَا ٱلَّذِى بَيْنَكَ وَبَيْنَهُۥ عَدَٰوَةٌۭ كَأَنَّهُۥ وَلِىٌّ حَمِيمٌۭ ٣٤
وَلَا
تَسۡتَوِى
الۡحَسَنَةُ
وَ لَا
السَّيِّئَةُ ؕ
اِدۡفَعۡ
بِالَّتِىۡ
هِىَ
اَحۡسَنُ
فَاِذَا
الَّذِىۡ
بَيۡنَكَ
وَبَيۡنَهٗ
عَدَاوَةٌ
كَاَنَّهٗ
وَلِىٌّ
حَمِيۡمٌ‏ 
٣٤
Dan tidaklah sama kebaikan dan kejahatan. Tolaklah (kejahatan itu) dengan cara yang lebih baik, sehingga orang yang ada rasa permusuhan antara kamu dan dia akan seperti teman yang setia.
Tafsir
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat

آیت 34{ وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ } ”اور دیکھو ! اچھائی اور برائی برابر نہیں ہوتے۔“ اب کون کہے گا کہ یہ دونوں برابر ہیں۔ چناچہ بات اس نکتے سے شروع کی جا رہی ہے جو سب کے ہاں متفق علیہ اور مسلم ّہے۔ { اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ } ”تم مدافعت کرو بہترین طریقے سے“ لوگ بیشک آپ کو گالیاں دیں ‘ مگر آپ انہیں دعائیں دو ‘ اگر کوئی آپ کو پتھر مارے تو آپ جواب میں اسے پھول پیش کرو۔ یہ وہ حکمت عملی ہے جو کبھی ناکام نہیں ہوتی۔ اس طرز عمل کے سامنے بڑے سے بڑا کٹھور دل انسان بھی نرم پڑجاتا ہے۔ یہاں اس مضمون کے حوالے سے یہ نکتہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ اگلی سورت یعنی سورة الشوریٰ میں اس تصویر کا دوسرا رخ بھی نظر آئے گا۔ لیکن یاد رہے کہ سورة الشوریٰ میں سختی کا جواب سختی سے دینے کی بات اقامت دین کے حوالے سے ہوئی ہے جبکہ یہاں دعوت دین کے مرحلے کی حکمت عملی بتائی جا رہی ہے۔ دونوں مرحلوں پر پالیسی کے اس فرق کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بہر حال ”دعوت“ کے مرحلے کی پالیسی یہی ہے کہ جب تم دعوت کو لے کر چلو تو ایسے بےضرر انسان بن جائو کہ بدھ مت کے بھکشو نظر آئو۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے اسی حکمت عملی کے بارے میں فرمایا تھا کہ تم سانپ کی مانند چوکنے اور فاختہ کی طرح بےضرر بنو ! یعنی ایک داعی کو ایسا احمق اور بدھو نہیں ہونا چاہیے کہ دوسرے اسے ضرر پہنچا جائیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ خود اس کی ذات سے کسی دوسرے کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اس حوالے سے رسالت مآب ﷺ کی سیرت ہمارے سامنے ہے۔ آپ ﷺ نے گالیاں دینے والوں کو ہمیشہ دعائیں دیں ‘ بلکہ آپ ﷺ نے تو ابوجہل جیسے دشمنوں کی ہدایت کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں ؎سلام اس ﷺ پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں سلام اس ﷺ پر کہ جس نے خوں کے پیاسوں کو قبائیں دیں ! زیر مطالعہ موضوع یعنی ”دعوت توحید“ کی اہمیت کو اقامت دین کی جدوجہد کے حوالے سے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ توحید عملی کے تدریجی مراحل کو اپنے ذہن میں ایک مرتبہ پھر سے تازہ کرلیں۔ اب تک ہم انفرادی سطح پر توحید عملی کے دو پہلوئوں کا مطالعہ کرچکے ہیں۔ سورة الزمر میں توحید کا خارجی یا ظاہری پہلو بیان ہوا ہے کہ عبادت صرف اللہ کی کرو اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ اس کے بعد سورة المومن میں توحید کے داخلی پہلو کا ذکر آیا تھا کہ دعا صرف اللہ سے کرو ‘ اور وہ بھی اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ اب سورة حٰمٓ السجدہ میں توحید کو انفرادی سطح سے اجتماعیت کی طرف بڑھانے کی بات ہو رہی ہے۔ گویا ”توحید“ ایک فرد سے نکل کر دوسرے افراد تک پہنچنا شروع ہوگی اور دعوت کے ذریعے ”متعدی“ صورت اختیارکر کے معاشرے میں پھیلتی چلی جائے گی۔ سورة آل عمران میں اس بنیاد پر باقاعدہ ایک جماعت قائم کرنے کی ضرورت اور اہمیت ان الفاظ میں بیان فرمائی گئی ہے : { وَلْتَکُنْ مِّنکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِط وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ } ”اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ضرور ہونی چاہیے جو خیر کی طرف دعوت دے ‘ نیکی کا حکم دیتی رہے اور بدی سے روکتی رہے۔ اور یہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔“ بہر حال زیر مطالعہ آیات کا موضوع دعوت توحید ہے اور اس حوالے سے داعیانِ حق کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ تم برائی کا جواب ہمیشہ نیکی اور خوش اخلاقی سے دو۔ اگر تم یہ روش اختیار کرو گے : { فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ } ”تو تم دیکھو گے کہ وہی شخص جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے وہ گویا گرم جوش دوست بن جائے گا۔“ انسان آخر انسان ہے۔ اگر کوئی شخص ہر وقت آپ کی مخالفت پر ہی کمر بستہ ہے اور آپ ہیں کہ ہمیشہ اس کی بھلائی کے لیے کوشاں ہیں تو آخر وہ کب تک اپنے منفی طرزعمل پر کاربند رہے گا۔ بالآخر اسے آپ کے اخلاق کے سامنے ہتھیار ڈالنا ہی پڑیں گے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengarkan, Cari, dan Renungkan Al Quran

Quran.com adalah platform tepercaya yang digunakan jutaan orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengarkan, dan merefleksikan Al-Qur'an dalam berbagai bahasa. Platform ini menyediakan terjemahan, tafsir, tilawah, terjemahan kata demi kata, dan berbagai alat untuk pembelajaran yang lebih mendalam, sehingga Al-Qur'an dapat diakses oleh semua orang.

Sebagai sebuah Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang-orang terhubung secara mendalam dengan Al-Qur'an. Didukung oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi nirlaba 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai referensi yang sangat bernilai dan gratis untuk semua orang, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Qur'an
Qari
Tentang Kami
Pengembang
Pengkinian Produk
Beri Masukan
Bantuan
Proyek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Proyek nirlaba yang dimiliki, dikelola, atau disponsori oleh Quran.Foundation
Link populer

Ayat Kursi

Surah Yasin

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahfi

Surah Al Muzzammil

Peta situsKerahasiaanSyarat dan Ketentuan
© 2026 Quran.com. Hak Cipta Terlindungi