Masuk
🚀 Ikuti Tantangan Ramadan kami!
Pelajari lebih lanjut
🚀 Ikuti Tantangan Ramadan kami!
Pelajari lebih lanjut
Masuk
Masuk
92:4
ان سعيكم لشتى ٤
إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّىٰ ٤
اِنَّ
سَعۡيَكُمۡ
لَشَتّٰىؕ‏
٤
Sungguh, usahamu memang beraneka macam.
Tafsir
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat

آیت 4{ اِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتّٰی۔ } ”بیشک تمہاری کوشش الگ الگ ہے۔“ یعنی جس طرح کائنات کی باقی چیزوں میں اختلاف و تضاد پایا جاتا ہے اسی طرح تمہارے مختلف افراد کی کوششوں اور محنتوں کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ ظاہر ہے زندگی کے شب و روز میں محنت ‘ مشقت اور بھاگ دوڑ کرنا تو انسان کا مقدر ہے : { لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ۔ } البلد ”بیشک ہم نے انسان کو پیدا ہی محنت اور مشقت میں کیا ہے“۔ ہر انسان اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالنے کے لیے بھی مشقت کرتا ہے۔ پھر اگر وہ کسی نظریے کا پیروکار ہے تو اس نظریے کی اشاعت اور سربلندی کے لیے بھی تگ و دو کرتا ہے اور اس نظریے کے تحت ایک نظام کے قیام کے لیے بھی جدوجہد کرتا ہے۔ غرض اپنے اپنے ماحول اور حالات کے مطابق محنت اور مشقت تو سب انسان ہی کرتے ہیں لیکن ان کی مشقتوں کے نتائج مختلف ہوتے ہیں۔ ایک شخص اپنی محنت کے نتیجے میں جنت خرید لیتا ہے اور دوسرا اپنی محنت و مشقت کی پاداش میں خود کو دوزخ کا مستحق بنالیتا ہے۔ انسانی محنت میں اس فرق کی وضاحت حضور ﷺ کی اس حدیث میں ملتی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کُلُّ النَّاسِ یَغْدُوْ فَبَائِِعٌ نَفْسَہٗ فَمُعْتِقُھَا اَوْ مُوْبِقُھَا 1 ”ہر شخص روزانہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اپنی جان کا سودا کرتا ہے ‘ پھر یا تو وہ اسے آزاد کرا لیتا ہے یا اسے تباہ کر بیٹھتا ہے“۔ کوئی اپنی جسمانی قوت کا سودا کرتا ہے ‘ کوئی ذہنی صلاحیت بیچتا ہے ‘ کوئی اپنی مہارت نیلام کرتا ہے ‘ کوئی اپنا وقت فروخت کرتا ہے۔ غرض اپنے اپنے طریقے اور اپنے اپنے انداز میں ہر شخص دن بھر خود کو بیچتا ہے۔ اب ان میں سے ایک شخص وہ ہے جس نے خود کو بیچتے ہوئے حلال کو مدنظر رکھا ‘ اس نے جھوٹ نہیں بولا ‘ کسی کو دھوکہ نہیں دیا ‘ کم معاوضہ قبول کرلیا لیکن حرام سے اجتناب کیا۔ ایسا شخص شام کو لوٹے گا تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے شامل حال ہوگی۔ اس کے مقابلے میں ایک دوسرے شخص نے بھی دن بھر مشقت کی ‘ مگر حلال و حرام کی تمیز سے بےنیاز ہو کر ‘ معاوضہ اس نے بھی لیامگر غلط بیانی کرکے اور دوسروں کو فریب دے کر ‘ ناپ تول میں کمی کر کے اور گھٹیا چیز کو بڑھیا چیز کے دام پر بیچ کر۔ اب یہ شخص جب شام کو گھر آئے گا تو جہنم کے انگاروں کی گٹھڑی اٹھائے ہوئے آئے گا۔ اب آئندہ آیات میں انسانی زندگی کے دو راستوں میں سے ہر راستے کے تین اوصاف یا تین سنگ ہائے میل کی نشاندہی کردی گئی ہے ‘ تاکہ ہر شخص کو معلوم ہوجائے کہ اس نے کون سا راستہ اختیار کیا ہے ‘ اس راستے پر اب وہ کس مقام پر ہے اور اگر وہ مزید آگے بڑھے گا تو آگے کون سی منزل اس کی منتظر ہوگی۔ اس مضمون کے اعتبار سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ قرآن مجید کی اہم ترین سورت ہے۔ اب ملاحظہ ہوں ان میں سے پہلے راستے کے تین اوصاف :

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengarkan, Cari, dan Renungkan Al Quran

Quran.com adalah platform tepercaya yang digunakan jutaan orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengarkan, dan merefleksikan Al-Qur'an dalam berbagai bahasa. Platform ini menyediakan terjemahan, tafsir, tilawah, terjemahan kata demi kata, dan berbagai alat untuk pembelajaran yang lebih mendalam, sehingga Al-Qur'an dapat diakses oleh semua orang.

Sebagai sebuah Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang-orang terhubung secara mendalam dengan Al-Qur'an. Didukung oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi nirlaba 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai referensi yang sangat bernilai dan gratis untuk semua orang, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Qur'an
Qari
Tentang Kami
Pengembang
Pengkinian Produk
Beri Masukan
Bantuan
Proyek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Proyek nirlaba yang dimiliki, dikelola, atau disponsori oleh Quran.Foundation
Link populer

Ayat Kursi

Surah Yasin

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahfi

Surah Al Muzzammil

Peta situsKerahasiaanSyarat dan Ketentuan
© 2026 Quran.com. Hak Cipta Terlindungi