Masuk
🚀 Ikuti Tantangan Ramadan kami!
Pelajari lebih lanjut
🚀 Ikuti Tantangan Ramadan kami!
Pelajari lebih lanjut
Masuk
Masuk
9:103
خذ من اموالهم صدقة تطهرهم وتزكيهم بها وصل عليهم ان صلاتك سكن لهم والله سميع عليم ١٠٣
خُذْ مِنْ أَمْوَٰلِهِمْ صَدَقَةًۭ تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَوٰتَكَ سَكَنٌۭ لَّهُمْ ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ١٠٣
خُذۡ
مِنۡ
اَمۡوَالِهِمۡ
صَدَقَةً
تُطَهِّرُهُمۡ
وَتُزَكِّيۡهِمۡ
بِهَا
وَصَلِّ
عَلَيۡهِمۡ​ؕ
اِنَّ
صَلٰوتَكَ
سَكَنٌ
لَّهُمۡ​ؕ
وَاللّٰهُ
سَمِيۡعٌ
عَلِيۡمٌ‏
١٠٣
Ambillah zakat dari harta mereka, guna membersihkan1 dan menyucikan2 mereka, dan berdoalah untuk mereka. Sesungguhnya doamu itu (menumbuhkan) ketenteraman jiwa bagi mereka. Allah Maha Mendengar, Maha Mengetahui.
Tafsir
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 9:103 hingga 9:104
صدقہ مال کا تزکیہ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ان کے اموال سے زکٰوۃ وصول کر لیا کرو یہ مال زکٰوۃ ان کو پاک اور صاف بنائے گا۔ اگرچہ بعض لوگوں نے «اَمْوَالِھِمْ» کی ضمیر ان لوگوں کی طرف پھیری ہے جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیا تھا اور اچھے اور برے دونوں قسم کے اعمال کئے تھے۔ لیکن در حقیقت یہ حکم خاص نہیں بلکہ عام ہے اسی لئے قبائل عرب میں سے بعض مانعین زکٰوۃ نے یہ اعتقاد کر لیا تھا کہ امام کو زکٰوۃ لینے کا حق نہیں، اور یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخصوص تھی اور اسی لئے قولہ تعالیٰ «خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ صَدَقَۃً» سے انہوں نے دلیل لی ہے۔ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان کی تاویل اور فہم فاسد کی تردید کر دی اور ان سے جنگ کی تب کہیں انہوں نے خلیفہ وقت کو زکوٰۃ ادا کی جیسا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا کہ ”اگر اونٹنی کا ایک بچہ یا رسی کا ایک ٹکڑا بھی مال زکٰوۃ کا روک لیں گے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لو ادا کرتے تھے تو منع زکٰوۃ پر میں ان سے قتال کروں گا۔‏“ [صحیح بخاری:1400:صحیح] ‏

قولہ تعالیٰ «وَ صَلِّ عَلَیۡہِمۡ» یعنی ان کے لئے دعا کرو اور طلبِ مغفرت کرو جیسا کہ صحیح مسلم میں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب کسی کے پاس سے زکٰوۃ کا مال آتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسبِ حکم الٰہی اسکے لئے دعا کرتے تھے چنانچہ جب میرے باپ نے مال زکٰوۃ پیش کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اے اللہ! ”آل ابی اوفی پر رحم فرما“ [صحیح مسلم:1087:صحیح] ‏

ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایک عورت نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے اور میرے زوج کے لئے دعا فرمائیے تو کہا کہ اللہ تیرے اور تیرے زوج پر رحم و کرم فرمائے۔ [سنن ابوداود:1533، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ قولہ تعالٰی «اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمۡ» تمھاری دعا ان کے لئے سکونِ قلب کا سبب ہے بعض نے صلٰوۃ کو جمع قرار دے کر صَلَوَاَتُک پڑھا ہے اور دوسروں نے واحد قرار دے کر «اِنَّ صَلَاتَکَ» پڑھا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ سکوں کے معنی رحمت کے ہیں اور قتادہ رحمہ اللہ نے کہا ہے اس کے معنی ہیں وقار «وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ» یعنی اے نبی! صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تمھاری دعاؤں کو سننے والا ہے۔

صفحہ نمبر3580

اور علیم ہے کہ کون تمھاری دعا کا مستحق ہے؟ امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وکیع نے بالاسناد روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے لئے دعا فرماتے تھے تو وہ اس کے اور اس کے بیٹوں اور پوتوں کے حق میں قبول ہو جاتی تھی۔ [مسند احمد:385/5:ضعیف] ‏ پھر ابو نعیم سے بالاسناد مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کسی آدمی اور اس کے بیٹوں اور پوتوں کے حق میں ضرور قبول ہو جاتی تھی۔ [مسند احمد:400/5:ضعیف] ‏ اور اللہ کا قول ہے «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ» [9-التوبة:104] ‏ یعنی کیا انہیں اس کا علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی نیکیوں کو لیتا ہے اور توبہ قبول فرماتا ہے۔ اس سے مقصد توبہ اور صدقہ پر لوگوں کو ابھارنا ہے کیونکہ یہی دونوں چیزیں گناہوں کو انسان سے چھڑا دیتی ہیں اور معاصی کو ملیامیٹ کر دیتی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ جو اس کے پاس توبہ پیش کرے وہ بندے کی توبہ قبول کر لیتا ہے اور کسب حلال کا ٹکڑا بھی صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سیدھے ہاتھ سے لے لیتا ہے پھر وہ صدقہ دینے والے کے لئے اس صدقہ کی پرورش کرتا جاتا ہے اور اس کو چھوٹے سے بڑا بناتا ہے حتٰی کہ صدقہ کی وہ ایک کھجور کوہِ احد کی مانند ہو جاتی ہے۔

جیسا کہ اسی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اور جیسا کہ وکیع نے بھی بالاسناد سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ صدقے کو قبول فرماتا ہے اور اس کی اپنے سیدھے ہاتھ میں لیتا ہے اور اس کی نشوونما کرتا ہے جیسا کہ تم اپنے گھوڑے ے بچے کو پال کر بڑا کرتے ہو یہاں تک کہ صدقہ کا ایک لقمہ بھی احد کا پہاڑ بن جاتا ہے۔ [مسند احمد:401/2:منکر بزیادۃ و تصدیق ذلک] ‏

اسکی تصدیق کتاب اللہ عز و جل سے بھی ہوتی ہے ”کیا انہیں علم نہیں کہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ کو قبول کرتا ہے اور زکٰوۃ و صدقات کو لے لیتا ہے اور قولہ تعالیٰ «يَمْحَقُ اللَّـهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ» [2-البقرة:276] ‏۔ یعنی اللہ تعالیٰ سود کے منافع کو برباد کر دیتا ہے اور صدقات کو اضعافاً مضاعفاً بڑھاتا رہتا ہے۔ ثوری رحمہ اللہ نے بالاسناد سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ صدقہ کا مال سائل کے ہاتھ میں پڑنے سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں پڑتا ہے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی «اَلَمۡ یَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ یَقۡبَلُ التَّوۡبَۃَ عَنۡ عِبَادِہٖ وَ یَاۡخُذُ الصَّدَقٰتِ» ‏ ابن عساکر رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ میں بہ ضمن تاریخ عبداللہ بن الشاعر سکسکی [ جو دمشقی تھے لیکن اصل وطن حمص تھا اور فقہا میں سے تھے ] ‏ بیان کیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگوں نے جہاد کیا جن کے سردار عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید رحمہ اللہ تھے،

صفحہ نمبر3581

تو ایک مسلمان نے مال غنیمت میں سے سو دینار رومی غبن کر لئے اور جب لشکر واپس ہو گیا اور لوگ گھروں کو چلے گئے تو اس کو ندامت نے آ گھیرا۔ اس نے یہ دینار اب امیر لشکر کے پاس پہنچائے۔ اس نے ان کے لینے سے انکار کر دیا کہ وہ سب لوگ تو اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے جن میں یہ تقسیم کیا جا سکتا تھا۔ اب تو میں اس کو لے نہیں سکتا اب تم قیامت کے روز اس کو اللہ کے سامنے پیش کر دینا۔ اب یہ آدمی صحابہ میں سے ہر ایک سے پوچھتا رہا لیکن سب یہی کہتے رہے۔ پھر وہ دمشق آیا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو قبول کرنے کے لیے کہا لیکن وہ بھی انکار کر گئے۔ وہ وہاں سے اپنی حالت پر روتا ہوا نکلا اور عبداللہ بن الشاعر السکسکی کے پاس سے گزرا۔ اس نے پوچھا کیوں روتا ہے؟ اس نے سارا واقعہ کہہ سنایا کہ کوئی امیر بھی ان کو نہیں لیتا۔ تو عبداللہ نے کہا کہ تم میری سنو گے اس نے کہا ضرور۔ تو اس نے کہا تم سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اورکہو کہ پانچواں حصہ جو بیت المال کا حق ہے لے لو۔ چنانچہ بیس دینار ان کے حوالے کر دو اور باقی اسی دینار ان لشکریوں کی طرف سے خیرات کر دو جو ان کے حق دار ہوسکتے تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کے ناموں اور مقامات وغیرہ سے بھی واقف ہے وہ انہیں اس کا ثواب پہنچا دے گا۔ تو اس آدمی نے ایسا ہی کیا۔ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں نے اس کو ایسا فتویٰ دیا ہوتا تو مجھے یہ بات اپنی تمام مملکت سے زیادہ محبوب تھی۔ اس نے بہت اچھی تدبیر بتائی ہے۔

صفحہ نمبر3582
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengarkan, Cari, dan Renungkan Al Quran

Quran.com adalah platform tepercaya yang digunakan jutaan orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengarkan, dan merefleksikan Al-Qur'an dalam berbagai bahasa. Platform ini menyediakan terjemahan, tafsir, tilawah, terjemahan kata demi kata, dan berbagai alat untuk pembelajaran yang lebih mendalam, sehingga Al-Qur'an dapat diakses oleh semua orang.

Sebagai sebuah Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang-orang terhubung secara mendalam dengan Al-Qur'an. Didukung oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi nirlaba 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai referensi yang sangat bernilai dan gratis untuk semua orang, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Qur'an
Qari
Tentang Kami
Pengembang
Pengkinian Produk
Beri Masukan
Bantuan
Proyek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Proyek nirlaba yang dimiliki, dikelola, atau disponsori oleh Quran.Foundation
Link populer

Ayat Kursi

Surah Yasin

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahfi

Surah Al Muzzammil

Peta situsKerahasiaanSyarat dan Ketentuan
© 2026 Quran.com. Hak Cipta Terlindungi