Registrazione
🚀 Partecipa alla nostra sfida del Ramadan!
Scopri di più
🚀 Partecipa alla nostra sfida del Ramadan!
Scopri di più
Registrazione
Registrazione
31:34
ان الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الارحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس باي ارض تموت ان الله عليم خبير ٣٤
إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥ عِلْمُ ٱلسَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ ٱلْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى ٱلْأَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِى نَفْسٌۭ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًۭا ۖ وَمَا تَدْرِى نَفْسٌۢ بِأَىِّ أَرْضٍۢ تَمُوتُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌۢ ٣٤
إِنَّ
ٱللَّهَ
عِندَهُۥ
عِلۡمُ
ٱلسَّاعَةِ
وَيُنَزِّلُ
ٱلۡغَيۡثَ
وَيَعۡلَمُ
مَا
فِي
ٱلۡأَرۡحَامِۖ
وَمَا
تَدۡرِي
نَفۡسٞ
مَّاذَا
تَكۡسِبُ
غَدٗاۖ
وَمَا
تَدۡرِي
نَفۡسُۢ
بِأَيِّ
أَرۡضٖ
تَمُوتُۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
عَلِيمٌ
خَبِيرُۢ
٣٤
In verità la scienza dell’Ora è presso Allah, Colui Che fa scendere la pioggia e conosce quello che c’è negli uteri. Nessuno conosce ciò che guadagnerà l’indomani e nessuno conosce la terra in cui morrà. In verità Allah è il Sapiente, il Ben informato 1. 2 La vera identità del personaggio che dà il nome a questa sura è avvolta nel mistero, nonostante lo sforzo dell’esegesi. Nessuna delle ipotesi avanzata dai commentatori ha raggiunto un grado di forza tale da essere comunemente accettata. La tradizione è concorde sul fatto che fu longevo («mu‘ammar») e molti autori ritengono che appartenesse al popolo degli ‘Ad. Molti hanno ritenuto che fosse uno schiavo nero che esercitava il mestiere di falegname, altri gli hanno attribuito dignità regale. Il Corano ci parla della sua saggezza, delle sue doti morali e della sua fede nell’Unicità di Allah (gloria a Lui l’Altissimo). Luqmàn istruisce suo figlio a coltivare in sé la fede e l’assiduità rituale, a raccomandare il bene e a condannare il male, alla pazienza e alla modestia. 3 Vedi Appendice 4 Appendici e 5 Secondo l’esegesi classica i verss. e alludono in particolare ad un coreiscita pagano che faceva di tutto per disturbare i sermoni di Muhammad (pace e benedizioni su di lui) ingaggiando cantastorie e cantanti e ordinando loro di esibirsi nello stesso luogo in cui l’Inviato di Allah parlava alla gente. Se consideriamo la massa della produzione spettacolare contemporanea, musicale, cinematografica e televisiva, ci rendiamo conto che la tecnica di «chi compra storie ridicole per traviare gli uomini» si è perfezionata ed ha raggiunto una diffusione planetaria. Sprofondati nelle loro poltrone, impugnando i loro telecomandi milioni e milioni di uomini e donne concludono la loro alienante giornata con una dose massiccia di sesso e violenza, volgarità e vanità, abilmente mescolati e sapientemente propinati. Lo stesso serial televisivo viene tradotto e distribuito nei cinque continenti, lo stesso improbabile poliziotto imperversa sugli schermi di decine di paesi. Lo scopo è unico, scientificamente perseguito con grande utilizzo di risorse umane e finanziarie: distogliere l’uomo dal Ricordo di Dio e dal Suo sentiero. 6 Vedi nota a XVI, 7 Vedi nota al titolo della sura. 8 A proposito del rispetto e della considerazione che i musulmani devono ai genitori, vedi tra l’altro XVII, 23-e la nota. 9 Tabari (xxI, scrisse che il versetto scese in riferimento al caso di Sa‘d ibn Waq- qàs, uno dei compagni dell’Inviato di Allah (pace e benedizioni su di lui). La madre di Sa‘d, scandalizzata e preoccupata per la conversione all’IsIàm del figlio, aveva giurato di astenersi dal cibo e dall’acqua finché il figlio non fosse ritornato alla religione idolatrica dei suoi antenati. Sa‘d non accettò il ricatto e dopo tre giorni la donna rinunciò alla sua protesta. 10 Secondo l’esegesi classica (Tabari xxI, il soggetto del versetto è la «colpa». 11 «Non voltare la tua guancia»: nel senso di «non essere sdegnoso quando ti rivolgi agli altri». 12 « un Libro luminoso»:il Sublime Corano. 13 «si afferra all’ansa più salda»: formando un anello il manico ad ansa offre maggior facilità alla presa e al suo mantenimento. Con questa similitudine Allah (gloria a Lui l’Altissimo) esemplifica la condizione di grande sicurezza in cui vive chi Lo teme. 14 Sebbene il termine «calamo» non sia usuale nel linguaggio corrente, lo abbiamo mantenuto nell’intento di conservare (quando ciò sia possibile) un minimo di assonanza con il testo coranico. Vedi anche XCVI, 15 Come già nel versetto VIII, Allah (gloria a Lui l’Altissimo) ci fa intuire la vastità dei significati delle Sue Parole. 16 «seguono una via intermedia»: tra la miscredenza e l’IsIàm. Alcuni traduttori, scegliendo un altro significato del termine «muqtased» scrivono: «seguono una retta via». 17 «l’Ingannatore»: «al-Gharùr», uno degli epiteti di Satana. 18 In Allah (gloria a Lui l’Altissimo) e solo in Lui c’è la Scienza. Egli è Colui Che conosce il passato, il presente e il futuro, tutto quello che è celato alla conoscenza degli uomini non è ignoto a Lui.
Tafsir
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Versetti correlati
غیب کی پانچ باتیں ٭٭

یہ غیب کی وہ کنجیاں ہیں جن کا علم بجز اللہ تعالیٰ کے کسی اور کو نہیں۔ مگر اس کے بعد کہ اللہ اسے علم عطا فرمائے۔ قیامت کے آنے کا صحیح وقت نہ کوئی نبی مرسل جانے نہ کوئی مقرب فرشتہ، اس کا وقت صرف اللہ ہی جانتا ہے اسی طرح بارش کب اور کہاں اور کتنی برسے گی اس کا علم بھی کسی کو نہیں ہاں جب فرشتوں کو حکم ہوتا ہے جو اس پر مقرر ہیں تب وہ جانتے ہیں اور جسے اللہ معلوم کرائے۔ اسی طرح حاملہ کے پیٹ میں کیا ہے؟ اسے بھی صرف اللہ ہی جانتا ہے ہاں جب جناب باری تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوتا ہے جو اسی کام پر مقرر ہیں تب انہیں پتا چلتا ہے کہ نر ہو گا یا مادہ، لڑکا ہو گا یا لڑکی، نیک ہو گا یا بد؟ اسی طرح کسی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کل وہ کیا کرے گا؟ نہ کسی کو یہ علم ہے کہ وہ کہاں مرے گا؟

اور آیت میں ہے «وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ» [6-الانعام:59] ‏ ” غیب کی کنجیاں اللہ ہی کے پاس ہیں جنہیں بجز اس کے اور کوئی نہیں جانتا “۔

اور حدیث میں ہے کہ غیب کی کنجیاں یہاں پانچ چیزیں ہیں جن کا بیان آیت «‏اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31-لقمان:34] ‏ میں ہے ۔ [مسند احمد:353/5:صحیح] ‏

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ باتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔ بخاری کی حدیث کے الفاظ تو یہ ہیں کہ یہ پانچ غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ [صحیح بخاری:1039] ‏

صفحہ نمبر6894

مسند احمد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے مجھے ہر چیز کی کنجیاں دی گئی ہیں سوائے پانچ کے پھر یہی آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی ۔ [مسند احمد:85/2:صحیح] ‏

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے جو ایک صاحب تشریف لائے اور پوچھنے لگے ایمان کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کو، فرشتوں کو،کتابوں کو، رسولوں کو، آخرت کو، مرنے کے بعد جی اٹھنے کو مان لینا ۔ اس نے پوچھا اسلام کیا ہے؟ فرمایا: ایک اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا نمازیں پڑھنا، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا ۔ اس نے دریافت کیا احسان کیا ہے؟ فرمایا: تیرا اس طرح اللہ کی عبادت کرنا کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو نہیں دیکھتا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے ۔ اس نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کب ہے؟ فرمایا: اس کا علم نہ مجھے اور نہ تجھے ہاں اس کی کچھ نشانیاں میں تمہیں بتادیتا ہوں۔ جب لونڈی اپنے سردار کو جنے اور جب ننگے پیروں اور ننگے بدنوں والے لوگوں کے سردار بن جائیں۔ علم قیامت ان پانچ چیزوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ وہ شخص واپس چلا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے لوٹا لاؤ لوگ دوڑ پڑے لیکن وہ کہیں بھی نظر نہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جبرائیل علیہ السلام تھے لوگوں کو دین سکھانے آئے تھے ۔ [صحیح بخاری:4777] ‏ ہم نے اس حدیث کا مطلب شرح صحیح بخاری میں خوب بیان کیا ہے۔

مسند احمد میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنی ہتھیلیاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھ کر یہ سوالات کیے تھے کہ اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تو اپنا چہرہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کر دے اور اللہ کے وحدہ لاشریک ہونے کی گواہی دے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عبد و رسول ہونے کی۔ جب تو یہ کر لے تو تو مسلمان ہو گیا ۔ پوچھا، اچھا ایمان کس کا نام ہے؟ فرمایا: اللہ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر، کتابوں پر، نبیوں پر عقیدہ رکھنا۔ موت اور موت کے بعد کی زندگی کو ماننا، جنت دوزخ، حساب، میزان، اور تقدیر کی بھلائی برائی پر ایمان رکھنا ۔ پوچھا جب میں ایسا کر لوں تو مومن ہو جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔ پھر احسان کیا پوچھا اور جواب پایا جو اوپر مذکور ہوا ہے۔ پھر قیامت کا پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ ان پانچ چیزوں میں ہے جنہیں صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت کی ۔ پھر نشانیوں میں یہ بھی ذکر ہے کہ لوگ لمبی چوڑی عمارتیں بنانے لگیں گے ۔ [مسند احمد:319/1:حسن بالشواهد] ‏

صفحہ نمبر6895

ایک صحیح سند کے ساتھ مسند احمد میں مروی ہے کہ بنو عامر قبیلے کا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کہنے لگا میں آؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادم کو بھیجا کہ جا کر انہیں ادب سکھاؤ یہ اجازت مانگنا نہیں جانتے۔ ان سے کہو پہلے سلام کرو پھر دریافت کرو کہ میں آسکتا ہوں؟ انہوں نے سن لیا اور اسی طرح سلام کیا اور اجازت چاہی یہ گئے اور جا کر کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے کیا لے کر آئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھلائی ہی بھلائی۔ سنو! تم ایک اللہ کی عبادت کرو لات وعزیٰ کو چھوڑ دو، دن رات میں پانچ نمازیں پڑھاکرو سال بھر میں ایک مہینے کے روزے رکھو اپنے مالداروں سے زکوٰۃ وصول کر کے اپنے فقیروں پر تقسیم کرو ۔ انہوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا علم میں سے کچھ ایساباقی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ جانتے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ایسا علم بھی ہے جسے بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی ۔ [مسند احمد:369/5:قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر6896

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں گاؤں کے رہنے والے ایک شخص نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا کہ میری عورت حمل سے ہے بتلائے کیا بچہ ہوگا؟ ہمارے شہر میں قحط ہے فرمائیے بارش کب ہوگی؟ یہ تو میں نہیں جانتا کہ میں کب پیدا ہوا لیکن یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معلوم کرادیجئیے کہ کب مرونگا؟ اس کے جواب میں یہ آیت اتری کہ ” مجھے ان چیزوں کا مطلق علم نہیں “۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی غیب کی کنجیاں ہیں جن کے بارے میں فرمان باری ہے کہ غیب کی کنجیاں صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28173:مرسل] ‏

سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”جو تم سے کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کی بات کا جانتے تھے تو سمجھ لینا کہ وہ سب سے بڑا جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہو گا۔‏“

قتادۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کا علم اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں دیا نہ نبی کو نہ فرشتہ کو اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے کوئی نہیں جانتا کہ کس سال کس مہینے کس دن یا کس رات میں وہ آئے گی۔ اسی طرح بارش کا علم بھی اس کے سوا کسی کو نہیں کہ کب آئے؟ اور کوئی نہیں جانتا کہ حاملہ کے پیٹ میں بچہ نر ہو گا یا مادہ سرخ ہو گا یا سیاہ؟ اور کوئی نہیں جانتا کہ کل وہ نیکی کرے گا یا بدی کرے گا؟ مرے گا یا جئے گا بہت ممکن ہے کل موت یا آفت آ جائے۔ نہ کسی کو یہ خبر ہے کہ کس زمین میں وہ دبایا جائے گا یا سمندر میں بہایا جائے گا یا جنگل میں مرے گا یا نرم یاسخت زمین میں جائے گا۔‏“

حدیث شریف میں ہے جب کسی کو موت دوسری زمین میں ہوتی ہے تو اس کا وہیں کا کوئی کام نکل آتا ہے اور وہیں موت آ جاتی ہے ۔ [سنن ترمذي:2146،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور روایت میں ہے کہ یہ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ۔

اعشی ہمدان کے شعر ہیں جن میں اس مضمون کو نہایت خوبصورتی سے ادا کیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ قیامت کے دن زمین اللہ تعالیٰ سے کہے گی کہ یہ ہیں تیری امانتیں جو تو نے مجھے سونپ رکھی تھیں ۔ [سنن ابن ماجه:4263،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ طبرانی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے۔

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورہ لقمان کی تفسیر ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر6897
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Leggi, ascolta, cerca e rifletti sul Corano

Quran.com è una piattaforma affidabile utilizzata da milioni di persone in tutto il mondo per leggere, cercare, ascoltare e riflettere sul Corano in diverse lingue. Offre traduzioni, tafsir, recitazioni, traduzioni parola per parola e strumenti per uno studio più approfondito, rendendo il Corano accessibile a tutti.

In qualità di Sadaqah Jariyah, Quran.com si impegna ad aiutare le persone a entrare in contatto profondo con il Corano. Supportato da Quran.Foundation , un'organizzazione no-profit 501(c)(3), Quran.com continua a crescere come risorsa gratuita e preziosa per tutti, Alhamdulillah.

Navigare
Casa
Radio del Corano
Recitatori
Chi siamo
Sviluppatori
Aggiornamenti del prodotto
Feedback
Aiuto
I nostri progetti
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Progetti senza scopo di lucro posseduti, gestiti o sponsorizzati da Quran.Foundation
Link popolari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Mappa del sitoPrivacyTermini e Condizioni
© 2026 Quran.com. Tutti i diritti riservati