Registrazione
🚀 Partecipa alla nostra sfida del Ramadan!
Scopri di più
🚀 Partecipa alla nostra sfida del Ramadan!
Scopri di più
Registrazione
Registrazione
34:54
وحيل بينهم وبين ما يشتهون كما فعل باشياعهم من قبل انهم كانوا في شك مريب ٥٤
وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِم مِّن قَبْلُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ فِى شَكٍّۢ مُّرِيبٍۭ ٥٤
وَحِيلَ
بَيۡنَهُمۡ
وَبَيۡنَ
مَا
يَشۡتَهُونَ
كَمَا
فُعِلَ
بِأَشۡيَاعِهِم
مِّن
قَبۡلُۚ
إِنَّهُمۡ
كَانُواْ
فِي
شَكّٖ
مُّرِيبِۭ
٥٤
Si porrà [un ostacolo] tra loro e quel che desiderano, come già avvenne per i loro emuli, che rimasero in preda al dubbio e all’incertezza. 1 II popolo che dà il nome a questa sura abitava nello Yemen, la regione meridionale della penisola arabica e lo abbiamo già incontrato nella Sura delle Formiche (xxvn) in cui Allah (gloria a Lui l’Altissimo) si è compiaciuto di raccontarci l’episodio della conversione della loro regina Bilqìs in seguito all’incontro con Salomone (pace su di lui). La regione abitata dai Sabâ’, era attraversata dal fiume Danna ed aveva per capitale Ma‘rib le cui rovine si trovano a circa centoventi chilometri ad est di San‘à, l’attuale capitale dello Yemen. I Sabâ’ avevano costruito una diga che alimentava una rete di canali di irrigazione che trasformarono tutta la regione in un giardino. La loro grande prosperità li rese ingrati e infine Allah (gloria a Lui l’Altissimo) li punì: la diga di Ma’rib straripò più volte e infine crollò definitivamente, trasformando quello che era stato un giardino in un acquitrino. 2 «ad errare lontano»: da Allah, dalla Retta via. 3 A Davide Allah (gloria a Lui l’Altissimo) insegnò l’arte di fabbricare indumenti di maglia di ferro per proteggere il corpo nei combattimenti. Vedi anche XXI, 4 «stringi bene le maglie»: lett. «misura bene tra gli anelli». 5 Salomone (pace su di lui) aveva avuto da Allah (gloria a Lui l’Altissimo) il dominio sui venti, sugli animali e sui dèmoni (vedi anche XXI, 81-82). 6 La tradizione riferisce che Salomone, sentendo avvicinarsi la morte, pregò Allah (gloria a Lui l’Altissimo) di far sì che i dèmoni che lavoravano ai suoi ordini non se ne accorgessero e terminassero le opere intraprese. Quando morì era in preghiera, in piedi, appoggiato al suo bastone. Allah lo conservò in questa postura e vi rimase fin quando furono completate le opere che i dèmoni stavano realizzando. A quel punto, rosicchiato dall’interno da una termite, il bastone si ruppe e i dèmoni si accorsero della sua morte e della limitatezza della loro conoscenza. 7 Vedi nota al titolo della sura. 8 «due giardini, uno a destra e uno a sinistra»: del Wadi Danna. Come spesso accade nel Corano, la simmetria è un segno di pienezza e abbondanza. 9 La diga di Ma‘rib crollò più volte e trasformò in un acquitrino la fertile e coltivata terra del Sabâ’. 10 «le città che avevamo benedetto»: secondo Tabari (XXI, 83-si tratta delle città della Mezzaluna Fertile («Sham»), terra dei profeti, benedetta da Allah (gloria a Lui l’Altissimo) per la mitezza del clima e la ricchezza del suo suolo. 11 «altre città visibili [l’una dall’altra]»: la distanza tra queste città era tale che poteva essere percorsa senza bisogno di organizzare grandi carovane e senza dotarsi di provviste considerevoli. 12 I Sabâ’ fuggirono dal disastro provocato dall’inondazione nella seconda metà del n secolo d.C. 13 La regione che i Sabâ’ abitavano era talmente abitata e ricca di acque che le carovane non avevano nessun bisogno di caricarsi di provviste per attraversarla. Avidi di guadagno, i Sabâ’ pregarono Allah (gloria a Lui l’Altissimo) che modificasse quell’habitat, lo rendesse più ostile in modo tale da riservare il commercio solo alle grandi e potenti carovane che essi stessi controllavano. Allah li punì per la loro ingratitudine e il loro egoismo. 14 Allah (gloria a Lui l’Altissimo) ordina la domanda e la risposta. 15 II Santo Corano esprime in maniera inequivocabile e con grande forza l’universalità della missione affidata al Profeta Muhammad (pace e benedizioni su di lui). 16 Alcuni politeisti ritenevano che gli angeli fossero «figlie di Allah», vedi XVI, 17 I Quraysh. 18 Agli arabi. 19 … o Muhammad. 20 «state ritti per Allah»: secondo Ibn Kathir che cita al-Bukhari e Muslim, questa espressione significa: «assolvete all’orazione». 21 «Essa vi appartiene»: la vostra conversione al Signore del Creato in conseguenza della mia predicazione sarà la vostra ricompensa. Oppure: la mia missione non è finalizzata all’ottenimento di una ricompensa; essa è una misericordia di Allah per voi. 22 «rivela la Verità»: lett. «lancia la Verità». 23 «Se vedessi i miscredenti, nel Giorno del Giudizio o Muhammad…» 24 «… da così lontano»: il luogo per raggiungere e testimoniare la fede è questa vita e non l’altra, e tra le due la distanza è veramente molta. 25 «e da lontano»: dalla loro miseria spirituale e dalla loro ignoranza.
Tafsir
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 34:51 a 34:54
عذاب قیامت اور کافر ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ فرما رہا ہے کہ اے نبی! کاش کہ آپ ان کافروں کی قیامت کے دن کی گھبراہٹ دیکھتے۔ کہ ہر چند عذاب سے چھٹکارا چاہیں گے۔ لیکن بچاؤ کی کوئی صورت نہیں پائیں گے۔ نہ بھاگ کر، نہ چھپ کر، نہ کسی کی حمایت سے، نہ کسی کی پناہ سے۔ بلکہ فوراً ہی قریب سے ہی پکڑ لیے جائیں گے۔ ادھر قبروں سے نکلے ادھر پھانس لیے گئے۔ ادھر کھڑے ہوئے ادھر گرفتار کر لیے گئے۔ یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ قتل و اسیر ہوئے۔ لیکن صحیح یہی ہے کہ مراد قیامت کے دن کے عذاب ہیں۔

بعض کہتے ہیں بنو عباس کی خلافت کے زمانے میں مکے مدینے کے درمیان ان لشکروں کا زمین میں دھنسایا جانا مراد ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے اسے بیان کر کے اس کی دلیل میں ایک حدیث وارد کی ہے جو بالکل ہی موضوع اور گھڑی ہوئی ہے۔ لیکن تعجب سا تعجب ہے کہ امام صاحب نے اس کا موضوع ہونا بیان نہیں کیا قیامت کے دن کہیں گے کہ ہم ایمان قبول کرتے ہیں اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» [32-السجدة:12] ‏ الخ، ” کاش کہ تو دیکھتا جب کہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے سرنگوں کھڑے ہوں گے۔ اور شرمندگی سے کہہ رہے ہوں گے کہ اللہ ہم نے دیکھ سن لیا۔ ہمیں یقین آ گیا۔ اب تو ہمیں پھر سے دنیا میں بھیج دے تو ہم دل سے مانیں گے۔ “ لیکن کوئی شخص جس طرح بہت دور کی چیز کو لینے کے لیے دور سے ہی ہاتھ بڑھائے اور اس کے ہاتھ نہیں آ سکتی۔

اسی طرح یہی حال ان لوگوں کا ہے، کہ آخرت میں وہ کام کرتے ہیں جو دنیا میں کرنا چاہئے تھا۔ تو آخرت میں ایمان لانا بےسود ہے۔ اب نہ دنیا میں لوٹائے جائیں نہ اس وقت کی گریہ و زاری توبہ و فریاد، ایمان و اسلام کچھ کام آئے گا۔ اس سے پہلے دنیا میں تو منکر رہے نہ اللہ کو مانا نہ رسول پر ایمان لائے نہ قیامت کے قائل ہوئے یونہی جیسے کوئی بن دیکھے اندازے سے ہی نشانے پر تیر بازی کر رہا ہو اسی طرح اللہ کی باتوں کو اپنے گمان سے ہی رد کرتے رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کاہن کہہ دیا کبھی شاعر بتا دیا۔ کبھی جادوگر کہا اور کبھی مجنون۔ صرف اٹکل پچو کے ساتھ قیامت کو جھٹلاتے رہے اور بے دلیل اوروں کی عبادت کرتے رہے جنت و دوزخ کا مذاق اڑاتے رہے۔ اب ایمان اور ان میں حجاب آ گیا۔ توبہ میں اور ان میں پردہ پڑ گیا۔ دنیا ان سے چھوٹ گئی یہ دنیا سے الگ ہو گئے۔

ابن ابی حاتم نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر نقل کیا ہے جسے ہم پورا ہی نقل کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر7232

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو اسرائیل میں ایک فاتح شخص تھا جس کے پاس مال بہت تھا۔ جب وہ مر گیا اور اس کا لڑکا اس کا وارث ہوا تو بری طرح نافرمانیوں میں مال لٹانے لگا۔ اس کے چچاؤں نے اسے ملامت کی اور سمجھایا اس نے غصے میں آ کر سب چیزیں بیچ کر روپیہ لے کر عین شجاجہ کے پاس آ کر ایک محل تعمیر کرا کر یہاں رہنے لگا۔ ایک روز زور کی آندھی اٹھی جس میں ایک بہت خوبصورت خوشبودار عورت اس کے پاس آ گری۔ اس نے اس سے پوچھا تم کون ہو؟ اس نے کہا بنی اسرائیلی شخص ہوں۔ کہا یہ محل آپ کا ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ پوچھا آپ کی بیوی بھی ہے؟ کہا نہیں۔ کہا پھر تم اپنی زندگی کا لطف کیا اٹھاتے ہو؟ اب اس نے پوچھا کہ کیا تمہارا خاوند ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ پھر مجھے قبول کرو اس نے جواب دیا میں یہاں سے میل بھر دور رہتی ہوں کل تم یہاں سے اپنے ساتھ دن بھر کا کھانا پینا لے چلو اور میرے ہاں آؤ۔ راستے میں کچھ عجائبات دیکھو تو گھبرانا نہیں۔ اس نے قبول کیا اور دوسرے دن توشہ لے کر چلا۔ میل دور جا کر ایک نہایت عالی شان محل دیکھا دستک دینے سے ایک خوبصورت نوجوان شخص آیا پوچھا آپ کون ہیں؟ جواب دیا کہ میں بنی اسرائیلی ہوں کہا کیسے آئے ہیں؟ کہا اس مکان کی ملکہ نے بلوایا ہے پوچھا راستے میں کچھ ہولناک چیزیں بھی دیکھیں جواب دیا ہاں اور اگر مجھے یہ کہا ہوا نہ ہوتا کہ گھبرانا مت تو میں ہول دہشت سے ہلاک ہو گیا ہوتا۔ میں چلا ایک چوڑے راستے پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک کتیا منہ پھاڑے بیٹھی ہوئی ہے میں گھبرا کر دوڑا تو دیکھا کہ مجھ سے آگے آگے وہ ہے اور اس کے پلے (‏بچے) اس کے پیٹ میں ہیں اور بھونک رہے ہیں۔ اس جوان نے کہا تو اسے نہیں پائے گا یہ تو آخر زمانے میں ہونے والی ایک بات کی مثال تجھے دکھائی گئی ہے کہ ایک نوجوان بوڑھے بڑوں کی مجلس میں بیٹھے گا اور ان سے اپنے راز کی پوشیدہ باتیں کرے گا۔ میں اور آگے بڑھا تو دیکھا ایک سو بکریاں جن کے تھن دودھ سے پر ہیں ایک بچہ ہے دودھ پی رہا ہے جب دودھ ختم ہو جاتا ہے اور وہ جان لیتا ہے کہ اور کچھ باقی نہیں رہا تو وہ منہ کھول دیتا ہے گویا، اور مانگ رہا ہے۔ اس نوجوان دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا یہ مثال تجھے بتائی گئی ہے ان بادشاہوں کی جو آخر زمانے میں آئیں گے لوگوں سے سونا چاندی گھسیٹیں گے یہاں تک کہ سمجھ لیں گے اب کسی کے پاس کچھ نہیں بچا تو بھی وہ ظلم و زیادتی کر کے منہ پھیلائے رہیں گے۔ اس نے کہا میں اور آگے بڑھا تو میں نے ایک درخت نہایت تروتازہ خوش رنگ اور خوش وضع دیکھا میں نے اس کی ایک ٹہنی توڑنی چاہی تو دوسرے درخت سے آواز آئی کہ اے بندہ الٰہی! میری ڈالی توڑ جا پھر تو ہر ایک درخت سے یہی آواز آنے لگی دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا۔

صفحہ نمبر7233

کہ اس میں اشارہ ہے کہ آخر زمانے میں مردوں کی قلت اور عورتوں کی کثرت ہو جائے گی یہاں تک کہ جب ایک مرد کی طرف سے کسی عورت کو پیغام جائے گا تو دس بیس عورتیں اسے اپنی طرف بلانے لگیں گی۔ اس نے کہا میں اور آگے بڑھا تو میں نے دیکھا کہ ایک دریا کے کنارے ایک شخص کھڑا ہوا ہے اور لوگوں کو پانی بھر بھر کر دے رہا ہے پھر اپنی مشک میں ڈالتا ہے لیکن اس میں ایک قطرہ بھی نہیں ٹھہرتا۔ دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا۔ اس میں اشارہ ہے کہ آخر زمانے میں ایسے علماء اور واعظ ہوں گے جو لوگوں کو علم سکھائیں گے۔ بھلی باتیں بتائیں گے۔ لیکن خود عامل نہیں ہوں گے۔ بلکہ خود گناہوں میں مبتلا رہے گے۔ پھر جو میں آگے بڑھا تو میں نے دیکھا کہ ایک بکری ہے بعض لوگوں نے تو اس کے پاؤں پکڑ رکھے ہیں، بعض نے دم تھام رکھی ہے، بعض نے سینگ پکڑ رکھے ہیں، بعض اس پر سوار ہیں اور بعض اس کا دودھ دوہ رہے ہیں۔ اس نے کہا یہ مثال ہے دنیا کی جو اس کے پیر تھامے ہوئے ہیں۔ یہ تو وہ ہیں جو دنیا سے گر گئے جنہیں یہ نہ ملی جس نے سینگ تھام رکھے ہیں یہ وہ ہے جو اپنا گزارہ کر لیتا ہے لیکن تنگی ترشی سے دم پکڑنے والے وہ ہیں جن سے دنیا بھاگ چکی ہے۔ سوار وہ ہیں جو از خود تارک دنیا میں ہو گئے ہیں۔ ہاں دنیا سے صحیح فائدہ اٹھانے والے وہ ہیں جنہیں تم نے اس بکری کا دودھ نکالتے ہوئے دیکھا۔ انہیں خوشی ہو یہ مستحق مبارک باد ہیں۔ اس نے کہا میں اور آگے چلا تو دیکھا کہ ایک شخص ایک کنویں میں سے پانی کھینچ رہا ہے اور ایک حوض میں ڈال رہا ہے جس حوض میں سے پانی پھر کنوئیں میں چلا جاتا ہے۔ اس نے کہا یہ وہ شخص ہے جو نیک عمل کرتا ہے لیکن قبول نہیں ہوتے۔ اس نے کہا پھر میں آگے بڑھا تو دیکھا کہ ایک شخص نے دانے زمین میں بوئے اسی وقت کھیتی تیار ہو گئی اور بہت اچھے نفیس گیہوں نکل آئے۔ کہا یہ وہ شخص ہے جس کی نیکیاں اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔ اس نے کہا میں اور آگے بڑھا تو دیکھا کہ ایک شخص چت لیٹا پڑا ہے۔ مجھ سے کہنے لگا بھائی میرا ہاتھ پکڑ کر بیٹھا دو، واللہ جب سے پیدا ہوا ہوں، بیٹھا ہی نہیں۔ میرے ہاتھ پکڑتے ہی وہ کھڑا ہو کر تیز دوڑا یہاں تک کہ میری نظروں سے پوشیدہ ہو گیا۔ اس دربان نے کہا یہ تیری عمر تھی جو جا چکی اور ختم ہو گئی میں ملک الموت ہوں اور جس عورت سے تو ملنے آیا ہے اس کی صورت میں بھی میں ہی تھا اللہ کے حکم سے تیرے پاس آیا تھا کہ تیری روح اس جگہ قبض کروں پھر تجھے جہنم رسید کروں۔

صفحہ نمبر7234

اس کے بارے میں یہ آیت «وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ» الخ نازل ہوئی۔ [الدر المنشور للسیوطی:716/6:ضعیف] ‏ یہ اثر غریب ہے اور اس کی صحت میں بھی نظر ہے۔

آیت کا مطلب ظاہر ہے کہ کافروں کی جب موت آتی ہے ان کی روح حیات دنیا کی لذتوں میں اٹکی رہتی ہے۔ لیکن موت مہلت نہیں دیتی اور ان کی خواہش اور ان کے درمیان وہ حائل ہو جاتا ہے۔ جیسے اس مغرور و مفتون شخص کا حال ہوا۔ کہ گیا تو عورت ڈھونڈنے کو اور ملاقات ہوئی ملک الموت سے۔ امید پوری ہونے سے پہلے روح پرواز کر گئی۔ پھر فرماتا ہے ان سے پہلے کی امتوں کے ساتھ بھی یہی کیا گیا وہ بھی موت کے وقت زندگی اور ایمان کی آرزو کرتے رہے۔ جو محض بےسود تھی جیسے فرمان عالی شان ہے «فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ» [40-غافر:84-85] ‏ الخ، ” جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جس جس کو ہم شریک اللہ بناتے تھے ان سب سے ہم انکار کرتے ہیں لیکن اس وقت ان کے ایمان نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا ان سے پہلوؤں میں بھی یہی طریقہ جاری رہا کفار نفع سے محروم ہی ہیں۔ “ یہاں فرمایا کہ دنیا میں تو زندگی بھر شک و شبہ میں اور تردد میں ہی رہے۔ اسی وجہ سے عذاب کے دیکھنے کے بعد ایمان بے کار رہا۔

قتادہ رحمہ اللہ کا یہ قول آب زر سے لکھنے کے لائق ہے آپ فرماتے ہیں کہ شبہات اور شکوک سے بچو۔ اس پر جس کی موت آئی وہ قیامت کے دن بھی اسی پر اٹھایا جائے گا اور جو یقین پر مرا ہے اسے یقین پر ہی اٹھایا جائے گا۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ الْمُوَفِّق لِلصَّوَابِ»

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے سورۃ سبا کی تفسیر ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر7235
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Leggi, ascolta, cerca e rifletti sul Corano

Quran.com è una piattaforma affidabile utilizzata da milioni di persone in tutto il mondo per leggere, cercare, ascoltare e riflettere sul Corano in diverse lingue. Offre traduzioni, tafsir, recitazioni, traduzioni parola per parola e strumenti per uno studio più approfondito, rendendo il Corano accessibile a tutti.

In qualità di Sadaqah Jariyah, Quran.com si impegna ad aiutare le persone a entrare in contatto profondo con il Corano. Supportato da Quran.Foundation , un'organizzazione no-profit 501(c)(3), Quran.com continua a crescere come risorsa gratuita e preziosa per tutti, Alhamdulillah.

Navigare
Casa
Radio del Corano
Recitatori
Chi siamo
Sviluppatori
Aggiornamenti del prodotto
Feedback
Aiuto
I nostri progetti
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Progetti senza scopo di lucro posseduti, gestiti o sponsorizzati da Quran.Foundation
Link popolari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Mappa del sitoPrivacyTermini e Condizioni
© 2026 Quran.com. Tutti i diritti riservati