Registrazione
🚀 Partecipa alla nostra sfida del Ramadan!
Scopri di più
🚀 Partecipa alla nostra sfida del Ramadan!
Scopri di più
Registrazione
Registrazione
3:121
واذ غدوت من اهلك تبوي المومنين مقاعد للقتال والله سميع عليم ١٢١
وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّئُ ٱلْمُؤْمِنِينَ مَقَـٰعِدَ لِلْقِتَالِ ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ١٢١
وَإِذۡ
غَدَوۡتَ
مِنۡ
أَهۡلِكَ
تُبَوِّئُ
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
مَقَٰعِدَ
لِلۡقِتَالِۗ
وَٱللَّهُ
سَمِيعٌ
عَلِيمٌ
١٢١
E quando un mattino lasciasti la tua famiglia per schierare i credenti ai posti di combattimento 1 … Allah è Colui Che tutto ascolta e conosce.
Tafsir
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat

یہاں سے سورة آل عمران کے نصف ثانی کے دوسرے حصے کا آغاز ہو رہا ہے ‘ جو چھ رکوعات پر محیط ہے۔ یہ چھ رکوع مسلسل غزوۂ احد کے حالات و واقعات اور ان پر تبصرے پر مشتمل ہیں۔ غزوۂ احد شوال 3 ھ میں پیش آیا تھا۔ اس سے پہلے رمضان 2 ھ میں غزوۂ بدر پیش آچکا تھا ‘ جس کا تذکرہ ہم سورة الانفال میں پڑھیں گے۔ اس لیے کہ ترتیب مصحف نہ تو ترتیب زمانی کے اعتبار سے ہے اور نہ ہی ترتیب نزولی کے مطابق۔ غزوۂ بدر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بہت زبردست فتح دی تھی اور کفار مکہ کو بڑی زک پہنچی تھی۔ ان کے ستر 70 سربرآوردہ لوگ مارے گئے تھے ‘ جن میں قریش کے تقریباً سارے بڑے بڑے سردار بھی شامل تھے۔ اہل مکہ کے سینوں میں انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی اور ان کے انتقامی جذبات لاوے کی طرح کھول رہے تھے۔ چناچہ ایک سال کے اندر اندر انہوں نے پوری تیاری کی اور تمام ساز و سامان جو وہ جمع کرسکتے تھے جمع کرلیا۔ ابوجہل غزوۂ بدر میں مارا جا چکا تھا اور اب قریش کے سب سے بڑے سردار ابوسفیان تھے۔ ابوسفیان چونکہ بعد میں ایمان لے آئے تھے اور صحابیت کے مرتبے سے سرفراز ہوئے تھے لہٰذا ہم ان کا نام احترام سے لیتے ہیں۔ ابوسفیان تین ہزار جنگجوؤں کا لشکر لے کر مدینہ پر چڑھ دوڑے۔ اہل مکہ اپنی فتح یقینی بنانے کے لیے اس دفعہ اپنے بچوں اور خاص طور پر خواتین کو بھی ساتھ لے کر آئے تھے تاکہ ان کی غیرت بیدار رہے کہ اگر کہیں میدان سے ہمارے قدم اکھڑ گئے تو ہماری عورتیں مسلمانوں کے قبضے میں چلی جائیں گی۔ ابوسفیان کی بیوی ہندہ بنت عتبہ بھی لشکر کے ہمراہ تھی۔ وہ بھی بعد میں فتح مکہ کے موقع پر ایمان لے آئی تھیں۔ غزوۂ بدر میں ہندہ کا باپ ‘ بھائی اور چچا مسلمانوں کے ہاتھوں واصل جہنم ہوچکے تھے ‘ لہٰذا اس کے سینے کے اندر بھی انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی۔ مکہ کا شاید ہی کوئی گھر بچا ہو جس کا کوئی فرد غزوۂ بدر میں مارا نہ گیا ہو۔اس موقع پر نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ میں ایک مشاورت منعقد فرمائی کہ اب کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے ‘ جبکہ تین ہزار کا لشکر مدینہ پر چڑھائی کرنے آ رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا اپنا رجحان اس طرف تھا کہ اس صورت حال میں ہم اگر مدینہ میں محصور ہو کر مقابلہ کریں تو بہتر رہے گا۔ عجیب اتفاق ہے کہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کی بھی یہی رائے تھی۔ لیکن وہ لوگ جو بدر کے بعد ایمان لائے تھے اور وہ جو غزوۂ بدر میں شریک نہیں ہوپائے تھے ان میں سے خاص طور پر نوجوانوں کی طرف سے خصوصی جوش و خروش کا مظاہرہ ہو رہا تھا کہ ہمیں میدان میں نکل کر دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے ‘ ہمیں تو شہادت درکار ہے ‘ ہمیں آخر موت سے کیا ڈر ہے ؟ ؂شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مؤمن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی !چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے فیصلہ فرما دیا کہ دشمن کا کھلے میدان میں مقابلہ کیا جائے گا۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک ہزار کی نفری لے کر مدینہ سے جبل احد کی جانب کوچ فرمایا ‘ لیکن راستے ہی میں عبداللہ بن ابی اپنے تین سو آدمیوں کو ساتھ لے کر یہ کہہ کر واپس چلا گیا کہ جب ہمارے مشورے پر عمل نہیں ہوتا اور ہماری بات نہیں مانی جاتی تو ہم خواہ مخواہ اپنی جانیں جوکھوں میں کیوں ڈالیں ؟ تین سو منافقین کے چلے جانے کے بعد اسلامی لشکر میں صرف سات سو افراد باقی رہ گئے تھے ‘ جن میں کمزور ایمان والے بھی تھے۔ چناچہ دامن احد میں پہنچ کر مدینہ کے دو خاندانوں بنو حارثہ اور بنوسلمہ کے قدم بھی تھوڑی دیر کے لیے ڈگمگائے اور انہوں نے واپس لوٹنا چاہا ‘ لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو حوصلہ دیا اور ان کے قدم جما دیے۔ اس کے بعد جنگ ہوئی تو اللہ کی طرف سے مدد آئی۔ اللہ نے لشکر اسلام کو فتح دے دی اور مشرکین کے قدم اکھڑ گئے۔ نبی اکرم ﷺ نے احد پہاڑ کو اپنی پشت پر رکھا تھا اور اس کے دامن میں صف بندی کی تھی۔ سامنے دشمن کا لشکر تھا۔ پہاڑ میں ایک درّہ تھا اور حضور ﷺ کو اندیشہ تھا کہ ایسا نہ ہو کہ وہاں سے ہم پر حملہ ہوجائے اور ہم دو طرف سے چکی کے دو پاٹوں کے درمیان آجائیں۔ لہٰذا آپ ﷺ نے اس درّہ پر حضرت عبداللہ بن جبیر رض کی امارت میں پچاس تیر انداز تعینات فرما دیے تھے اور انہیں تاکید فرمائی تھی یہاں سے مت ہلنا۔ چاہے تم دیکھو کہ ہم سب مارے گئے ہیں اور ہمارا اگوشت چیلیں اور کوّے نوچ رہے ہیں تب بھی یہ جگہ مت چھوڑنا ! لیکن جب مسلمانوں کو فتح ہوگئی تو درّے پر مامور حضرات میں اختلاف رائے ہوگیا۔ ان میں سے اکثر نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں جو اتنی تاکید فرمائی تھی وہ تو شکست کی صورت میں تھی ‘ اب تو فتح ہوگئی ہے ‘ لہٰذا اب ہمیں بھی چل کر مال غنیمت جمع کرنے میں باقی سب لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے۔ حضرت عبداللہ بن جبیر رض وہاں کے لوکل کمانڈر تھے ‘ وہ انہیں منع کرتے رہے کہ یہاں سے ہرگز مت ہٹو ‘ رسول اللہ ﷺ کا حکم یاد رکھو۔ لیکن وہ تو حضور ﷺ کے حکم کی تاویل کرچکے تھے۔ ان میں سے 35 افراد درّہ چھوڑ کر چلے گئے اور صرف 15 باقی رہ گئے۔ خالد بن ولید جو اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے مشرکین کی گھڑ سوارفوج cavalry کے کمانڈر تھے۔ ان کی عقابی نگاہ نے دیکھ لیا کہ وہ درہ خالی ہے۔ ان کی پیدل فوج infantry شکست کھا چکی تھی اور بھگدڑ مچ چکی تھی۔ ایسے میں وہ اپنے دو سو گھڑ سواروں کے دستے کے ساتھ احد کا چکر کاٹ کر پشت سے اس درے کے راستے مسلمانوں پر حملہ آور ہوگئے۔ درّے پر صرف پندرہ تیر انداز باقی تھے ‘ ان کے لیے دو سو گھڑ سواروں کی یلغار کو روکنا ممکن نہیں تھا اور وہ مزاحمت کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ اس اچانک حملے سے یکلخت جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور مسلمانوں کی فتح شکست میں بدل گئی۔ ستر صحابہ کرام رض شہید ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ خود بھی زخمی ہوگئے۔َ خود کی کڑیاں آپ ﷺ کے رخسار میں گھس گئیں اور دندان مبارک شہید ہوگئے۔ خون اتنا بہا کہ آپ ﷺ پر بےہوشی طاری ہوگئی ‘ اور یہ بھی مشہور ہوگیا کہ حضور ﷺ کا انتقال ہوگیا ہے۔ اس سے مسلمانوں کے حوصلے پست ہوگئے۔ لیکن پھر جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو پکارا تو لوگ ہمت کر کے جمع ہوئے۔ تب آپ ﷺ نے یہ فیصلہ کیا کہ اس وقت پہاڑ پر چڑھ کر بچاؤ کرلیا جائے ‘ اور آپ تمام مسلمانوں کو لے کر کوہ احد پر چڑھ گئے۔ اس موقع پر ابوسفیان اور خالد بن ولید کے مابین اختلاف رائے ہوگیا۔ خالد بن ولید کا کہنا تھا کہ ہمیں ان کے پیچھے پہاڑ پر چڑھنا چاہیے اور انہیں ختم کر کے ہی دم لینا چاہیے۔ لیکن ابوسفیان بڑے حقیقت پسند اور زیرک شخص تھے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ‘ مسلمان اونچائی پر ہیں ‘ وہ اوپر سے پتھر پھینکیں گے اور تیر برسائیں گے تو ہمارے لیے شدید جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔ ہم نے بدر کا بدلہ لے لیا ہے ‘ یہی بہت ہے۔ چناچہ مشرکین وہاں سے چلے گئے۔ مطالعۂ آیات سے قبل غزوۂ احد کے سلسلۂ واقعات کا یہ اجمالی خاکہ ذہن میں رہنا چاہیے۔آیت 121 وَاِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَہْلِکَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ ط۔غزوۂ احد کی صبح آپ ﷺ حضرت عائشہ رض کے حجرے سے برآمد ہوئے تھے اور جنگ کے میدان میں صف بندی کر رہے تھے ‘ وہاں مورچے معین کر رہے تھے اور ان میں صحابہ کرام رض کو مامور کر رہے تھے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Leggi, ascolta, cerca e rifletti sul Corano

Quran.com è una piattaforma affidabile utilizzata da milioni di persone in tutto il mondo per leggere, cercare, ascoltare e riflettere sul Corano in diverse lingue. Offre traduzioni, tafsir, recitazioni, traduzioni parola per parola e strumenti per uno studio più approfondito, rendendo il Corano accessibile a tutti.

In qualità di Sadaqah Jariyah, Quran.com si impegna ad aiutare le persone a entrare in contatto profondo con il Corano. Supportato da Quran.Foundation , un'organizzazione no-profit 501(c)(3), Quran.com continua a crescere come risorsa gratuita e preziosa per tutti, Alhamdulillah.

Navigare
Casa
Radio del Corano
Recitatori
Chi siamo
Sviluppatori
Aggiornamenti del prodotto
Feedback
Aiuto
I nostri progetti
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Progetti senza scopo di lucro posseduti, gestiti o sponsorizzati da Quran.Foundation
Link popolari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Mappa del sitoPrivacyTermini e Condizioni
© 2026 Quran.com. Tutti i diritti riservati