ایمان آدمی کو ظلم اور برائی کے بارے میں حسّاس بنا دیتاہے۔ وہ کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھتا ہے تو تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ فوراً اسے روک دے۔ برے لوگوں سے اس کا تعلق جدائی کا ہوتا ہے، نہ کہ دوستی کا۔ مگر جب ایمانی جذبہ کمزور پڑجائے تو آدمی صرف اپنی ذات کے بارے میں حساس ہو کر رہ جاتاہے۔ اب اس کو صرف وہ بر ائی برائی معلوم ہوتی ہے جس کی زد اس کے اپنے اوپر پڑے۔ جس برائی کا رخ دوسروں کی طرف ہو اس کے بارے میں وہ غیر جانب دار ہوجاتا ہے۔
بنی اسرائیل جو اس زوال کا شکار ہوئے اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ انھوں نے اپنی زبان سے اچھی بات بولنا چھوڑ دیا تھا۔ ان کے خواص اب بھی خوبصورت تقریریں کرتے تھے مگر اس معاملہ میں وہ اتنے سنجیدہ نہ تھے کہ جب کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھیں تو وہاں کود پڑیں اور اس کو روکنے کی کوشش کریں۔ حضرت داؤد اپنے زمانے کے یہود کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان میں كوئي نیکو کار نہیں، ایک بھی نہیں (زبور،
یہود خدا کا آئین بیان کرتے تھے۔ وہ لمبی نمازیں پڑھتے اور فصلوں میں دسواں حصہ نکالتے۔ مگر ان کی باتیں صرف کہنے کے لیے ہوتی تھیں۔ وہ بے ضرر احکام پر نمائشی اہتمام کے ساتھ عمل کرتے تھے مگر جب صاحب معاملہ سےانصاف كرنے كا سوال هوتا، جب ايك كم زور پر رحم كا تقاضا هوتا، جب اپنے نفس كو كچل كر الله كے حكم كو ماننے كي ضرورت ہوتی تو وہ پھسل جاتے۔ حتی کہ اگر کوئی خدا کا بندہ ان کی غلطیوں کو بتاتا تو وہ اس کے دشمن ہوجاتے۔ یہی چیز هے جس نے ان کو لعنت اور غضب کا مستحق بنادیا۔