Registrazione
🚀 Partecipa alla nostra sfida del Ramadan!
Scopri di più
🚀 Partecipa alla nostra sfida del Ramadan!
Scopri di più
Registrazione
Registrazione
75:2
ولا اقسم بالنفس اللوامة ٢
وَلَآ أُقْسِمُ بِٱلنَّفْسِ ٱللَّوَّامَةِ ٢
وَلَآ
أُقۡسِمُ
بِٱلنَّفۡسِ
ٱللَّوَّامَةِ
٢
lo giuro per l’anima in preda al rimorso.
Tafsir
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 75:1 a 75:8
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں ٭٭

یہ کئی دفعہ بیان ہو چکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے «لا» کا کلمہ نفی کی تائید کے لیے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہو گی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے ” قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی “۔

حسن رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج رحمہ اللہ علیہم کی قرأت «لَأُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ» ہے اس سے بھی حسن رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک پہلے کی قسم ہے اور دوسرے کی نہیں، لیکن صحیح قول یہی ہے کہ دونوں کی قسم کھائی ہے جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول بھی یہی ہے۔ یوم قیامت کو تو ہر شخص جانتا ہی ہے۔

10031

«نفس لوامہ» کی تفسیر میں حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد مومن کا نفس ہے وہ ہر وقت اپنے تئیں ملامت ہی کرتا رہتا ہے کہ یوں کیوں کہہ دیا؟، یہ کیوں کھا لیا؟، یہ خیال دل میں کیوں آیا؟ ہاں فاسق، فاجر، غافل ہوتا ہے اسے کیا پڑی جو اپنے نفس کو روکے۔

یہ بھی مروی ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق قیامت کے دن اپنے تئیں ملامت کرے گی، خیر والے خیر کی کمی پر اور شر والے شر کے سرزد ہونے پر، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مذموم نفس ہے جو نافرمان ہو، فوت شدہ پر نادم ہونے والا اور اس پر ملامت کرنے والا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں ”یہ سب اقوال قریب قریب ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ نفس والا ہے جو نیکی کی کمی پر برائی کے ہو جانے پر اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے اور فوت شدہ پر ندامت کرتا ہے۔‏“

پھر فرماتا ہے ” کیا انسان یہ سوچے ہوئے ہے کہ ہم قیامت کے دن اس کی ہڈیوں کے جمع کرنے پر قادر نہ ہوں گے، یہ تو نہایت غلط خیال ہے ہم اسے متفرق جگہ سے جمع کر کے دوبارہ کھڑا کریں گے اور اس کی بالشت بالشت بنا دیں گے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”ہم قادر ہیں کہ اسے اونٹ یا گھوڑے کے تلوے کی طرح بنا دیں“، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”دنیا میں بھی اگر ہم چاہتے اسے ایسا کر دیتے۔‏“

آیت کے لفظوں سے تو ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ «قَادِرِينَ» حال ہے «نَّجْمَعَ» سے یعنی کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ہاں ہاں ہم عنقریب جمع کریں گے درآنحالیکہ ہمیں ان کے جمع کرنے کی قدرت ہے بلکہ اگر ہم چاہیں تو جتنا یہ تھا اس سے بھی کچھ زیادہ بنا کر اسے اٹھائیں اس کی انگلیوں کے سرے تک برابر کر کے پیدا کریں۔ ابن قتیبہ اور زجاج کے قول کے یہی معنی ہیں۔

پھر فرماتا ہے کہ انسان اپنے آگے فسق و فجور کرنا چاہتا ہے یعنی قدم بہ قدم بڑھ رہا ہے، امیدیں باندھے ہوئے ہے، کہتا جاتا ہے کہ گناہ کر تو لوں توبہ بھی ہو جائے گی قیامت کے دن سے جو اس کے آگے ہے کفر کرتا ہے، وہ گویا اپنے سر پر سوار ہو کر آگے بڑھ رہا ہے، ہر وقت یہی پایا جاتا ہے کہ ایک ایک قدم اپنے نفس کو اللہ کی معصیت کی طرف بڑھاتا جاتا ہے مگر جن پر رب کا رحم ہے۔ اکثر سلف کا قول اس آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ گناہوں میں جلدی کرتا ہے اور توبہ میں تاخیر کرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جو یوم حساب کا منکر ہے“، ابن زید رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ظاہر مراد ہے کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ وہ پوچھتا ہے قیامت کب ہوگی، اس کا یہ سوال بھی بطور انکار کے ہے یہ جانتا ہے کہ قیامت کا آنا محال ہے۔

جیسے اور جگہ ہے «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ» [34-سبأ:29،30] ‏، ” کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتا دو کہ قیامت کب آئے گی؟ ان سے کہہ دے کہ اس کا ایک دن مقرر ہے جس سے نہ تم ایک ساعت آگے بڑھ سکو گے نہ پیچھے ہٹ سکو گے “۔

10032
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Leggi, ascolta, cerca e rifletti sul Corano

Quran.com è una piattaforma affidabile utilizzata da milioni di persone in tutto il mondo per leggere, cercare, ascoltare e riflettere sul Corano in diverse lingue. Offre traduzioni, tafsir, recitazioni, traduzioni parola per parola e strumenti per uno studio più approfondito, rendendo il Corano accessibile a tutti.

In qualità di Sadaqah Jariyah, Quran.com si impegna ad aiutare le persone a entrare in contatto profondo con il Corano. Supportato da Quran.Foundation , un'organizzazione no-profit 501(c)(3), Quran.com continua a crescere come risorsa gratuita e preziosa per tutti, Alhamdulillah.

Navigare
Casa
Radio del Corano
Recitatori
Chi siamo
Sviluppatori
Aggiornamenti del prodotto
Feedback
Aiuto
I nostri progetti
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Progetti senza scopo di lucro posseduti, gestiti o sponsorizzati da Quran.Foundation
Link popolari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Mappa del sitoPrivacyTermini e Condizioni
© 2026 Quran.com. Tutti i diritti riservati