Registrazione
🚀 Partecipa alla nostra sfida del Ramadan!
Scopri di più
🚀 Partecipa alla nostra sfida del Ramadan!
Scopri di più
Registrazione
Registrazione
75:40
اليس ذالك بقادر على ان يحيي الموتى ٤٠
أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَـٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحْـِۧىَ ٱلْمَوْتَىٰ ٤٠
أَلَيۡسَ
ذَٰلِكَ
بِقَٰدِرٍ
عَلَىٰٓ
أَن
يُحۡـِۧيَ
ٱلۡمَوۡتَىٰ
٤٠
Colui [che ha fatto tutto questo] non sarebbe dunque capace di far risorgere i morti? 1 Nei primi tempi della Rivelazione il Profeta (pace e benedizioni su di lui) era colto dalla grande preoccupazione di non riuscire a ricordare quello che Gabriele (pace su di lui) gli trasmetteva e, pertanto si affrettava a recitare quello che aveva ricevuto, perdendo la concentrazione su quello che ancora stava per essere rivelato. 2 Allah (gloria a Lui l’Altissimo) rivendica a Sé e solo a Sé, la prerogativa di dare ordine al Corano e insegnarne la recitazione. Questo versetto ha grande importanza relativamente alla questione della forma del Corano. L’orientalistica occidentale e qualche studioso musulmano poco rispettoso della sua stessa religione, affermano che l’ordine delle sure fu determinato in fase di compilazione con il criterio della lunghezza decrescente. La tradizione islamica ci riferisce invece che ogni anno, durante il mese di Ramadan, Gabriele (pace su di lui) assisteva alla recitazione dell’intero Corano fatta dall’Inviato di Allah (pace e benedizioni su di lui). Nell’anno che segnò la fine della vita terrena del Profeta, Gabriele gli chiese di recitarlo due volte per essere certo che ogni sura e ogni versetto fossero al posto giusto, conformemente all’archetipo conservato presso il Trono dell’Altissimo (gloria a Lui). 3 «sarà giunta alle clavicole»: come dire «quando l’anima del moribondo risalirà alla gola per lasciare il corpo al momento della morte». 4 «Chi è esorcista?»: cioè: «c’è qualcuno che può compiere su di lui un esorcismo per impedire la dipartita deH’anima e la morte?». 5 «e le gambe si irrigidiranno»: lett. «e la gamba si stringerà alla gamba». 6 «egli»: il miscredente in generale e, secondo l’esegesi classica, al-Walìd ibn Mughira clic sembra essere descritto anche dai due versetti successivi.
Tafsir
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 75:33 a 75:40
باب

ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» [83-المطففين:31] ‏ یعنی ” جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں “۔

اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» [84-الإنشقاق:13-15] ‏ یعنی ” یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں “۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ” خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے “۔

جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» [44-الدخان:49] ‏ یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ” لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا “۔

اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» [77-المرسلات:46] ‏ ” کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو “۔

اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:15] ‏ ” جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو “ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔

سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» [75-القيامة:34] ‏، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل] ‏

10070

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل] ‏

کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ‏ ” اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے “۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10071

ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے ۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔

ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» [95-التين:8] ‏ پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ” ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں “ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» [75-القيامة:40] ‏ پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» [77-المرسلات:50] ‏ پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔

ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔

سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔

10072
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Leggi, ascolta, cerca e rifletti sul Corano

Quran.com è una piattaforma affidabile utilizzata da milioni di persone in tutto il mondo per leggere, cercare, ascoltare e riflettere sul Corano in diverse lingue. Offre traduzioni, tafsir, recitazioni, traduzioni parola per parola e strumenti per uno studio più approfondito, rendendo il Corano accessibile a tutti.

In qualità di Sadaqah Jariyah, Quran.com si impegna ad aiutare le persone a entrare in contatto profondo con il Corano. Supportato da Quran.Foundation , un'organizzazione no-profit 501(c)(3), Quran.com continua a crescere come risorsa gratuita e preziosa per tutti, Alhamdulillah.

Navigare
Casa
Radio del Corano
Recitatori
Chi siamo
Sviluppatori
Aggiornamenti del prodotto
Feedback
Aiuto
I nostri progetti
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Progetti senza scopo di lucro posseduti, gestiti o sponsorizzati da Quran.Foundation
Link popolari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Mappa del sitoPrivacyTermini e Condizioni
© 2026 Quran.com. Tutti i diritti riservati