Log masuk
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
Log masuk
Log masuk
12:109
وما ارسلنا من قبلك الا رجالا نوحي اليهم من اهل القرى افلم يسيروا في الارض فينظروا كيف كان عاقبة الذين من قبلهم ولدار الاخرة خير للذين اتقوا افلا تعقلون ١٠٩
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًۭا نُّوحِىٓ إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ ٱلْقُرَىٰٓ ۗ أَفَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۗ وَلَدَارُ ٱلْـَٔاخِرَةِ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ١٠٩
وَمَآ
أَرۡسَلۡنَا
مِن
قَبۡلِكَ
إِلَّا
رِجَالٗا
نُّوحِيٓ
إِلَيۡهِم
مِّنۡ
أَهۡلِ
ٱلۡقُرَىٰٓۗ
أَفَلَمۡ
يَسِيرُواْ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
فَيَنظُرُواْ
كَيۡفَ
كَانَ
عَٰقِبَةُ
ٱلَّذِينَ
مِن
قَبۡلِهِمۡۗ
وَلَدَارُ
ٱلۡأٓخِرَةِ
خَيۡرٞ
لِّلَّذِينَ
ٱتَّقَوۡاْۚ
أَفَلَا
تَعۡقِلُونَ
١٠٩
Dan tiadalah Kami mengutus Rasul - sebelummu (wahai Muhammad) melainkan orang-orang lelaki dari penduduk bandar, yang kami wahyukan kepada mereka. Maka mengapa orang-orang (yang tidak mahu beriman) itu tidak mengembara di muka bumi, supaya memerhatikan bagaimana akibat orang-orang kafir yang terdahulu dari mereka? Dan (ingatlah) sesungguhnya negeri akhirat lebih baik bagi orang-orang yang bertaqwa. Oleh itu, mengapa kamu (wahai manusia) tidak mahu memikirkannya?
Tafsir
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
رسول اور نبی صرف مرد ہی ہوئے ہیں ٭٭

بیان فرماتا ہے کہ رسول اور نبی مرد ہی بنتے رہے نہ کہ عورتیں۔ جمہور اہل اسلام کا یہی قول ہے کہ نبوت عورتوں کو کبھی نہیں ملی۔ اس آیت کریمہ کا سیاق بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔ لیکن بعض کا قول ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی بیوی سارہ، عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ مریم بھی نبیہ تھیں۔ ملائکہ نے سارہ کو ان کے لڑکے اسحاق اور پوتے یعقوب کی بشارت دی۔ «وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ أَنْ أَرْضِعِيهِ» [ 28-القصص: 8 ] ‏ موسیٰ علیہ السلام کی ماں کی طرف انہیں دودھ پلانے کی وحی ہوئی۔ مریم کو عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت فرشتے نے دی۔ «وَإِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ يَا مَرْيَمُ اقْنُتِي لِرَبِّكِ وَاسْجُدِي وَارْكَعِي مَعَ الرَّاكِعِينَ» [ 3-آل عمران: 42، 43 ] ‏ فرشتوں نے مریم علیہ السلام سے کہا کہ اللہ نے تجھے پسندیدہ پاک اور برگزیدہ کر لیا ہے تمام جہان کی عورتوں پر۔ اے مریم اپنے رب کی فرماں برداری کرتی رہو، اس کے لیے سجدے کر اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اتنا تو ہم مانتے ہیں، جتنا قرآن نے بیان فرمایا۔ لیکن اس سے ان کی نبوت ثابت نہیں ہوتی۔ صرف اتنا فرمان یا اتنی بشارت یا اتنے حکم کسی کی نبوت کے لیے دلیل نہیں۔

صفحہ نمبر4104

اہل سنت والجماعت کا اور سب کا مذہب یہ کہ عورتوں میں سے کوئی نبوت والی نہیں۔ ہاں ان میں صدیقات ہیں جیسے کہ سب سے اشرف و افضل عورت مریم کی نسبت قرآن نے فرمایا ہے «مَّا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ» [ 5-المائدہ: 75 ] ‏ پس اگر وہ نبی ہوتیں تو اس مقام میں وہی مرتبہ بیان کیا جاتا۔ آیت میں ہے «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً اَتَصْبِرُوْنَ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا» [ 25- الفرقان: 20 ] ‏ یعنی تجھ سے بھلے جتنے رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں آمد و رفت بھی رکھتے تھے۔ اور آیت میں ہے «وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ ثُمَّ صَدَقْنَاهُمُ الْوَعْدَ فَأَنجَيْنَاهُمْ وَمَن نَّشَاءُ وَأَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِينَ» [ 21-الأنبياء: 8، 9 ] ‏ وہ ایسے نہ تھے کہ کھانا کھانے سے پاک ہوں، نہ ایسے تھے کہ کبھی مرنے والے ہی نہ ہوں، ہم نے ان سے اپنے وعدے پورے کئے، انہیں اور ان کے ساتھ جنہیں ہم نے چاہا، نجات دی اور مسرف لوگوں کو ہلاک کر دیا۔ اسی طرح اور آیت میں ہے «مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ» [ 46- الأحقاف: 9 ] ‏ یعنی میں کوئی پہلا رسول تو نہیں؟ الخ، یاد رہے کہ اہل قری سے مراد اہل شہر ہیں نہ کہ بادیہ نشین وہ تو بڑے کج طبع اور بداخلاق ہوتے ہیں۔ مشہور و معروف ہے کہ شہری نرم طبع اور خوض خلق ہوتے ہیں اسی طرح بستیوں سے دور والے، پرے کنارے رہنے والے بھی عموماً ایسے ہی ٹیڑھے ترچھے ہوتے ہیں۔ قرآن فرماتا ہے «اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّنِفَاقًا وَّاَجْدَرُ اَلَّا يَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ» [ 9- التوبہ: 97 ] ‏ جنگلوں کے رہنے والے بدو کفر ونفاق میں بہت سخت ہیں۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ بھی یہی مطلب بیان فرماتے ہیں کیونکہ شہریوں میں علم وحلم زیادہ ہوتا ہے۔

صفحہ نمبر4105

ایک حدیث میں ہے کہ بادیہ نشین اعراب میں سے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بدلہ دیا لیکن اسے اس نے بہت کم سمجھا، آپ نے اور دیا اور دیا یہاں تک کہ اسے خوش کر دیا۔ پھر فرمایا میرا تو جی چاہتا ہے کہ سوائے قریش اور انصاری اور ثقفی اور دوسی لوگوں کے اوروں کا تحفہ قبول ہی نہ کروں۔ [سنن ترمذي:3945، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ وہ مومن جو لوگوں سے ملے جلے اور ان کی ایذاؤں پر صبر کرے، [سنن ابن ماجه:4032، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ وہ اس سے بہتر ہے جو نہ ان سے ملے جلے ہو نہ ان کی ایذاؤں پر صبر کرے۔ یہ جھٹلانے والے کیا ملک میں چلتے پھرتے نہیں؟ کہ اپنے سے پہلے کے جھٹلانے والوں کی حالتوں کو دیکھیں اور ان کے انجام پر غور کریں؟ جیسے فرمان ہے «اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ يَّعْقِلُوْنَ بِهَآ اَوْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَلٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِيْ فِي الصُّدُوْرِ» [ 22- الحج: 46 ] ‏ یعنی کیا انہوں نے زمین کی سیر نہیں کی کہ ان کے دل سجھدار ہوتے، الخ۔ ان کے کان سن لیتے، ان کی آنکھیں دیکھ لیتیں کہ ان جیسے گنہگاروں کا کیا حشر ہوتا رہا ہے؟ وہ نجات سے محروم رہتے ہیں، عتاب الٰہی انہیں غارت کر دیتا ہے، عالم آخرت ان کے لیے بہت ہی بہتر ہے جو احتیاط سے زندگی گزار دیتے ہیں۔ یہاں بھی نجات پاتے ہیں اور وہاں بھی اور وہاں کی نجات یہاں کی نجات سے بہت ہی بہتر ہے۔ وعدہ الٰہی ہے «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» [ 40- غافر: 51 ] ‏ ہم اپنے رسولوں کی اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دینا میں بھی مدد فرماتے ہیں اور قیامت کے دن بھی ان کی امداد کریں گے، اس دن گواہ کھڑے ہوں گے، ظالموں کے عذر بےسود رہیں گے، ان پر لعنت برسے گی اور ان کے لیے برا گھر ہو گا۔ گھر کی اضافت آخرت کی طرف کی۔ جیسے صلوۃ اولیٰ اور مسجد جامع اور عام اول اور بارحۃ الاولیٰ اور یوم الخمیس میں ایسے ہی اضافت ہے، عربی شعروں میں بھی یہ اضافت بکثرت آئی ہے۔

صفحہ نمبر4106
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengar, Cari, dan Renungkan Al-Quran

Quran.com ialah platform dipercayai yang digunakan oleh berjuta-juta orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengar dan merenung Al-Quran dalam pelbagai bahasa. Ia menyediakan terjemahan, tafsir, bacaan, terjemahan perkataan demi perkataan, dan alat untuk kajian yang lebih mendalam, menjadikan al-Quran boleh diakses oleh semua orang.

Sebagai Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang ramai berhubung secara mendalam dengan al-Quran. Disokong oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi bukan untung 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai sumber percuma dan berharga untuk semua, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Al-Quran
Qari
Tentang Kami
Pemaju (Developers)
Kemas kini produk
Maklum balas
Bantuan
Projek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projek tanpa untung yang dimiliki, diurus atau ditaja oleh Quran.Foundation
Pautan yang di gemari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Peta lamanPrivasiTerma dan Syarat
© 2026 Quran.com. Hak cipta terpelihara