Log masuk
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
Log masuk
Log masuk
19:29
فاشارت اليه قالوا كيف نكلم من كان في المهد صبيا ٢٩
فَأَشَارَتْ إِلَيْهِ ۖ قَالُوا۟ كَيْفَ نُكَلِّمُ مَن كَانَ فِى ٱلْمَهْدِ صَبِيًّۭا ٢٩
فَأَشَارَتۡ
إِلَيۡهِۖ
قَالُواْ
كَيۡفَ
نُكَلِّمُ
مَن
كَانَ
فِي
ٱلۡمَهۡدِ
صَبِيّٗا
٢٩
Maka Maryam segera menunjuk kepada anaknya. Mereka berkata (dengan hairannya): "Bagaimana kami boleh berkata-kata dengan seorang yang masih kanak-kanak dalam buaian?"
Tafsir
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 19:27 hingga 19:29
تقدس مریم اور عوام ٭٭

حضرت مریم علیہا السلام نے اللہ کے اس حکم کو بھی تسلیم کر لیا اور اپنے بچے کو گود میں لیے ہوئے لوگوں کے پاس آئیں۔ دیکھتے ہی ہر ایک انگشت بدنداں رہ گیا اور ہر منہ سے نکل گیا کہ ”مریم تو نے تو بڑا ہی برا کام کیا۔‏“

نوف بکالی کہتے ہیں کہ لوگ مریم کی جستجو میں نکلے تھے لیکن اللہ کی شان کہیں انہیں کھوج ہی نہ ملا۔ راستے میں ایک چرواہا ملا اس سے پوچھا کہ ایسی ایسی عورت کو تو نے کہیں اس جنگل میں دیکھا ہے؟ اس نے کہا ”نہیں! لیکن میں نے رات کو ایک عجیب بات یہ دیکھی ہے کہ میری یہ تمام گائیں اس وادی کی طرف سجدے میں گرگئیں۔ میں نے تو اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا۔ اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اس طرف ایک نور نظر آ رہا تھا۔‏“

وہ اس کی نشان دہی پر جا رہے تھے جو سامنے سے عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ بچے کو لیے ہوئے آتی دکھائی دے گئیں، انہیں دیکھ کر آپ وہیں اپنے بچے کو گود میں لیے ہوئے بیٹھ گئیں۔ ان سب نے آپ کو گھیر لیا اور باتیں بنانے لگے۔ ان کا یہ کہنا کہ ”اے ہارون کی بہن!“، اس سے مراد یہ ہے کہ آپ ہارون کی نسل سے تھیں۔ یا آپ کے گھرانے میں ہارون نامی ایک صالح شخص تھا اور اسی کی سی عبادت وریاضت مریم صدیقہ کی تھی۔ اس لیے انہیں ہاورن کی بہن کہا گیا۔ کوئی کہتا ہے، ہارون نامی ایک بدکار شخص تھا، اس لیے لوگوں نے طعن کی راہ سے انہیں اس کی بہن کہا۔

صفحہ نمبر5060

ان سب اقوال سے بڑھ کر غریب قول ایک یہ بھی ہے کہ آپ ہارون وموسیٰ کی وہی سگی بہن ہیں جنہیں موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے جب موسیٰ علیہ السلام کو پیٹی میں ڈال کر دریا میں چھوڑا تھا تو ان سے کہا تھا کہ ”تم اس طرح اس کے پیچھے پیچھے کنارے کنارے جاؤ کہ کسی کو خیال بھی نہ گزرے۔‏“ یہ قول تو بالکل غلط معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ قرآن سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے، آپ علیہ السلام کے بعد صرف خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی ہوئے ہیں۔

چنانچہ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے سب سے زیادہ قریب میں ہوں اس لیے کہ مجھ میں اور ان کے درمیان میں اور کوئی نبی نہیں گزرا ۔ [صحیح بخاری:2442] ‏

پس اگر محمد بن کعب قرظی کا یہ قول کہ آپ ہارون علیہ السلام کی سگی بہن تھیں، ٹھیک ہو تو یہ ماننا پڑے گا کہ آپ سلیمان علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام سے بھی پہلے تھے کیونکہ قرآن کریم میں موجود ہے کہ داؤد علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہوئے ہیں۔ ملاحظہ ہوآیت «أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ» الخ [2-البقرہ:251-246] ‏، ان آیتوں میں داؤد علیہ السلام کا واقعہ اور آپ علیہ السلام کا جالوت کو قتل کرنا بیان ہوا ہے «وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ» [2-البقرہ:251] ‏ اور لفظ موجود ہیں کہ ” یہ موسیٰ کے بعد کا واقعہ ہے “۔

انہیں جو غلطی لگی ہے، اس کی وجہ تورات کی یہ عبارت ہے جس میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام مع بنی اسرائیل کے دریا سے پار ہوگئے اور فرعون مع اپنی قوم کے ڈوب مرا، اس وقت مریم بنت عمران نے جو موسیٰ اور ہارون علیہم السلام کی بہن تھیں، دف پر اللہ کے شکر کے ترانے بلند کئے، آپ کے ساتھ اور عورتیں بھی تھیں۔ اس عبارت سے قرظی رحمہ اللہ نے یہ سمجھ لیا کہ یہی عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں حالانکہ یہ محض غلط ہے۔ ممکن ہے موسیٰ علیہ السلام کی بہن کا نام بھی مریم ہو لیکن یہ کہ یہی مریم عیسیٰ علیہ السلام کی ماں تھیں، اس کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ یہ محض ناممکن ہے۔ ہو سکتا ہے کہ نام دونوں کا ایک ہو، ایک نام پر دوسرے نام رکھے جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں تو عادت تھی کہ وہ اپنے نبیوں ولیوں کے نام پر اپنے نام رکھتے تھے۔

صفحہ نمبر5061

مسند احمد میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران بھیجا۔ وہاں مجھ سے بعض نصرانیوں نے پوچھا کہ تم یا اخت ہارون پڑھتے ہو حالانکہ موسیٰ علیہ السلام تو عیسیٰ علیہ السلام سے بہت پہلے گزرے ہیں، مجھ سے کوئی جواب بن نہ پڑا۔ جب میں مدینے واپس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے انہیں اسی وقت کیوں نہ جواب دے دیا کہ وہ لوگ اپنے اگلے نبیوں اور نیک لوگوں کے نام پر اپنے اور اپنی اولادوں کے نام برابر رکھا کرتے تھے ۔ [صحیح مسلم:2135] ‏ صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ اسے حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں۔

صفحہ نمبر5062

ایک مرتبہ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ یہ ہارون، موسیٰ علیہ السلام کے بھائی ہارون علیہ السلام نہیں، اس پر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انکار کیا، تو آپ نے کہا کہ اگر آپ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہو تب تو ہمیں منظور ہے ورنہ تاریخی طور پر تو ان کے درمیان چھ سو سال کا فاصلہ ہے۔ یہ سن کر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا خاموش ہوگئیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23689:] ‏

اس تاریخ میں ہمیں قدرے تامل ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، مریم علیہا السلام کا گھرانہ اوپر سے ہی نیک صالح اور دیندار تھا اور یہ دینداری برابر گویا وراثتاً چلی آ رہی تھی۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں اور بعض گھرانے اس کے خلاف بھی ہوتے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک سب بد ہی بد۔ یہ ہارون بڑے بزرگ آدمی تھے، اس وجہ سے بنی اسرائیل میں ہارون نام رکھنے کا عام طور پر عام شوق ہو گیا تھا۔ یہاں تک مذکور ہے کہ جس دن ہارون کا جنازہ نکلا ہے تو آپ کے جنازے میں اسی ہارون نام کے چالیس ہزار آدمی تھے۔ الغرض وہ لوگ ملامت کرنے لگے کہ تم سے یہ برائی کیسے سرزد ہو گئی تم تو نیک کوکھ کی بچی ہو، ماں باپ دونوں صالح، سارا گھرانہ پاک، پھر تم نے یہ کیا حرکت کی؟ قوم کی یہ کڑوی کسیلی باتیں سن کر حسب فرمان آپ رضی اللہ عنہا نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کر دیا کہ اس سے پوچھ لو۔ ان لوگوں کو تاؤ پر تاؤ آیا کہ دیکھو کیا ڈھٹائی کا جواب دیتی ہے گویا ہمیں پاگل بنا رہی ہے۔ بھلا گود کے بچے سے ہم کیا پوچھیں گے اور وہ ہمیں کیا بتائے گا؟

صفحہ نمبر5063
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengar, Cari, dan Renungkan Al-Quran

Quran.com ialah platform dipercayai yang digunakan oleh berjuta-juta orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengar dan merenung Al-Quran dalam pelbagai bahasa. Ia menyediakan terjemahan, tafsir, bacaan, terjemahan perkataan demi perkataan, dan alat untuk kajian yang lebih mendalam, menjadikan al-Quran boleh diakses oleh semua orang.

Sebagai Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang ramai berhubung secara mendalam dengan al-Quran. Disokong oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi bukan untung 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai sumber percuma dan berharga untuk semua, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Al-Quran
Qari
Tentang Kami
Pemaju (Developers)
Kemas kini produk
Maklum balas
Bantuan
Projek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projek tanpa untung yang dimiliki, diurus atau ditaja oleh Quran.Foundation
Pautan yang di gemari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Peta lamanPrivasiTerma dan Syarat
© 2026 Quran.com. Hak cipta terpelihara