Log masuk
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
Log masuk
Log masuk
28:21
فخرج منها خايفا يترقب قال رب نجني من القوم الظالمين ٢١
فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًۭا يَتَرَقَّبُ ۖ قَالَ رَبِّ نَجِّنِى مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ ٢١
فَخَرَجَ
مِنۡهَا
خَآئِفٗا
يَتَرَقَّبُۖ
قَالَ
رَبِّ
نَجِّنِي
مِنَ
ٱلۡقَوۡمِ
ٱلظَّٰلِمِينَ
٢١
Musa pun keluarlah dari negeri itu dalam keadaan cemas sambil memerhatikan (berita mengenai dirinya) serta berdoa dengan berkata: "Wahai Tuhanku, selamatkanlah daku dari kaum yang zalim ".
Tafsir
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 28:21 hingga 28:24
موسی علیہ السلام کا فرار ٭٭

فرعون اور فرعونیوں کے ارادے جب اس شخص کی زبانی آپ علیہ السلام کو معلوم ہو گئے تو آپ علیہ السلام وہاں سے تن تنہا چپ چاپ نکل کھڑے ہوئے۔ چونکہ اس سے پہلے کی زندگی کے ایام آپ علیہ السلام کے شہزادوں کی طرح گزرے تھے سفر بہت کڑا معلوم ہوا لیکن خوف وہراس کے ساتھ ادھر ادھر دیکھتے سیدھے چلے جا رہے تھے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے جا رہے تھے کہ اے اللہ! ان ظالموں سے یعنی فرعون اور فرعونیوں سے نجات دے۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی رہبری کے واسطے ایک فرشتہ بھیجا تھا جو گھوڑے پر آپ علیہ السلام کے پاس آیا اور آپ علیہ السلام کو راستہ دکھا گیا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

تھوڑی دیر میں آپ علیہ السلام جنگلوں اور بیابانوں سے نکل کر مدین کے راستے پر پہنچ گئے تو خوش ہوئے اور فرمانے لگے مجھے ذات باری سے امید ہے کہ وہ راہ راست پر ہی لے جائے گا۔ اللہ نے آپ علیہ السلام کی امید بھی پوری کی۔ اور آخرت کی سیدھی راہ نہ صرف بتائی بلکہ اوروں کو بھی سیدھی راہ بتانے والا بنایا۔ مدین کے پاس کے کنویں پر آئے تو دیکھا کہ چرواہے پانی کھینچ کھینچ کر اپنے اپنے جانوروں کو پلا رہے ہیں۔ وہیں آپ علیہ السلام نے یہ بھی ملاحظہ فرمایا کہ دو عورتیں اپنی بکریوں کو ان جانوروں کے ساتھ پانی پینے سے روک رہی ہیں تو آپ علیہ السلام کو ان بکریوں پر اور ان عورتوں کی اس حالت پر کہ بیچاریاں پانی نکال کر پلا نہیں سکتیں اور ان چرواہوں میں سے کوئی اس کا روادار نہیں کہ اپنے کھینچے ہوئے پانی میں سے ان کی بکریوں کو بھی پلادے تو آپ علیہ السلام کو رحم آیا ان سے دریافت فرمایا کہ تم اپنے جانوروں کو اس پانی سے کیوں روک رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پانی نکال نہیں سکتیں جب یہ اپنے جانوروں کو پانی پلاکرچلے جائیں تو بچا کھچا پانی ہم اپنی بکریوں کو پلادیں گی۔ ہمارے والد صاحب ہیں لیکن وہ بہت ہی بوڑھے ہیں۔

صفحہ نمبر6553
بکریوں کو پانی پلایا ٭٭

آپ علیہ السلام نے خود ہی ان جانوروں کو پانی کھینچ کر پلا دیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ ”اس کنویں کے منہ کو ان چرواہوں نے ایک بڑے پتھر سے بند کر دیا تھا۔ جس چٹان کو دو آدمی مل کر سرکا سکتے تھے آپ علیہ السلام نے تن تنہا اس پتھر کو ہٹا دیا اور ایک ڈول نکالا تھا جس میں اللہ نے برکت دی اور ان دونوں لڑکیوں کی بکریاں شکم سیر ہو گئیں۔‏“

اب آپ علیہ السلام تھکے ہارے بھوکے پیاسے ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے۔ مصر سے مدین تک پیدل بھاگے دوڑے آئے تھے۔ پیروں میں چھالے پڑ گئے تھے کھانے کو کچھ پاس نہیں تھا درختوں کے پتے اور گھاس پھونس کھاتے رہے تھے۔ پیٹ پیٹھ سے لگ رہا تھا اور گھاس کا سبز رنگ باہر سے نظر آ رہا تھا۔ آدھی کھجور سے بھی اس وقت آپ ترسے ہوئے تھے حالانکہ اس وقت کی ساری مخلوق سے زیادہ برگزیدہ اللہ کے نزدیک آپ تھے صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔

صفحہ نمبر6554

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”دو رات کا سفر کر کے میں مدین گیا اور وہاں کے لوگوں سے اس درخت کا پتہ پوچھا جس کے نیچے اللہ کے کلیم علیہ السلام نے سہارا لیا تھا۔ لوگوں ایک درخت کی طرف اشارہ کیا میں نے دیکھا کہ وہ ایک سرسبز درخت ہے۔ میرا جانور بھوکا تھا اس نے اس میں منہ ڈالا پتے منہ میں لے کر بڑی دیر تک بدقت چباتا رہا لیکن آخر اس نے نکال ڈالے۔ میں نے کلیم اللہ علیہ السلام کے لیے دعا کی اور وہاں سے واپس لوٹ آیا۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:56/10:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ آپ اس درخت کو دیکھنے کے لیے گئے تھے جس سے اللہ نے آپ علیہ السلام سے باتیں کی تھیں جیسے کہ آگے آئے گا۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ببول کا درخت تھا۔ الغرض اس درخت تلے بیٹھ کر آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ”اے رب میں تیرے احسانوں کا محتاج ہوں۔‏“ عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس عورت نے بھی آپ علیہ السلام کی دعا سنی۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:57/10:] ‏

صفحہ نمبر6555
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengar, Cari, dan Renungkan Al-Quran

Quran.com ialah platform dipercayai yang digunakan oleh berjuta-juta orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengar dan merenung Al-Quran dalam pelbagai bahasa. Ia menyediakan terjemahan, tafsir, bacaan, terjemahan perkataan demi perkataan, dan alat untuk kajian yang lebih mendalam, menjadikan al-Quran boleh diakses oleh semua orang.

Sebagai Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang ramai berhubung secara mendalam dengan al-Quran. Disokong oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi bukan untung 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai sumber percuma dan berharga untuk semua, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Al-Quran
Qari
Tentang Kami
Pemaju (Developers)
Kemas kini produk
Maklum balas
Bantuan
Projek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projek tanpa untung yang dimiliki, diurus atau ditaja oleh Quran.Foundation
Pautan yang di gemari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Peta lamanPrivasiTerma dan Syarat
© 2026 Quran.com. Hak cipta terpelihara