Log masuk
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
Log masuk
Log masuk
2:154
ولا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله اموات بل احياء ولاكن لا تشعرون ١٥٤
وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَن يُقْتَلُ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمْوَٰتٌۢ ۚ بَلْ أَحْيَآءٌۭ وَلَـٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ ١٥٤
وَلَا
تَقُولُواْ
لِمَن
يُقۡتَلُ
فِي
سَبِيلِ
ٱللَّهِ
أَمۡوَٰتُۢۚ
بَلۡ
أَحۡيَآءٞ
وَلَٰكِن
لَّا
تَشۡعُرُونَ
١٥٤
Dan janganlah kamu mengatakan (bahawa) sesiapa yang terbunuh dalam perjuangan membela Ugama Allah itu: orang-orang mati; bahkan mereka itu orang-orang yang hidup (dengan keadaan hidup yang istimewa), tetapi kamu tidak dapat menyedarinya.
Tafsir
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 2:153 hingga 2:154
صلوۃ و صبر و سیلہ اور شہداء کا ذکر ٭٭

شکر کے بعد صبر کا بیان ہو رہا ہے اور ساتھ ہی نماز کا ذکر کر کے ان بڑے بڑے نیک کاموں کو ذریعہ نجات بنانے کا حکم ہو رہا ہے، ظاہر بات ہے کہ انسان یا تو اچھی حالت میں ہو گا تو یہ موقعہ شکر کا ہے یا اگر بری حالت میں ہو گا تو یہ موقعہ صبر کا ہے، حدیث میں ہے، مومن کی کیا ہی اچھی حالت ہے کہ ہر کام میں اس کے لیے سراسر بھلائی ہی بھلائی ہے اسے راحت ملتی ہے۔ شکر کرتا ہے تو اجر پاتا ہے، رنج پہنچتا ہے صبر کرتا ہے تو اجر پاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2999] ‏ آیت میں اس کا بھی بیان ہو گیا کہ مصیبتوں پر تحمل کرے اور انہیں ٹالنے کا ذریعہ صبر و صلوۃ ہے، جیسے اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ آیت «وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ» [ البقرة: 45 ] ‏ صبر و صلوٰۃ کے ساتھ استعانت چاہو یہ ہے تو اہم کام لیکن رب کا ڈر رکھنے والوں پر بہت آسان ہے، حدیث میں ہے جب کوئی کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غم میں ڈال دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کر دیتے۔ [سنن ابوداود:1319، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر574

صبر کی دو قسمیں ہیں، حرام اور گناہ کے کاموں کے ترک کرنے پر، اطاعت اور نیکی کے کاموں کے کرنے پر یہ صبر پہلے سے بڑا ہے، تیسری قسم صبر کی مصیبت، درد اور دکھ پر یہ بھی واجب ہے، جیسے عیبوں سے استغفار کرنا واجب ہے، حضرت عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی فرمانبرداری میں استقلال سے لگے رہنا چاہے انسان پر شاق گزرے طبیعت کے خلاف ہو جی نہ چاہے یہ بھی ایک صبر ہے۔ دوسرا صبر اللہ تعالیٰ کی منع کئے ہوئے کے کاموں سے رک جانا ہے چاہے طبعی میلان اس طرف ہو خواہش نفس اکسا رہی ہو، [تفسیر ابن ابی حاتم:144/1] ‏ امام زین العابدین فرماتے ہیں قیامت کے دن ایک منادی ندا کرے گا کہ صبر کرنے والے کہاں ہیں؟ اٹھیں اور بغیر حساب کتاب کے جنت میں چلے جائیں کچھ لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور جنت کی طرف بڑھیں گے فرشتے انہیں دیکھ کر پوچھیں گے کہ کہاں جا رہے ہو؟ جواب دیں گے ہم صابر لوگ ہیں اللہ کی فرمانبرداری کرتے رہے اور اس کی نافرمانی سے بچتے رہے، مرتے دم تک اس پر اور اس پر صبر کیا اور جمے رہے، فرشتے کہیں گے پھر تو ٹھیک ہے بیشک تمہارا یہی بدلہ ہے اور اسی لائق تم ہو جاؤ جنت میں مزے کرو اچھے کام والوں کا اچھا ہی انجام ہے۔

صفحہ نمبر575

یہی قرآن فرماتا ہے آیت «إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ» [ 39-الزمر: 10 ] ‏ صابروں کو ان کا پورا پورا بدلہ بے حساب دیا جائے گا۔ حضرت سعید بن جیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں صبر کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اقرار کرے اور مصیبتوں کا بدلہ اللہ کے ہاں ملنے کا یقین رکھے ان پر ثواب طلب کرے ہر گھبراہٹ پریشانی اور کٹھن موقعہ پر استقلال اور نیکی کی امید پر وہ خوش نظر آئے۔

صفحہ نمبر576

پھر فرمایا کہ شہیدوں کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ ایسی زندگی میں ہیں جسے تم نہیں سمجھ سکتے انہیں حیات برزخی حاصل ہے اور وہاں وہ خورد و نوش پا رہے ہیں، صحیح مسلم شریف میں ہے کہ شہیدوں کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہیں اور جنت میں جس جگہ چاہیں چرتی چگتی اڑتی پھرتی ہیں پھر ان قندیلوں میں آ کر بیٹھ جاتی ہیں جو عرش کے نیچے لٹک رہی ہیں ان کے رب نے ایک مرتبہ انہیں دیکھا اور ان سے دریافت کیا کہ اب تم کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا اللہ ہمیں تو تو نے وہ وہ دے رکھا ہے جو کسی کو نہیں دیا پھر ہمیں کس چیز کی ضرورت ہو گی؟ ان سے پھر یہی سوال ہوا جب انہوں نے دیکھا کہ اب ہمیں کوئی جواب دینا ہی ہو گا تو کہا اللہ ہم چاہتے ہیں کہ تو ہمیں دوبارہ دنیا میں بھیج ہم تیری راہ میں پھر جنگ کریں پھر شہید ہو کر تیرے پاس آئیں اور شہادت کا دگنا درجہ پائیں، رب جل جلالہ نے فرمایا یہ نہیں ہو سکتا یہ تو میں لکھ چکا ہوں کہ کوئی بھی مرنے کے بعد دنیا کی طرف پلٹ کر نہیں جائے گا۔ [صحیح مسلم:1887] ‏

صفحہ نمبر577

مسند احمد کی ایک اور حدیث میں ہے کہ مومن کی روح ایک پرندے میں ہے جو جنتی درختوں پر رہتی ہے اور قیامت کے دن وہ اپنے جسم کی طرف لوٹ آئے گی، [مسند احمد:455/2:صحیح] ‏ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مومن کی روح وہاں زندہ ہے لیکن شہیدوں کی روح کو ایک طرح کی امتیازی شرافت کرامت عزت اور عظمت حاصل ہے۔

صفحہ نمبر578
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengar, Cari, dan Renungkan Al-Quran

Quran.com ialah platform dipercayai yang digunakan oleh berjuta-juta orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengar dan merenung Al-Quran dalam pelbagai bahasa. Ia menyediakan terjemahan, tafsir, bacaan, terjemahan perkataan demi perkataan, dan alat untuk kajian yang lebih mendalam, menjadikan al-Quran boleh diakses oleh semua orang.

Sebagai Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang ramai berhubung secara mendalam dengan al-Quran. Disokong oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi bukan untung 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai sumber percuma dan berharga untuk semua, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Al-Quran
Qari
Tentang Kami
Pemaju (Developers)
Kemas kini produk
Maklum balas
Bantuan
Projek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projek tanpa untung yang dimiliki, diurus atau ditaja oleh Quran.Foundation
Pautan yang di gemari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Peta lamanPrivasiTerma dan Syarat
© 2026 Quran.com. Hak cipta terpelihara