Log masuk
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
Log masuk
Log masuk
2:261
مثل الذين ينفقون اموالهم في سبيل الله كمثل حبة انبتت سبع سنابل في كل سنبلة ماية حبة والله يضاعف لمن يشاء والله واسع عليم ٢٦١
مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِى كُلِّ سُنۢبُلَةٍۢ مِّا۟ئَةُ حَبَّةٍۢ ۗ وَٱللَّهُ يُضَـٰعِفُ لِمَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ ٢٦١
مَّثَلُ
ٱلَّذِينَ
يُنفِقُونَ
أَمۡوَٰلَهُمۡ
فِي
سَبِيلِ
ٱللَّهِ
كَمَثَلِ
حَبَّةٍ
أَنۢبَتَتۡ
سَبۡعَ
سَنَابِلَ
فِي
كُلِّ
سُنۢبُلَةٖ
مِّاْئَةُ
حَبَّةٖۗ
وَٱللَّهُ
يُضَٰعِفُ
لِمَن
يَشَآءُۚ
وَٱللَّهُ
وَٰسِعٌ
عَلِيمٌ
٢٦١
Bandingan (derma) orang-orang yang membelanjakan hartanya pada jalan Allah, ialah sama seperti sebiji benih yang tumbuh menerbitkan tujuh tangkai; tiap-tiap tangkai itu pula mengandungi seratus biji. Dan (ingatlah), Allah akan melipatgandakan pahala bagi sesiapa yang dikehendakiNya, dan Allah Maha Luas (rahmat) kurniaNya, lagi Meliputi ilmu pengetahuanNya.
Tafsir
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat

اب جو دو رکوع آ رہے ہیں ‘ ان کا موضوع انفاق فی سبیل اللہ ہے ‘ اور اس موضوع پر یہ قرآن مجید کا ذروۃ السنام climax ہے۔ ان کے مطالعہ سے پہلے یہ بات نوٹ کر لیجیے کہ اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لیے اپنا مال خرچ کرنے کے لیے دین میں کئی اصطلاحات ہیں۔ سب سے پہلی اطعام الطّعام کھانا کھلانا ہے : وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا الدھر دوسری اصطلاح ایتائے مال ہے : وَاٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنَ۔۔ الخ البقرۃ : 177 پھر اس سے آگے صدقہ ‘ زکوٰۃ ‘ انفاق اور قرض حسنہ جیسی اصطلاحات آتی ہیں۔ یہ پانچ چھ اصطلاحات terms ہیں ‘ لیکن ان کے اندر ایک تقسیم ذہن میں رکھیے۔ اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لیے مال خرچ کرنے کی دو بڑی بڑی مدیں ہیں۔ ایک مد ابنائے نوع پر خرچ کرنے کی ہے۔ یعنی قرابت دار ‘ غرباء ‘ یتامیٰ ‘ مساکین محتاج اور بیواؤں پر خرچ کرنا۔ یہ آپ کے معاشرے کے اجزاء ہیں ‘ آپ کے بھائی بند ہیں ‘ آپ کے عزیز و اقرباء ہیں۔ ان کے لیے خرچ کرنا بھی اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اور اس کا اجر ملے گا۔ یہ بھی گویا آپ نے اللہ تعالیٰ ہی کے لیے خرچ کیا۔ جبکہ دوسری مد ہے عین اللہ کے دین کے لیے خرچ کرنا۔ قرآن حکیم میں انفاق اور قرض حسنہ کی اصطلاحیں اس دوسری مد کے لیے آتی ہیں اور پہلی مد کے لیے اطعام الطعام ‘ ایتائے مال ‘ صدقہ و خیرات اور زکوٰۃ کی اصطلاحات ہیں۔ چناچہ انفاق مال یا انفاق فی سبیل اللہ سے مراد ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ‘ اللہ کے دین کی دعوت کو عام کرنے اور اللہ کی کتاب کے پیغام کو عام کرنے کے لیے خرچ کرنا۔ اللہ کے دین کی دعوت کو اس طرح ابھارنا کہ باطل کے ساتھ زور آزمائی کرنے والی ایک طاقت پیدا ہوجائے ‘ ایک جماعت وجود میں آئے۔ اس جماعت کے لیے ساز و سامان فراہم کرنا تاکہ غلبۂ دین کے ہر مرحلے کے جو تقاضے اور ضرورتیں ہیں وہ پوری ہو سکیں ‘ اس کام میں جو مال صرف ہوگا وہ ہے انفاق فی سبیل اللہ یا اللہ کے ذمہّ قرض حسنہ۔ تو یہاں اصل میں اس انفاق کی بات ہو رہی ہے۔ عام طور پر فی سبیل اللہ کا مفہوم بہت عام سمجھ لیا جاتا ہے اور پانی کی کوئی سبیل بنا کر اسے بھی فی سبیل اللہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ ٹھیک ہے ‘ وہ بھی سبیل تو ہے ‘ نیکی کا وہ بھی راستہ ہے ‘ سبیل اللہ ہے ‘ لیکن انفاق فی سبیل اللہ کا مفہوم بالکل اور ہے۔ فقراء و مساکین اور اہل حاجت کے لیے صدقات و خیرات ہیں۔ زکوٰۃ بھی اصلاً غریبوں کا حق ہے ‘ لیکن اس میں بھی ایک مد فی سبیل اللہ کی رکھی گئی ہے۔ اگر آپ کے عزیز و اقارب اور قرب و جوار میں اہل حاجت ہیں ‘ غرباء ہیں تو صدقہ و زکوٰۃ میں ان کا حق فائق ہے ‘ پہلے ان کو دیجیے۔ اس کے بعد اس میں سے جو بھی ہے وہ دین کے کام کے لیے لگایئے۔ جب دین یتیمی کی حالت کو آگیا ہو تو سب سے بڑایتیم دین ہے۔ اور آج واقعتا دین کی یہی حالت ہے۔ اب ہم ان آیات کا مطالعہ کرتے ہیں : آیت 261 مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِّاءَۃُ حَبَّۃٍ ط اس طرح ایک دانے سے سات سو دانے وجود میں آگئے۔ یہ اس اضافے کی مثال ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کیے ہوئے مال کے اجر وثواب میں ہوگا۔ جو کوئی بھی اللہ کے دین کے لیے اپنا مال خرچ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے مال میں اضافہ کرے گا ‘ اس کو جزا دے گا اور اپنے یہاں اس اجر وثواب کو بڑھاتا رہے گا۔وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ ط۔ یہ سات سو گنا اضافہ تو تمہیں تمثیلاً بتایا ہے ‘ اللہ اس سے بھی زیادہ اضافہ کرے گا جس کے لیے چاہے گا۔ صرف سات سو گنا نہیں ‘ اور بھی جتنا چاہے گا بڑھاتا چلا جائے گا۔وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ۔ اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں اور اس کا علم ہر شے کو محیط ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengar, Cari, dan Renungkan Al-Quran

Quran.com ialah platform dipercayai yang digunakan oleh berjuta-juta orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengar dan merenung Al-Quran dalam pelbagai bahasa. Ia menyediakan terjemahan, tafsir, bacaan, terjemahan perkataan demi perkataan, dan alat untuk kajian yang lebih mendalam, menjadikan al-Quran boleh diakses oleh semua orang.

Sebagai Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang ramai berhubung secara mendalam dengan al-Quran. Disokong oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi bukan untung 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai sumber percuma dan berharga untuk semua, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Al-Quran
Qari
Tentang Kami
Pemaju (Developers)
Kemas kini produk
Maklum balas
Bantuan
Projek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projek tanpa untung yang dimiliki, diurus atau ditaja oleh Quran.Foundation
Pautan yang di gemari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Peta lamanPrivasiTerma dan Syarat
© 2026 Quran.com. Hak cipta terpelihara