Log masuk
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
🚀 Sertai Cabaran Ramadan kami!
Ketahui lebih lanjut
Log masuk
Log masuk
43:57
۞ ولما ضرب ابن مريم مثلا اذا قومك منه يصدون ٥٧
۞ وَلَمَّا ضُرِبَ ٱبْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ ٥٧
۞ وَلَمَّا
ضُرِبَ
ٱبۡنُ
مَرۡيَمَ
مَثَلًا
إِذَا
قَوۡمُكَ
مِنۡهُ
يَصِدُّونَ
٥٧
Dan ketika (nabi Isa) anak Maryam dikemukakan sebagai satu misal perbandingan, (untuk membantahmu wahai Muhammad), tiba-tiba kaummu bersorak-sorak kesukaan terhadapnya (kerana menyangka bahawa mereka telah menang).
Tafsir
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 43:57 hingga 43:58
قیامت کے قریب نزول عیسیٰ علیہ السلام ٭٭

«يَصِدُّونَ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ،مجاہد،عکرمہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم نے کئے ہیں کہ ”وہ ہنسنے لگے“ یعنی اس سے ”انہیں تعجب معلوم ہوا۔‏“

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”گھبرا کر بول پڑے۔‏“ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول ہے ”منہ پھیرنے لگے۔‏“

اس کی وجہ جو امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے اپنی سیرت میں بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولید بن مغیرہ وغیرہ قریشیوں کے پاس تشریف فرما تھے جو نضر بن حارث آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ باتیں کرنے لگا جس میں وہ لاجواب ہو گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی آیت «‏اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ» [21-الأنبياء:98] ‏، آیتوں تک پڑھ کر سنائیں یعنی ” تم اور تمہارے معبود سب جہنم میں جھونک دئیے جاؤ گے “ ۔

صفحہ نمبر8267

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے گئے تھوڑی ہی دیر میں عبداللہ بن زہیری تمیمی آیا تو ولید بن مغیرہ نے اس سے کہا نضر بن حارث تو ابن عبدالمطلب سے ہار گیا اور بالآخر ابن عبدالمطلب ہمیں اور ہمارے معبودوں کو جہنم کا ایندھن کہتے ہوئے چلے گئے۔

اس نے کہا اگر میں ہوتا تو خود انہیں لاجواب کر دیتا جاؤ ذرا ان سے پوچھو تو کہ جب ہم اور ہمارے سارے معبود دوزخی ہیں تو لازم آیا کہ سارے فرشتے اور عزیر اور مسیح علیہم السلام بھی جہنم میں جائیں گے کیونکہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر علیہ السلام کی پرستش کرتے ہیں نصرانی عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں۔ اس پر مجلس کے کفار بہت خوش ہوئے اور کہا ہاں یہ جواب بہت ٹھیک ہے۔ لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ شخص جو غیر اللہ کی عبادت کرے اور ہر وہ شخص جو اپنی عبادت اپنی خوشی سے کرائے یہ دونوں عابد و معبود جہنمی ہیں فرشتوں یا نبیوں نے نہ اپنی عبادت کا حکم دیا نہ وہ اس سے خوش۔ ان کے نام سے دراصل یہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں وہی انہیں شرک کا حکم دیتا ہے۔ اور یہ بجا لاتے ہیں ۔

صفحہ نمبر8268

اس پر آیت «‏إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَـٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ» ‏ [21-الأنبياء:101] ‏، نازل ہوئی یعنی ”عیسیٰ، عزیر، اور ان کے علاوہ جن احبار و رہبان کی پرستش یہ لوگ کرتے ہیں اور خود وہ اللہ کی اطاعت پر تھے شرک سے بیزار اور اس سے روکنے والے تھے اور ان کے بعد گمراہوں جاہلوں نے انہیں معبود بنا لیا تو وہ محض بے قصور ہیں۔‏“

اور فرشتوں کو جو مشرکین اللہ کی بیٹیاں مان کر پوجتے تھے ان کی تردید میں آیت «‏وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّ‌حْمَـٰنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَ‌مُونَ» [21-الأنبياء:26] ‏، سے کئی آیتوں تک نازل ہوئیں اور ان کے اس باطل عقیدے کی پوری تردید کر دی۔

اور عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اس نے جو جواب دیا تھا جس پر مشرکین خوش ہوئے تھے یہ آیتیں اتریں کہ ” اس قول کو سنتے ہی کہ معبودان باطل بھی اپنے عابدوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے انہوں نے جھٹ سے عیسیٰ کی ذات گرامی کو پیش کر دیا اور یہ سنتے ہی مارے خوشی کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے مشرک اچھل پڑے اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے لگے کہ ہم نے دبا لیا۔ ان سے کہو کہ عیسیٰ علیہ السلام نے کسی سے اپنی یا کسی اور کی پرستش نہیں کرائی وہ تو خود برابر ہماری غلامی میں لگے رہے اور ہم نے بھی انہیں اپنی بہترین نعمتیں عطا فرمائیں۔ ان کے ہاتھوں جو معجزات دنیا کو دکھائے وہ قیامت کی دلیل تھے “۔

سیدنا ابن عباس سے ابن جریر میں ہے کہ مشرکین نے اپنے معبودوں کا جہنمی ہونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن کر کہا کہ ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن مریم علیہ السلام کی نسبت کیا کہتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ اب کوئی جواب ان کے پاس نہ رہا تو کہنے لگے واللہ یہ تو چاہتے ہیں کہ جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ مان لیا ہے ہم بھی انہیں رب مان لیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” یہ تو صرف بکواس ہے کھسیانے ہو کر بے تکی باتیں کرنے لگے ہیں “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:86/25:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8269

مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”قرآن میں ایک آیت ہے مجھ سے کسی نے اس کی تفسیر نہیں پوچھی۔ میں نہیں جانتا کہ کیا ہر ایک اسے جانتا ہے یا نہ جان کر پھر بھی جاننے کی کوشش نہیں کرتے؟“ پھر اور باتیں بیان فرماتے رہے یہاں تک کہ مجلس ختم ہوئی اور آپ چلے گئے۔ اب ہمیں بڑا افسوس ہونے لگا کہ وہ آیت تو پھر بھی رہ گئی اور ہم میں سے کسی نے دریافت ہی نہ کیا۔ اس پر ابن عقیل انصاری کے مولیٰ ابویحییٰ نے کہا کہ اچھا کل صبح جب تشریف لائیں گے تو میں پوچھ لوں گا۔ دوسرے دن جو آئے تو میں نے ان کی کل کی بات دہرائی اور ان سے دریافت کیا کہ وہ کون سی آیت ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں سنو! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ قریش سے فرمایا کوئی ایسا نہیں جس کی عبادت اللہ کے سوا کی جاتی ہو اور اس میں خیر ہو ۔‏“

اس پر قریش نے کہا کیا عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت نہیں کرتے؟ اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا نبی اور اس کا برگذیدہ نیک بندہ نہیں مانتے؟ پھر اس کا کیا مطلب ہوا کہ اللہ کے سوا جس کی عبادت کی جاتی ہے وہ خیر سے خالی ہے؟ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ کہ جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا ذکر آیا تو لوگ ہنسنے لگے۔ ” وہ قیامت کا علم ہیں “ یعنی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا قیامت کے دن سے پہلے نکلنا ۔ [مسند احمد:318/1:حسن] ‏

صفحہ نمبر8270

ابن ابی حاتم میں بھی یہ روایت پچھلے جملے کے علاوہ ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ان کے اس قول کا کہ کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے معبود محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر ہیں یہ تو اپنے آپ کو بچوانا چاہتے ہیں۔‏“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «اَمْ ھٰذَا» ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:202/11:] ‏

اللہ فرماتا ہے ” یہ ان کا مناظرہ نہیں بلکہ مجادلہ اور مکابرہ ہے “، یعنی بے دلیل جھگڑا اور بے وجہ حجت بازی ہے خود یہ جانتے ہیں کہ نہ یہ مطلب ہے نہ ہمارا یہ اعتراض اس پر وارد ہوتا ہے۔ اس لیے اولاً تو آیت میں لفظ «مَــا» ہے جو غیر ذوی العقول کے لیے ہے دوسرے یہ کہ آیت میں خطاب کفار قریش سے ہے جو اصنام و انداد یعنی بتوں اور پتھروں کو پوجتے تھے وہ مسیح علیہ السلام کے پجاری نہ تھے جو یہ اعتراض برمحل مانا جائے پس یہ صرف جدل ہے یعنی وہ بات کہتے ہیں جس کے غیر صحیح ہونے کو ان کے اپنے دل کو بھی یقین ہے۔

ترمذی وغیرہ میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ کوئی قوم اس وقت تک ہلاک نہیں ہوتی جب تک بیدلیل حجت بازی اس میں نہ آ جائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی ۔ [ترمذي کتاب التفسیر:3253،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8271

ابن ابی حاتم میں اس حدیث کے شروع میں یہ بھی ہے کہ ہر امت کی گمراہی کی پہلی بات اپنے نبی کے بعد تقدیر کا انکار کرنا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:203/11:ضعیف] ‏

ابن جریر میں ہے کہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں آئے اس وقت وہ قرآن کی آیتوں میں بحث کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا: اس طرح اللہ کی کتاب کی آیتوں کو ایک دوسری کے ساتھ ٹکراؤ نہیں یاد رکھو جھگڑے کی اسی عادت نے اگلے لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا ۭ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ» [43-الزخرف:58] ‏ کی تلاوت فرمائی ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:203/11:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8272
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengar, Cari, dan Renungkan Al-Quran

Quran.com ialah platform dipercayai yang digunakan oleh berjuta-juta orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengar dan merenung Al-Quran dalam pelbagai bahasa. Ia menyediakan terjemahan, tafsir, bacaan, terjemahan perkataan demi perkataan, dan alat untuk kajian yang lebih mendalam, menjadikan al-Quran boleh diakses oleh semua orang.

Sebagai Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang ramai berhubung secara mendalam dengan al-Quran. Disokong oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi bukan untung 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai sumber percuma dan berharga untuk semua, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Al-Quran
Qari
Tentang Kami
Pemaju (Developers)
Kemas kini produk
Maklum balas
Bantuan
Projek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projek tanpa untung yang dimiliki, diurus atau ditaja oleh Quran.Foundation
Pautan yang di gemari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Peta lamanPrivasiTerma dan Syarat
© 2026 Quran.com. Hak cipta terpelihara